آتا ہے جو منہ میں مجھے کہہ دیتی ہو
آتا ہے جو منہ میں مجھے کہہ دیتی ہو کیا تم سے کہوں سوائے اس کے سکھیو مجھ کو جو دکھایا خدا تم کو بھی دکھائے تم نے نہیں دیکھا ہے مرے یوسف کو
آتا ہے جو منہ میں مجھے کہہ دیتی ہو کیا تم سے کہوں سوائے اس کے سکھیو مجھ کو جو دکھایا خدا تم کو بھی دکھائے تم نے نہیں دیکھا ہے مرے یوسف کو
آنکھوں میں حیا اس کے جب آئی شب وصل پلکوں پہ پلک اس نے گرائی شب وصل عالم یہ سپردگی کا اس نے دیکھا ہر عضو میں آنکھ مسکرائی شب وصل
جب شام ڈھلی سنگار کر کے روئی ساجن کا انتظار کر کے روئی جب ڈوب چلے گگن میں تارے دم صبح اک اک گہنہ اتار کر کے روئی
بابل کے گھر سے جب آئی اٹھ کر ڈولی جاگی میں پیا کے سنگ اکٹھے سو لی دیکھو کایا بن گئی مری ان کی چھایا وہ اٹھ کر چلے تو میں ان کے پیچھے ہو لی
اداس اک روز کر گیا میں تو کیا کرو گے تمہارا شاعر ہوں مر گیا میں تو کیا کرو گے ہزار ہاتھوں سے میں سمیٹے ہوئے ہوں تم کو اگر کہیں خود بکھر گیا میں تو کیا کرو گے مرے قدم سے قدم ملا کر تو چل رہے ہو جو تم سے آگے گزر گیا میں تو کیا کرو گے کسے پکارو گے اور کس کو صدائیں دو گے سکوت جاں میں ...
چھوڑ آئے وہ چشم تر تنہا اب سمندر ہے اور سفر تنہا سخت مشکل ہے ہم خیالی بھی میں ادھر اور وہ ادھر تنہا ایک سورج کے انتظار میں ہے اک ستارہ دم سحر تنہا اک سفر کٹ گیا تمہارے ساتھ اور اک رہ گیا سفر تنہا بھیڑ میں راستہ نہیں ملتا شہر ایسا کہ ہر بشر تنہا آج گھر میں نہیں ہے کوئی بھی آج ...
دنیا یہ سہی عدو بہت ہے میرے لیے ایک تو بہت ہے آبادیٔ ہم زباں ہے لیکن محتاجیٔ گفتگو بہت ہے اک حاصل جستجو میں شاید لا حاصل جستجو بہت ہے آساں نہیں ساتھ عمر بھر کا اندیشۂ من و تو بہت ہے ایسا ہے کہ ان دنوں تمہاری تصویر سے گفتگو بہت ہے چھوڑے گا وہ لے کے جان اک دن اک دوست ہے سو عدو ...
نفس ارض و سما ہو جیسے میں نے اک شعر کہا ہو جیسے جیسے اک چاپ کوئی ڈوب گئی کوئی دروازہ کھلا ہو جیسے جیسے ابھرا ہو کوئی سایہ سا آخری بلب بجھا ہو جیسے جیسے رکھ دے کوئی آنکھوں پہ قدم کوئی آہٹ نہ صدا ہو جیسے اب یہاں کوئی نہیں آئے گا میں ہوں اور میرا خدا ہو جیسے میں بھی چپ ہو گیا پا ...
تارکول سا سیاہ آسمان اپنی پتھرائی آنکھوں اور موم جیسی پتلیوں سے گریۂ شب کرتا رہا واہ کیا جھرنا تھا کیا آبشار تھا کیا جل ترنگ تھا کہ آدم نے زمین پر سجدۂ شکر ادا کیا اور اپنے کفن تک کو بے داغ بارش کی طرح سفید و شفاف رکھا آج بارش کالی ہو گئی تو کیا میں اپنے کفن کے رنگ کو کالا کر ...
چلو اچھا ہوا تم نے مرا خط نذر آتش کر دیا اور مری تصویر واپس بھیج دی مجھ کو اسے بھی خاک کر دیتیں تو قصہ پاک ہو جاتا اب اس تصویر کو میں بھیج دوں گا اس رسالے میں جو ماہانہ تمہارے گھر میں آتا ہے