قومی زبان

دل کی خواہش ہے کہ میں وقت کا نوحہ لکھوں

دل کی خواہش ہے کہ میں وقت کا نوحہ لکھوں زندگی کیا ہے فقط آگ کا دریا لکھوں یہاں سامان نشاط دل و جاں کوئی نہیں غم دوراں ترا کیسا میں سراپا لکھوں یہاں گفتار میں شیرینی ہے کردار میں کھوٹ کیا ہے پستی کا سبب تو ہی بتا کیا لکھوں زہر آلود ہے منظر کہ فضا ہے مسموم حال کاغذ پہ میں کس کس کی ...

مزید پڑھیے

ہے چمن میں زندگی کی داستاں بکھری ہوئی

ہے چمن میں زندگی کی داستاں بکھری ہوئی پھول مرجھائے ہوئے اور پتیاں بکھری ہوئی اک نظر کے سامنے ہے اس نظر کی اوٹ میں زندگی ہے دو جہاں کے درمیاں بکھری ہوئی میں سمجھتا ہوں زمیں پر انقلاب آنے کو ہے آسماں پر ہیں شفق کی سرخیاں بکھری ہوئی دیکھنے کی چیز تھی کل خواب گاہ ناز میں حسرتیں ...

مزید پڑھیے

دل کا دلبر جب سے دل کی دھڑکن ہونے والا ہے

دل کا دلبر جب سے دل کی دھڑکن ہونے والا ہے سونا سونا میرا آنگن گلشن ہونے والا ہے اس کی آنکھوں میں بھی ہر دم عکس مرا ہی رہتا ہے اب تو میرا چہرہ اس کا درپن ہونے والا ہے ناز کروں یا فخر کروں میں سب کچھ ہے لازم مجھ کو رفتہ رفتہ دل میں اس کا مسکن ہونے والا ہے پیار کے جذبے اس کے دل میں ...

مزید پڑھیے

آنکھ کے ساحل پر آتے ہی اشک ہمارے ڈوب گئے

آنکھ کے ساحل پر آتے ہی اشک ہمارے ڈوب گئے غم کا ساون اتنا برسا سارے سہارے ڈوب گئے اس کو کھیل کہیں قسمت کا یا ہم دریا کی سازش طوفانوں سے بچ نکلے تو آ کے کنارے ڈوب گئے جذبۂ محبت یہ تو بتا کب آئے گا آنے والا رات سمٹتی جاتی ہے اور چاند ستارے ڈوب گئے نیل گگن پر اڑتے پنچھی لوٹ کے آ جا ...

مزید پڑھیے

دل برباد میں پھر اس کی تمنا کیوں ہے

دل برباد میں پھر اس کی تمنا کیوں ہے ہر طرف شام ہے لیکن یہ اجالا کیوں ہے جس کی یادوں کے دیئے ہم نے بجھا رکھے ہیں پھر وہی شخص تصور میں اترتا کیوں ہے جانتا ہوں وہ مسافر ہے سفر کرتا ہے قریۂ جاں میں مگر آج وہ ٹھہرا کیوں ہے تھک چکا ہے تو اندھیروں میں رہے میری طرح چاند کو کس کی طلب ہے یہ ...

مزید پڑھیے

بستر ہجر کی شکنوں پہ کہانی لکھ دے

بستر ہجر کی شکنوں پہ کہانی لکھ دے آج کی رات مرے نام سہانی لکھ دے بیتے سالوں کی طرح دشمن جانی لکھ دے اب کے خط میں تو کوئی بات پرانی لکھ دے پیاس اس ریت کی اشکوں سے بجھاؤں کیسے خشک دریا کے مقدر میں بھی پانی لکھ دے حسن کا ڈھلنا ضروری ہے مگر اے مالک اس کے چہرے پہ مرے دل کی جوانی لکھ ...

مزید پڑھیے

قطرے کو تم دریا کر دو

قطرے کو تم دریا کر دو مجھ کو اپنے جیسا کر دو دل میں اپنا پیار جگا کر کاش محبت والا کر دو مجھ کو اپنا کہہ کر سب سے میرے پیچھے دنیا کر دو ایسی آندھی پیار کی بھیجو دل کا گلشن صحرا کر دو تیرے سوا میں کچھ بھی نہ دیکھوں آنکھ پہ ایسا پردا کر دو دھڑکن آہیں سب ہیں سونی سانسوں کو بھی ...

مزید پڑھیے

قوس قزح

مجھے ہوش کب تھا کہ یہ میری خوشیاں غموں کے فلک پر ہیں برسات میں ایک قوس قزح جھپکتے ہی آنکھیں سبھی رنگ غائب اور اب جب کہ قوس قزح مٹ چکی ہے ہر اک سمت سے ایک اک کر کے بادل غم آلود بادل چلے آ رہے ہیں خدا جانے میں کیوں پریشاں نہیں ہوں یہ کیا ماجرا ہے

مزید پڑھیے

پہیلیاں

میری ہی سوچوں میں کیوں مکڑی نے اتنے جال بنے ہیں پھولوں جیسی یادوں میں یہ کانٹوں جیسی چبھن ہے کیونکر تم مجھ سے میرے خوابوں میں ہر شب ملنے کیوں آتی ہو میرے کندھے پر سر رکھ کر پیار بھرے نغمے گاتی ہو بیکل دل کو بہلاتی ہو لیکن دن میں یہ کیا ہو جاتا ہے تم کو یوں لگتا ہے مجھے دیکھ ...

مزید پڑھیے

تیرا خیال

تیرا خیال جیسے کڑاکے کی دھوپ میں تاریک بند کمرے میں ٹھنڈی سی ایک شام گلدان میں سجا ہوا تازہ سا ایک پھول یا زندگی کے ہاتھ میں سرمست ایک جام

مزید پڑھیے
صفحہ 1105 سے 6203