قومی زبان

کوئی جادو جگانا چاہتا ہوں

کوئی جادو جگانا چاہتا ہوں تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں اگر اک بار تم آواز دے دو تو میں بھی لوٹ آنا چاہتا ہوں تمہارے شہر میں ڈوبا ہے سورج مسافر ہوں ٹھکانا چاہتا ہوں تمہیں کو جیتنے کی آرزو ہے تمہیں سے ہار جانا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ اس دنیا سے کچھ دور نئی دنیا بسانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی

نہیں کھیل بچوں کا کھیتی کوئی کسانوں کے اوپر ستم کی گھڑی کسانوں پہ گر ظلم ڈھائے گا تو نہ ظالم رہے گی تری رہبری یہ فرقہ پرستوں کا دیکھو کرم دلوں میں نہ سب کے محبت رہی کہاں آ گئے ہم بتا رہنما دھوئیں میں ہے آٹھوں پہر زندگی خوشی سب کو حاصل ہوئی ہے کہاں یہ مہنگائی اور چھن گئی ...

مزید پڑھیے

ذہن میں ناگاہ حیرت آ گئی

ذہن میں ناگاہ حیرت آ گئی سامنے جب ان کی الفت آ گئی دی سزا منصف نے بھی مظلوم کو جیب میں جب اس کے دولت آ گئی کس کو ہم اچھا کہیں کس کو برا سامنے کھل کر حقیقت آ گئی ہر طرف بے روزگاری دیکھیے لے کے مہنگائی حکومت آ گئی دل میں نفرت ہر نظر میں ہے خلش اب دکھاوے کی محبت آ گئی منتخب جب سے ...

مزید پڑھیے

دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی

دو قدم ساتھ میں چلنے نہیں دیتا کوئی مجھ کو کچھ کام بھی کرنے نہیں دیتا کوئی فون کرتا ہوں تو سنتا نہیں کوئی لیکن ملنا چاہوں بھی تو ملنے نہیں دیتا کوئی پہلے تو ملنے پہ پابندی لگا رکھی ہے بات بھی اس سے تو کرنے نہیں دیتا کوئی غم زدہ رہتا ہوں میں گرچہ بڑی مدت سے اس کا احساس بھی ہونے ...

مزید پڑھیے

زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں

زندگی ملتی نہیں ہے زندگی کے شہر میں دکھ ہی دکھ ہیں آج کل اپنی خوشی کے شہر میں مشکلیں تو ہیں بہت دنیا کے میلے میں مگر پاتا ہوں بے حد سکوں میں بندگی کے شہر میں چلتے پھرتے اب غزل کہنے لگا ہوں دوستو آ گیا ہوں جس گھڑی سے شاعری کے شہر میں اس نظارے نے اڑائے ہوش میرے یک بیک اک سے اک ...

مزید پڑھیے

جب سے آنکھوں میں کوئی خواب حسیں رکھا ہے

جب سے آنکھوں میں کوئی خواب حسیں رکھا ہے اس کی تعبیر کا تحفہ بھی کہیں رکھا ہے جس کی فطرت ہے سدا لوگوں کو دھوکا دینا کیوں اسے آپ نے پھر اپنا امیں رکھا ہے سب کو دیتا ہوں محبت کا حسیں گلدستہ جذبہ نفرت کا کبھی دل میں نہیں رکھا ہے گرچہ حیوانیت آنے لگی اس میں پھر سے میں نے انسان کی ...

مزید پڑھیے

لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا

لمحہ لمحہ تجربہ ہونے لگا میں بھی اندر سے نیا ہونے لگا شدت غم نے حدیں سب توڑ دیں ضبط کا منظر ہوا ہونے لگا پھر نئے ارمان شاخوں کو ملے پتہ پتہ پھر ہرا ہونے لگا غور سے ٹک آنکھ نے دیکھا ہی تھا مجھ سے ہر منظر خفا ہونے لگا رات کی سرحد یقیناً آ گئی جسم سے سایا جدا ہونے لگا میں ابھی تو ...

مزید پڑھیے

ہم روح کائنات ہیں نقش اساس ہیں

ہم روح کائنات ہیں نقش اساس ہیں ہم وقت کا خمیر زمانے کی باس ہیں تنہا ہیں ہم تمام نہ قربت نہ فاصلے ہم آپ کے قریب نہ ہم اپنے پاس ہیں کب سے ٹنگے ہوئے ہیں خلاؤں کے آس پاس کب سے یہ آسماں کے ستارے اداس ہیں خود ہٹ گئے ہیں دور وہ پانی کے زور سے دریا کے وہ کنارے جو دریا شناس ہیں خود رو ہیں ...

مزید پڑھیے

اپنی لو میں کوئی ڈوبا ہی نہیں

اپنی لو میں کوئی ڈوبا ہی نہیں چاند احساس کا ابھرا ہی نہیں کوئی آہٹ نہ کوئی نقش قدم جیسے دل سے کوئی گزرا ہی نہیں چور آئینۂ ایام بھی ہے میرا ماضی مرا فردا ہی نہیں درس میں بھی ہوں زمانے کے لیے ایک عبرت گہہ دنیا ہی نہیں کتنی صدیوں پہ رکے گا جا کر ایک لمحہ کہ جو بیتا ہی نہیں کتنا ...

مزید پڑھیے

ہم پہ اک ظلم کر دیا گیا ہے

ہم پہ اک ظلم کر دیا گیا ہے دل محبت سے بھر دیا گیا ہے اس کے آنگن میں اڑ کے جانے کو اک پرندے کا پر دیا گیا ہے ہم نے اک پھول لینا چاہا تھا باغ کانٹوں سے بھر دیا گیا ہے اب تجھے سوچنا بھی مشکل ہے اتنا مصروف کر دیا گیا ہے کوئی تو یہ خبر سنا جائے جینا آسان کر دیا گیا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1212 سے 6203