جنگل جگنو بادل اور میں
جنگل جگنو بادل اور میں آنکھ میں پھیلا کاجل اور میں گھر کے خالی سناٹے میں دل جیسا اک پاگل اور میں اس کی آنکھیں دریا جیسی پیاسی روح کی چھاگل اور میں
جنگل جگنو بادل اور میں آنکھ میں پھیلا کاجل اور میں گھر کے خالی سناٹے میں دل جیسا اک پاگل اور میں اس کی آنکھیں دریا جیسی پیاسی روح کی چھاگل اور میں
اس کو عادت نہ تم بنا لینا وہ تمہیں چھوڑ بھی تو سکتا ہے ایک نشہ ہے یہ محبت بھی جو بدن توڑ بھی تو سکتا ہے
طوفان کا ہواؤں کا پانی کا کیا بنا کشتی بھنور میں تھی تو روانی کا کیا بنا کردار تو شروع میں مارا گیا مگر یہ تو بتا کے جاؤ کہانی کا کیا بنا اس نے خبر یہ دی مرا آنگن اجڑ گیا میں سوچتی ہوں رات کی رانی کا کیا بنا اب پیڑ تو نہیں ہیں پرندے کہاں گئے اور یہ کہ ان کی نقل مکانی کا کیا ...
جس کی خاطر گئی وہ تھا ہی نہیں پھر مرا دل وہاں لگا ہی نہیں خود کو میں نے کبھی نہیں دیکھا میرے کمرے میں آئنہ ہی نہیں کیوں میں تعبیر ڈھونڈھتی پھرتی خواب آنکھوں میں کوئی تھا ہی نہیں اب ہواؤں کو تیز چلنے دو اب مرے ہاتھ میں دیا ہی نہیں وہ کہیں ہے بھی یا نہیں موجود راز یہ آج تک کھلا ...
میں اپنی عدالت میں مجرم کھڑی ہوں مجھے میرے جذبوں مری خواہشوں نے گرفتار کر کے سر عام ذلت سے دو چار کر کے یہ دعویٰ کیا ہے انہیں قید رکھا اور اکثر انہیں حبس بے جا میں رکھ کر زد و کوب کر کے انہیں مار دینے کی حد تک اذیت بھی دی ہے میں اپنی عدالت میں مجرم کھڑی ہوں
محبتوں کو بھی وعدوں میں رکھ دیا گیا ہے کہ جیسے پھول کتابوں میں رکھ دیا گیا ہے چراغ گھر کی منڈیروں پہ رکھ دئے گئے ہیں اور انتظار چراغوں میں رکھ دیا گیا ہے کبھی جو یاد پرانی سجی تھی کمرے میں اسے بھی اب تو درازوں میں رکھ دیا گیا ہے صدائیں سرد ہواؤں کو سونپ دی گئی تھیں پھر اس ہوا کو ...
اک قیامت کا گھاؤ آنکھیں تھیں عشق طوفاں میں ناؤ آنکھیں تھیں راستہ دل تلک تو جاتا تھا اس کا پہلا پڑاؤ آنکھیں تھیں ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں جن کو اس نے چراغ سمجھا تھا اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں دل میں اترا وہ دیر سے لیکن میرا پہلا لگاؤ آنکھیں ...
ہمارے سانحے ہم کو سنا رہے کیوں ہو تم اتنا بوجھ بھی دل پر اٹھا رہے کیوں ہو تمہاری چھاؤں میں بیٹھے اٹھا دیا تم نے پھر اب پکار کے واپس بلا رہے کیوں ہو جو بات سب سے چھپائی تھی عمر بھر ہم نے وہ بات سارے جہاں کو بتا رہے کیوں ہو جب ایک پل بھی گزرنا محال ہوتا ہے پھر اتنی دیر بھی ہم سے جدا ...
سانس کی مہلت کیا کر لے گی اب یہ سہولت کیا کر لے گی بے بس کر کے رکھ دے گی نا اور محبت کیا کر لے گی کیا کر لے گا چارہ گر بھی درد کی شدت کیا کر لے گی ایک جہنم کاٹ لیا ہے اب یہ قیامت کیا کر لے گی میں ہی اپنے ساتھ نہیں جب اس کی رفاقت کیا کر لے گی میرا آنگن صحرا جیسا دشت کی وحشت کیا کر لے ...
ایک تہذیب تھا بدن اس کا اس پہ اک رکھ رکھاؤ آنکھیں تھیں جنہیں اس نے چراغ سمجھا تھا اس کو یہ تو بتاؤ آنکھیں تھیں