قومی زبان

بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس

بارش تھی اور ابر تھا دریا تھا اور بس جاگی تو میرے سامنے صحرا تھا اور بس آیا ہی تھا خیال کہ پھر دھوپ ڈھل گئی بادل تمہاری یاد کا برسا تھا اور بس ایسا بھی انتظار نہیں تھا کہ مر گئے ہاں اک دیا دریچے میں رکھا تھا اور بس تم تھے نہ کوئی اور تھا آہٹ نہ کوئی چاپ میں تھی اداس دھوپ تھی رستہ ...

مزید پڑھیے

برتر سماج سے کوئی فن کار بھی نہیں

برتر سماج سے کوئی فن کار بھی نہیں فن کار کیا جو صاحب کردار بھی نہیں ہر چند جاں بلب ہیں ستم سے شریف لوگ لڑنے کو ظلم سے کوئی تیار بھی نہیں نسل جواں سوار ہے خوابوں کی ناؤ میں اس پر ستم کہ ہاتھ میں پتوار بھی نہیں کھوٹا ٹکا ہوں پھر بھی کبھی کام آؤں گا مجھ کو نہ پھینک اتنا میں بے کار ...

مزید پڑھیے

شجر یہ چار سو باد خزاں کے مارے ہوئے

شجر یہ چار سو باد خزاں کے مارے ہوئے سپاہی جیسے نہتے عدو سے ہارے ہوئے اب آ بھی جا مری جاں اک زمانہ بیت گیا بٹھا کے پہلو میں تیری نظر اتارے ہوئے ضرور میری کسی بات پر خفا ہو تم وگرنہ کیوں مرے دشمن مرے ستارے ہوئے یہ سرد رات دسمبر کی کاٹ دی میں نے ترے بدن کی تپش روح میں اتارے ...

مزید پڑھیے

ان گنت شاداب جسموں کی جوانی پی گیا

ان گنت شاداب جسموں کی جوانی پی گیا وہ سمندر کتنے دریاؤں کا پانی پی گیا نرم صبحیں پی گیا شامیں سہانی پی گیا ہجر کا موسم دلوں کی شادمانی پی گیا میرے ارمانوں کی فصلیں اس لیے پیاسی رہیں ایک ظالم تھا جو کل بستی کا پانی پی گیا لے گئے تم چھین کر الفاظ کا امرت کلس میں وہ شوشنکر تھا جو ...

مزید پڑھیے

حد ستم نہ کر کہ زمانہ خراب ہے

حد ستم نہ کر کہ زمانہ خراب ہے ظالم خدا سے ڈر کہ زمانہ خراب ہے اتنا نہ بن سنور کہ زمانہ خراب ہے میلی نظر سے ڈر کہ زمانہ خراب ہے بہنا پڑے گا وقت کے دھارے کے ساتھ ساتھ بن اس کا ہم سفر کہ زمانہ خراب ہے پھسلن قدم قدم پہ ہے بازار شوق میں چل دیکھ بھال کر کہ زمانہ خراب ہے کچھ ان پہ غور کر ...

مزید پڑھیے

حلال رزق کا مولیٰ کچھ انتظام بھی دے

حلال رزق کا مولیٰ کچھ انتظام بھی دے مجھے دیا ہے جو علم و ہنر تو کام بھی دے جگا ذرا کوئی جادو نظر کی جنبش سے نظر سے کوئی شرارت بھرا پیام بھی دے پسند دوستی چاہت نیاز عشق طلب جو ہے ترے مرے مابین اس کو نام بھی دے اٹھا کے جبر و ستم کس لئے خموش ہیں ہم زبان دی ہے تو پھر جرأت کلام بھی ...

مزید پڑھیے

دیار غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے

دیار غیر میں ہم بھی صداؤں سے مچل جاتے مگر تھے کون اپنے جن کے دعووں سے پگھل جاتے ستم گر کی حقیقت کو بتانا کام تھا میرا یہ تم پر منحصر ہے تم مکر جاتے سنبھل جاتے ہمارے دل میں جو طوفاں دبائے ہم ہی بیٹھے ہیں اگر ان کا پتا دیتے ہزاروں دل دہل جاتے ارے ظالم کیوں ان معصوم کلیوں کو اجاڑا ...

مزید پڑھیے

دادی اماں

دادی اماں ہمیں سناؤ اب اک نئی کہانی جس میں ظالم راجہ نہ ہو نہ ہی ظالم رانی جس میں بھوت پریت دیو اور جناتوں کی بات نہ ہو جس میں شہزادی کی خاطر شہزادے کی مات نہ ہو جس میں کوئی لوبھی لٹیرا سات سمندر سے نہ آئے جس میں سونے کی چڑیا کے پنکھوں کو نوچا نہ جائے آج کے یگ میں ان قصوں کی بات ہوئی ...

مزید پڑھیے

جادوئی ماحول میں ہر لینے والی چھتریاں

جادوئی ماحول میں ہر لینے والی چھتریاں ملگجی رت دودھیا ہاتھوں میں کالی چھتریاں ہم نے جن قدروں کو سمجھا تھا خیالی چھتریاں تھیں وہیں طوفان میں کام آنے والی چھتریاں غم کے صحرا کی تپش خود جھیلنی ہوگی ہمیں بے وفا احباب ہیں سائے سے خالی چھتریاں آج خود ہی بے تحفظ ہیں زمانے کے ...

مزید پڑھیے

آ گیا ہے وقت اب بھگتو گے خمیازے بہت

آ گیا ہے وقت اب بھگتو گے خمیازے بہت ہم فقیروں پر کسے تم نے بھی آوازے بہت تم نے جو قصے کیے منسوب میری ذات سے تھی حقیقت ان میں تھوڑی اور اندازے بہت جن کو اپنی کامیابی کا بڑا پندار تھا ہم نے دیکھے ہیں بکھرتے ان کے شیرازے بہت گھٹ نہ جائے دم کہیں نفرت کے اس ماحول میں کر لئے ہم نے مقفل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1086 سے 6203