قومی زبان

رہائی کب ملے گی

مرا دل ایک ننھا سا قفس ہے یوں تو اس میں چار خانے ہیں لہو میں تر بہت سے شاخسانے ہیں فسانے ہیں خزانے ہیں یہاں رنگیں پرندوں کی طرح نازک بہت سے لفظ قیدی ہیں نڈھال افسردہ پژمردہ مگر اب بھی رخ قرطاس کی تزئین و آرائش سماعت کی فضاؤں میں بکھر جانے کی خواہش زندگی کی دستکوں میں تلملاتی ...

مزید پڑھیے

سیفٹی والو

غضب کی تپش ہے گھٹن اس قدر دل میں بہتے لہو کی جگہ آگ پھنکنے لگی ہے سو رگ رگ میں چنگاریاں ہیں سلگتی ہوئی سرخ آنکھوں میں آنسو نہیں ہلکا ہلکا دھواں ہے کسی نیم خوابیدہ آتش فشاں کے دہانے سے لاوا ابلنے کو بے چین ہے شہر کا شہر لقمہ بنے آگ کا ڈھیر ہو راکھ کا اس سے پہلے اگر میرا اک ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں پر میں ننگے پاؤں چلنا چاہتی ہوں

حدود شہر سے باہر کڑکتی دھوپ میں چٹئیل پہاڑوں پر میں ننگے پاؤں چلنا چاہتی ہوں مجھے محسوس ہوتا ہے ہوا صحرا میں تنہائی کا نوحہ پڑھ رہی ہے چٹانوں کے بدن میرے گلابی نرم تلووں سے کچل جانے کی حسرت میں سلگتے ہیں دہکتے پتھروں کے ہونٹ میری انگلیوں کے لمس کی چاہت میں جلتے ہیں کسی ذی روح کے ...

مزید پڑھیے

یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے

یہاں نہیں ہے وہاں نہیں ہے ادھر نہیں ہے ادھر نہیں ہے مگر کسی طرح دل نہیں مانتا کہ وہ جلوہ گر نہیں ہے کسی بھی در پر علاج آویزش یقین و گماں نہ ہوگا ادھر چلا آ کہ میکدے میں اگر نہیں ہے مگر نہیں ہے ہزارہا سامنے کی باتوں سے جان پڑتی ہے شاعری میں وہ کون سے پیش پا مضامیں ہیں جن پہ میری ...

مزید پڑھیے

جب تک ہم ہیں ممکن ہی نہیں نامحرم محرم ہو جائیں

جب تک ہم ہیں ممکن ہی نہیں نامحرم محرم ہو جائیں آتا ہے انہیں غصہ آئے ہوتے ہیں وہ برہم ہو جائیں دنیائے مسرت کے لمحے اب اس سے کیا کم ہو جائیں ہونٹوں پر ہنسی آنے والی ہو آنکھیں پر نم ہو جائیں ہم اس کے آنکھ سے اوجھل ہونے کا مطلب کیا لیتے ہیں وہ آنکھ سے اوجھل ہو تو نظارے درہم برہم ہو ...

مزید پڑھیے

کھری باتیں بہ انداز سخن کہہ دوں تو کیا ہوگا

کھری باتیں بہ انداز سخن کہہ دوں تو کیا ہوگا عدوئے جان و تن کو جان من کہہ دوں تو کیا ہوگا نگہبان وطن کو راہزن کہہ دوں تو کیا ہوگا کسی بھی بدچلن کو بدچلن کہہ دوں تو کیا ہوگا غریبی جن کے لتے لے گئی تا حد عریانی جو میں ان عصمتوں کو سیم تن کہہ دوں تو کیا ہوگا اندھیرے کو اندھیرے ہی ...

مزید پڑھیے

شوفر

کھٹ۔۔۔ کھٹ۔۔۔ کون؟ صبیحہ! کیسے؟ یوں ہی، کوئی کام نہیں پچھلی رات۔۔ بھیانک گیرج۔۔ کیا کچھ ہو انجام۔۔ نہیں میرا ذمہ۔۔ میں بھگتوں گی۔۔ تم پر کچھ الزام۔۔۔ نہیں ہم ہیں اس اخلاق کے پیرو، ہم ہیں اس تہذیب کے لوگ جس میں عفت اک ''مفروضہ'' عصمت جس میں ''ذہنی روگ'' جذبوں پر پہرے بٹھلانا کیا ...

مزید پڑھیے

دیوالی

ہو رہے ہیں رات کے دیوں کے ہر سو اہتمام صبح سے جلوہ نما ہے آج دیوالی کی شام ہو چکی گھر گھر سپیدی دھل رہی ہیں نالیاں پھرتی ہیں کوچوں میں مٹی کے کھلونے والیاں بھولی بھالی بچیاں چنڈول پاپا کر مگن اپنی گڑیوں کے گھروندوں میں سجی ہے انجمن رسم کی ان حکمتوں کو کون کہہ دے گا فضول رکھ دیے ...

مزید پڑھیے

کون بتوں سے رشتہ جوڑے

کون بتوں سے رشتہ جوڑے نام بڑے اور درشن تھوڑے اس پر یہ بھرپور جوانی بانہیں بھر لے اور نہ چھوڑے جوبن کو یہ عقل کہاں ہے چادر اتنے پاؤں سکوڑے چھلکے ساگر آنکھ نشیلی نرگس میں انگور نچوڑے حال سے مستقبل بنتا ہے پھوٹ بہیں گے پکے پھوڑے پیٹھ نہ دے آزادہ روی کو سینے پر کھا زخم ...

مزید پڑھیے

تارے جو آسماں سے گرے خاک ہو گئے

تارے جو آسماں سے گرے خاک ہو گئے ذرے اٹھے تو برق غضبناک ہو گئے پرسان حال دیدۂ نمناک ہو گئے یہ کب سے آپ صاحب ادراک ہو گئے انجام انبساط چمن کے سوال پر اتنا ہنسے کہ پھول جگر چاک ہو گئے ہونا پڑے گا قائل تعمیر عہدنو جس دن غریب درخور املاک ہو گئے تفتیش حال موسم گل کو چلے ہیں آپ اب جب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1080 سے 6203