قومی زبان

کیسے ٹہلتا ہے چاند

کیسے ٹہلتا ہے چاند آسمان پہ جیسے ضبط کی پہلی منزل آواز کے علاوہ بھی انسان ہے آنکھوں کو چھو لینے کی قیمت پہ اداس مت ہو قبر کی شرم ابھی باقی ہے ہنسی ہماری موت کی شہادت ہے لحد میں پیدا ہونے والے بچے ہماری ماں آنکھ ہے قبر تو مٹی کا مکر ہے پھر پرندے سورج سے پہلے کسی کا ذکر کرتے ہیں آواز ...

مزید پڑھیے

بدن سے پوری آنکھ ہے میری

بدن سے پوری آنکھ ہے میری جاؤ جانماز سے اپنی پسند کی دعا اٹھا لو ہر رنگ کی دعا میں مانگ چکی باغباں دل کا بیج تیرے پاس بھی نہ ہوگا دیکھو دھوئیں میں آگ کیسے لگتی ہے میرے پیرہن کی تپش مٹی کیسے جلاتی ہے بدن سے پوری آنکھ ہے میری نگاہ جو تنے کی ضرورت ہی کیا پڑی ہے میری بارشوں کے تین رنگ ...

مزید پڑھیے

پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

کسی پرندے کی رات پیڑ پر پھڑپھڑاتی ہے رات پیڑ اور پرندہ اندھیرے کے یہ تینوں راہی ایک سیدھ میں آ کھڑے ہوتے ہیں رات اندھیرے میں پھنس جاتی ہے رات تو نے میری چھاؤں کیا کی جنگل چھوٹا ہے اس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوں گہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھا میں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں دو جڑواں بہنیں

جب ہمارے گناہوں پہ وقت اترے گا بندے کھرے ہو جائیں گے پھر ہم توبہ کے ٹانکوں سے خدا کا لباس سئیں گے تم نے سمندر رہن رکھ چھوڑا اور گھونسلوں سے چرایا ہوا سونا بچے کے پہلے دن پہ مل دیا گیا تم دکھ کو پیوند کرنا میرے پاس ادھار زیادہ ہے اور دکان کم آنکھیں دو جڑواں بہنیں ایک میرے گھر ...

مزید پڑھیے

شیلی بیٹی کے نام

تجھے جب بھی کوئی دکھ دے اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا جب میرے سفید بال تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے ان کھیتوں میں میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی بس پہلی بار ڈری بیٹی میں کتنی بار ڈری بیٹی ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں ...

مزید پڑھیے

سنگ میل پہروں چلتا ہے

آسمان کے سینے میں غم چرخا کات رہا ہے سنگ میل پہروں چلتا ہے اور ساکت ہے رات مجھ سے پہلے جاگ گئی ہے لباس پر پڑے ہوئے دھبے میرے بچوں کے دکھ تھے میرے لہو کو تنہائیاں چاٹ رہی ہیں شہر کی منڈیر سے تنکے چرائے تھے سورج نے دکھ بنا دئے میرے سپنوں کا داغ آنکھیں ہیں میری قبر مجھے چھپ کر دیکھ ...

مزید پڑھیے

آدھا کمرہ

اس نے اتنی کتابیں چاٹ ڈالیں کہ اس کی عورت کے پیر کاغذ کی طرح ہو گئے وہ روز کاغذ پہ اپنا چہرہ لکھتا اور گندہ ہوتا اس کی عورت جو خاموشی کاڑھے بیٹھی تھی کاغذوں کے بھونکنے پر سارتر کے پاس گئی تم راںؔ بو اور فرائڈؔ سے بھی مل آئے ہو کیا سیفوؔ میری سیفوؔ میرابائیؔ کی طرح مت بولو میں سمجھ ...

مزید پڑھیے

سائے کی خاموشی

سائے کی خاموشی صرف زمین سہتی ہے کھوکھلا پیڑ نہیں یا کھوکھلی ہنسی نہیں اور پھر انجان اپنی انجانی ہنسی میں ہنسا قہقہے کا پتھر سنگریزوں میں تقسیم ہو گیا سائے کی خاموشی اور پھول نہیں سہتے تم سمندر کو لہروں میں ترتیب مت دو کہ تم خود اپنی ترتیب نہیں جانتے تم زمین پہ چلنا کیا جانو کہ ...

مزید پڑھیے

چاند کا قرض

ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی اور اپنا اپنا بین ہوئے ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے میں نے موت کے بال کھولے اور جھوٹ پہ دراز ہوئی نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی شام دوغلے رنگ سہتی رہی آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے میں موت کے ہاتھ ...

مزید پڑھیے

پانی میں اگر عکس کی حالت میں بہوں میں

پانی میں اگر عکس کی حالت میں بہوں میں ممکن ہے کنارے کا کنارہ ہی رہوں میں اے خامہ‌ گر وقت مجھے اذن سخن دے تجھ سے تری رفعت کے توسل سے ملوں میں چلتی ہوئی باتوں میں اسے کام پڑے یاد ٹھہرے ہوئے لفظوں میں اجازت کا کہوں میں بینائی کو ترسی ہوئی بے رنگی کے در پر آنکھوں کی اسیری میں لکھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1177 سے 6203