قومی زبان

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے جوانی جو رہتی تو پھر ہم نہ رہتے لہو تھا تمنا کا آنسو نہیں تھے بہائے نہ جاتے تو ہرگز نہ بہتے وفا بھی نہ ہوتا تو اچھا تھا وعدہ گھڑی دو گھڑی تو کبھی شاد رہتے ہجوم تمنا سے گھٹتے تھے دل میں جو میں روکتا بھی تو نالے نہ رہتے میں جاگوں گا کب تک وہ سوئیں گے ...

مزید پڑھیے

مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا

مرا دل داد خواہ ظلم اصلاً ہو نہیں سکتا مروت منہ کو سی دیتی ہے شکوا ہو نہیں سکتا چھپاؤ آپ کو جس رنگ یا جس بھیس میں چاہو مگر چشم حقیقت بیں سے پردا ہو نہیں سکتا تماشا گاہ حیرت ہے دیار دل کی ویرانی یہ سناٹا میان دشت و صحرا ہو نہیں سکتا بڑھا ایک اور غم افشائے راز عشق سے ورنہ نہ میں ...

مزید پڑھیے

ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا

ایک مقتول جفا دو ظلم کے قابل نہ تھا ورنہ دل کا مارنا آسان تھا مشکل نہ تھا شوق آزادی میں تڑپوں اس پہ راضی دل نہ تھا ورنہ بیتابی سلامت چھوٹنا مشکل نہ تھا حشر میں وہ سر جھکائے ہیں میں شکوہ کیا کروں جانے والی جان تھی میرا کوئی قاتل نہ تھا اب سلیمانی کسے کہتے ہیں بتلا دے مجھے ایک ...

مزید پڑھیے

بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا

بس اے فلک نشاط دل کا انتقام ہو چکا ہنسا تھا جس قدر کبھی زیادہ اس سے رو چکا نہ ذکر انبساط کر کہ دور عیش ہو چکا خوشی کی فکر کس لیے وہ دل کہاں جو کھو چکا یہ خندۂ طرب نما مبارک اہل دہر کو بہت زمانہ ہو گیا کہ میں ہنسی کو رو چکا وفا جو زندگی میں تھی وہی ہے بعد مرگ بھی یہ امتحان رہ گیا وہ ...

مزید پڑھیے

وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی

وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی صبح کاذب اور کیا کرتی چمک کر رہ گئی دل شب غم کاٹ لایا دم ہوا لیکن ہوا اک کلی تھی جو سحر ہوتے مہک کر رہ گئی نا شناس روئے خوش حالی ہے طبع غم نصیب جب مسرت سامنے آئی جھجک کر رہ گئی مجھ کو جلنے دے ابھی اے موت کیوں دنیا کہے آگ کیسی تھی جو سینے میں ...

مزید پڑھیے

بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا

بلا ہی عشق لیکن ہر بشر قابل نہیں ہوتا بہت پہلو ہیں ایسے بھی کہ جن میں دل نہیں ہوتا نشان بے نشانی مٹ نہیں سکتا قیامت تک یہ نقش حق جفائے دہر سے باطل نہیں ہوتا جہاں میں ناامیدی کے سوا امید کیا معنی سبھی کہتے ہیں لیکن دل مرا قائل نہیں ہوتا تڑپنا کس کا دیکھو گے جو زندہ ہوں تو سب کچھ ...

مزید پڑھیے

سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے

سوائے رحمت رب کچھ نہیں ہے بہت کچھ تھا مگر اب کچھ نہیں ہے جہاں میں ہوں مگر کیا جانئے کیوں مجھے دنیا سے مطلب کچھ نہیں ہے یہ وقت نزع ہے کیا نذر دوں میں اب آئے ہو یہاں جب کچھ نہیں ہے اندھیرے میں وہ سوجھی یہ نہ سوجھی تری شب ہے مری شب کچھ نہیں ہے فقط تقدیر کی کایا پلٹ ہے مناسب اور ...

مزید پڑھیے

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے

ایک ایک گھڑی اس کی قیامت کی گھڑی ہے جو ہجر میں تڑپائے وہی رات بڑی ہے یہ ضعف کا عالم ہے کہ تقدیر کا لکھا بستر پہ ہوں میں یا کوئی تصویر پڑی ہے بیتابیٔ دل کا ہے وہ دلچسپ تماشا جب دیکھو شب ہجر مرے در پہ کھڑی ہے دیکھا تو زمانہ گلۂ ہجر سے کم تھا سمجھا تھا کہ فرقت سے شب وصل بڑی ہے رونے ...

مزید پڑھیے

پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا

پردہ رہا کہ جلوۂ وحدت نما ہوا غش نے خبر نہ دی مجھے کب سامنا ہوا دشمن کی دوستی کا نتیجہ برا ہوا خنجر گلے ملا تو مرا سر جدا ہوا محشر میں رنگ چہرۂ ظالم ہوا ہوا سچ ہے برا ہوا کہ مرا سامنا ہوا گلشن سے اٹھ کے میرا مکاں دل میں آ گیا اک داغ بن گیا ہے نشیمن جلا ہوا کیا تیرگی لئے ہوئے آئی ...

مزید پڑھیے

ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا

ان کی آرائش سے میرے کام بن جائیں گے کیا دل کی گتھی شانہ ہائے زلف سلجھائیں گے کیا وصل کے وعدے سے خوش ہو کر نہ مر جائیں گے کیا نامہ بر ہنستا ہوا آتا ہے خود آئیں گے کیا قیدیٔ غم تربتوں میں اور ان کو یہ خیال کاٹنے میں اک شب فرقت کے مر جائیں گے کیا کام اپنا کر چکے اہل وفا شک ہے تو ہو سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1206 سے 6203