چاہت
آدمی پیڑ اور مکان صاف نیلا آسمان سنگ ریزے اور گلاب سب کے سب اچھے لگے اس کے گھر جاتے ہوئے
آدمی پیڑ اور مکان صاف نیلا آسمان سنگ ریزے اور گلاب سب کے سب اچھے لگے اس کے گھر جاتے ہوئے
سلاخوں سے ادھر کچھ درخت، ایک سڑک، کتے کی زنجیر تھامے ایک آدمی اور ایک ڈور جس پر رنگ برنگے کپڑے سوکھ رہے ہیں جسموں کے بغیر یہ کپڑے، بچوں کے بغیر یہ میدان محبت کے بغیر یہ راستے دنیا کتنی چھوٹی نظر آتی ہے رنگ برنگے کپڑے سوکھ جانے پر ایک عورت آئے گی تب ایک ایک کر کے یہ قمیضیں، پتلونیں ...
شادمانی کے فرشتے صبح میں چہرہ ہے کس کا جھلملاتی شام کیا ہے چمن میں وہ جو آتی ہے اس پری کا نام کیا ہے
بہتا ہوا پانی پیڑوں کے ماتھے کو چوم گئے بادل شاخوں سے ٹکرائیں ہات کچے پھلوں کی خوشبو جگائے سورج کی بانہوں میں ....رات بہتا ہوا پانی
جب درخت خاموش تھے اور بادل شور کر رہے تھے میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیں میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھا میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھی میں تمہیں یاد کر رہا تھا جب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا ...
اتنے گھر اتنے سیارے کنکر پتھر کون گنے دس سے اوپر کون گنے اوزاروں کے نام بہت ہیں ہتھیاروں کے دام بہت ہیں اے سوداگر کون گنے دس سے اوپر کون گنے اے دل اے بے کل فوارے کتنے گھاؤ بنے ہیں پیارے اپنے اندر کون گنے دس سے اوپر کون گنے کتنی لہریں ٹوٹ گئی ہیں بیچ سمندر کون گنے
میں ان سے پوچھتا ہوں: پل کیسے بنایا جاتا ہے پل بنانے والے کہتے ہیں: تم نے کبھی محبت نہیں کی میں کہتا ہوں: محبت کیا چیز ہے وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں: محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو تو پہلے دریا سے ملو۔۔۔ روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں دریا اپنے سمندر کی طرف ...
دھوپ اور دوریوں کے درمیاں ایک آواز سنائی دیتی ہے جیسے مچھلی سیاہ جال سے بے خبر سنہری پروں سے .....پانی کاٹتی ہے
وہ میرے سامنے ملبوس کیا بدلنے لگا نگار خانۂ ابر و ہوا بدلنے لگا تہ زمین کسی اژدہے نے جنبش کی بساط خاک پہ منظر مرا بدلنے لگا یہ کون اترا پئے گشت اپنی مسند سے اور انتظام مکان و سرا بدلنے لگا ہوا ہے کون نمودار تین سمتوں سے کہ اندروں کا جزیرہ نما بدلنے لگا یہ کیسے دن ہیں ہماری ...
فرات فاصلہ سے دجلۂ دعا سے ادھر کوئی پکارتا ہے دشت نینوا سے ادھر کسی کی نیم نگاہی کا جل رہا ہے چراغ نگار خانۂ آغاز و انتہا سے ادھر میں آگ دیکھتا تھا آگ سے جدا کر کے بلا کا رنگ تھا رنگینیٔ قبا سے ادھر میں راکھ ہو گیا طاؤس رنگ کو چھو کر عجیب رقص تھا دیوار پیش پا سے ادھر زمین میرے ...