قومی زبان

ترا رستہ بدلنا دیکھتے ہیں

ترا رستہ بدلنا دیکھتے ہیں سو دریا کا اترنا دیکھتے ہیں تمہاری آنکھ میرا آئنہ ہے سو تم میں ہم زمانہ دیکھتے ہیں تری آنکھوں میں حیرت تھی نمی تھی وہ کیسا تھا فسانہ دیکھتے ہیں پڑاؤ داستاں میں آ گیا یہ کوئی کٹیا ٹھکانہ دیکھتے ہیں تمہیں رنجش ملال عشق ہے گر چلو پھر سوچنا کیا دیکھتے ...

مزید پڑھیے

شاید مٹی مجھے پھر پکارے

سن دریا اپنی مٹھی کھول رہا ہے سن کچھ پتے اور پتوں کے ساتھ کچھ ہوا اکھڑ گئی ہے جنگل کے پیڑ ارادے زمین کو بوسہ دے رہے ہیں چاہتے ہیں دریا کو مٹھی کا جال لگائیں آنکھیں منظر تہہ کرتی جا رہی ہیں سمندر مٹی کو چوکور کر نہیں پا رہے سن گلی لے پہ پھنکار رہی ہے اس میں جلے ہوئے کپڑے پھینک زینے ...

مزید پڑھیے

چراغ جب میرا کمرہ ناپتا ہے

چراغ نے پھول کو جنم دینا شروع کر دیا ہے دور بہت دور میرا جنم دن رہتا ہے آنگن میں دھوپ نہ آئے تو سمجھو تم کسی غیر آباد علاقے میں رہتے ہو مٹی میں میرے بدن کی ٹوٹ پھوٹ پڑی ہے ہمارے خوابوں میں چاپ کون چھوڑ جاتا ہے رات کے سناٹے میں ٹوٹتے ہوئے چراغ رات کی چادر پہ پھیلتی ہوئی صبح میں ...

مزید پڑھیے

دوسرا پہاڑ

یہ دوسرا پہاڑ تھا جہاں چیزوں میں میری عمر کے کچھ حصے پڑے تھے میں یہاں سے کتنی بے ترتیب گئی تھی اور میں اپنا دن گرد کر کے آ رہی تھی ساری چیزوں نے مجھے گلے لگایا میں نے چھوٹے جوتے چھابڑی والے کو فروخت کر دئیے اور سکے ہینگر میں پڑے چھوٹے کپڑوں میں ڈال دئیے میں آئینے کے سامنے کھڑی ...

مزید پڑھیے

عورت اور نمک

عزت کی بہت سی قسمیں ہیں گھونگھٹ تھپڑ گندم عزت کے تابوت میں قید کی میخیں ٹھونکی گئی ہیں گھر سے لے کر فٹ پاتھ تک ہمارا نہیں عزت ہمارے گزارے کی بات ہے عزت کے نیزے سے ہمیں داغا جاتا ہے عزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہوتی ہے کوئی رات ہمارا نمک چکھ لے تو ایک زندگی ہمیں بے ذائقہ روٹی کہا ...

مزید پڑھیے

خالی آنکھوں کا مکان

خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو آگ کا ذائقہ چراغ ہے اور نیند کا ذائقہ انسان مجھے پتھروں جتنا کس دو کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو میں خدا کی زبان منہ میں رکھے کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی ...

مزید پڑھیے

پرندہ کمرے میں رہ گیا

رات نے جب گھڑیوں سے وقت اٹھا لیا گھنٹی کی تیز آواز نے سارے پردوں کا رنگ اڑا دیا کمرے میں چار آدمیوں نے اپنی اپنی سانسیں لیں سانسیں مختلف رنگوں میں تھیں ایک آدمی پرانے کلینڈر پر نشان لگا رہا تھا دوسرا نیا کلینڈر ہاتھ میں مروڑ رہا تھا تیسرے کا چہرہ چوتھے آدمی کے چہرے پر لگ گیا ...

مزید پڑھیے

آتش دان

آتش دانوں سے اپنے دہکتے ہوئے سینے نکال لو ورنہ آخر دن آگ اور لکڑی کو اشرف المخلوق بنا دیا جائے گا

مزید پڑھیے

نثری نظم

شاعری جھنکار نہیں جو تال پر ناچتی رہے گیا وقت جب خواجہ سرا ٹوٹی کمان ہوتے تھے اور موت پر تالیاں پیٹا کرتے تھے پازیب پہن کر میدان میں نہیں بھاگ سکتے یہ کہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہے غار میں چنی چنائی جگہ ہے دار ہے با مشقت قیدی ہے لیکن نظم میں نہ غار ہے نہ دار ہے نہ مشقت ہے پھر بھی ایک ...

مزید پڑھیے

موت کی تلاشی مت لو

بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی ابھی ابھی بہت خوش لباس تھا وہ میری خطا کر بیٹھا کوئی جائے تو چلی جاؤں کوئی آئے تو رخصت ہو جاؤں میرے ہاتھوں میں کوئی دل مر گیا ہے موت کی تلاشی مت لو انسان سے پہلے موت زندہ تھی ٹوٹنے والے زمین پر رہ گئے میں پیڑ سے گرا سایہ ہوں آواز سے پہلے گھٹ نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1176 سے 6203