قومی زبان

درخت میرے دوست

درخت! میرے دوست تم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پر اور آسان کر دیتے ہو سفر تمہارے پیر کی انگلیاں جمی رہیں پاتال کے بھیدوں پر قائم رہے میرے دوست تمہارے تنے کی متانت اور قوت دھوپ اور بارش تمہیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہے تم بہت پروقار اور سادہ ہو میرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہو ضرور.... یہ لو ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے درمیان

دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سیارے کو لفظوں سے بھر دیا فیصلوں اور فاصلوں کو طول دینے کا فن انہیں خوب آتا ہے جہاز بندرگاہوں میں کھڑے ہیں اور گھروں، گوداموں، دکانوں میں کسی لفظ کے لئے جگہ نہیں رہی اتنے بہت سے لفظ۔۔۔ اف خدایا! مجھے اس زمین پر چلتے ہوئے اٹھائیس برس ہو گئے باپ، ماں، ...

مزید پڑھیے

نیند کا فرشتہ

زمیں اطراف کی کالی ہوئی جلنے لگے دیوے ہوائیں خشک پتوں کو گرا کر سو گئیں شاید فرشتہ نیند کا ناراض ہے مجھ سے یہ کہتا ہے بہت دن سو لیے بے دار رہ کر بھی ذرا دیکھو اذان فجر ہونے تک ستاروں کی ادا دیکھو

مزید پڑھیے

یہاں مضافات میں

یہاں مضافات میں اس وقت ٹھیک اس وقت جب زمینی گھڑیاں صبح کے ساڑھے سات بجا رہی ہیں ایک پہیہ بنایا جا رہا ہے لکڑی کے تختوں کو گولائی دینا معمولی کام نہیں اپنے وسط سے باہر پھوٹتی ہوئی روشنی عورت کے برہنہ جسم کے بعد یہ پہلا منظر ہے جس نے مجھے روک لیا ہے اور میں بھول گیا ہوں کہ سیارے پر ...

مزید پڑھیے

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر دیکھوں کبھی موجود و میسر سے نکل کر آئے کوئی طوفان گزر جائے کوئی سیل اک شعلۂ بے تاب ہوں پتھر سے نکل کر آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویر در و بام یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر تا دیر رہا ذائقۂ مرگ لبوں پر اک نیند کے ٹوٹے ہوئے منظر سے نکل کر ہر رنگ ...

مزید پڑھیے

ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں

ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں شروع فصل گل ہے ان لبوں کو چوم کر دیکھوں کہاں کس آئنے میں کون سا چہرہ دمکتا ہے ذرا حیرت سرائے آب و گل میں گھوم کر دیکھوں مرے سینے میں دل ہے یا کوئی شہزادۂ خود سر کسی دن اس کو تاج و تخت سے محروم کر دیکھوں گزر گاہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں وہاں کیا ...

مزید پڑھیے

میں جو گزرا سلام کرنے لگا

میں جو گزرا سلام کرنے لگا پیڑ مجھ سے کلام کرنے لگا دیکھ اے نوجوان میں تجھ پر اپنی چاہت تمام کرنے لگا کیوں کسی شب چراغ کی خاطر اپنی نیندیں حرام کرنے لگا سوچتا ہوں دیار بے پروا کیوں مرا احترام کرنے لگا عمر یک روز کم نہیں ثروتؔ کیوں تلاش دوام کرنے لگا

مزید پڑھیے

کتاب سبز و در داستان بند کیے

کتاب سبز و در داستان بند کیے وہ آنکھ سو گئی خوابوں کو ارجمند کیے گزر گیا ہے وہ سیلاب آتش امروز بغیر خیمہ و خاشاک کو گزند کیے بہت مصر تھے خدایان ثابت و سیار سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کیے اسی جزیرۂ جائے نماز پر ثروتؔ زمانہ ہو گیا دست دعا بلند کیے

مزید پڑھیے

یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا

یک بیک منظر ہستی کا نیا ہو جانا دھوپ میں سرمئی مٹی کا ہرا ہو جانا صبح کے شہر میں اک شور ہے شادابی کا گل دیوار، ذرا بوسہ نما ہو جانا کوئی اقلیم نہیں میرے تصرف میں مگر مجھ کو آتا ہے بہت فرماں روا ہو جانا زشت اور خوب کے مابین جلایا میں نے جس گل سرخ کو تھا شعلہ نما ہو جانا چشم کا ...

مزید پڑھیے

سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے

سفینہ رکھتا ہوں درکار اک سمندر ہے ہوائیں کہتی ہیں اس پار اک سمندر ہے میں ایک لہر ہوں اپنے مکان میں اور پھر ہجوم کوچہ و بازار اک سمندر ہے یہ میرا دل ہے مرا آئینہ ہے شہزادی اور آئینے میں گرفتار اک سمندر ہے کہاں وہ پیرہن سرخ اور کہاں وہ بدن کہ عکس ماہ سے بے دار اک سمندر ہے یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1129 سے 6203