قومی زبان

لا اے ساقی تیری جے ہو

لا اے ساقی تیری جے ہو کوئی بھی پینے کی شے ہو گلشن میں صیاد کے ہاتھوں جو انجام بھی ہوتا ہے ہو ہم آخر کیوں ہمت ہاریں ہو ناکامی پے در پے ہو لاکھوں ہیں ہم سب بے چارے اے شہزادو تم سب کے ہو میں دنیا پر طنز کروں گا دنیا کیوں میرے درپئے ہو ہم اس کے پابند نہیں ہیں ساقی ہو مینا ہو مے ...

مزید پڑھیے

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں سمجھ سکو تو ٹھکانے کی بات کرتا ہوں سحر کو شمع جلانے کی بات کرتا ہوں یہ غافلوں کو جگانے کی بات کرتا ہوں روش روش پہ بچھا دو ببول کے کانٹے چمن سے لطف اٹھانے کی بات کرتا ہوں وہ باغبان جو پودوں سے بیر رکھتا ہے یہ آپ ہی کے زمانے کی بات کرتا ہوں شراب سرخ ...

مزید پڑھیے

ابھی تو موسم ناخوش گوار آئے گا

ابھی تو موسم ناخوش گوار آئے گا پھر اس کے بعد پیام بہار آئے گا خلوص عہد وفا سازگار آئے گا کبھی تو مرحلۂ اعتبار آئے گا جس انجمن میں دلوں کے قرار لٹتے ہیں اس انجمن میں پہنچ کر قرار آئے گا لب شگفتہ و مے پاش پر شگوفوں پر کرو گے غور جہاں تک نکھار آئے گا یہی ہے بزم طرب آفریں تو جاتا ...

مزید پڑھیے

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں

چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں سمجھ سکو تو ٹھکانے کی بات کرتا ہوں شراب تلخ پلانے کی بات کرتا ہوں خود آگہی کو جگانے کی بات کرتا ہوں سخنوروں کو جلانے کی بات کرتا ہوں کہ جاگتوں کو جگانے کی بات کرتا ہوں اٹھی ہوئی ہے جو رنگینیٔ تغزل پر وہ ہر نقاب گرانے کی بات کرتا ہوں اس انجمن سے ...

مزید پڑھیے

چاہتے ہیں گھر بتوں کے دل میں ہم

چاہتے ہیں گھر بتوں کے دل میں ہم ہیں جنوں کی آخری منزل میں ہم گیت گاتے ہیں قفس منزل میں ہم کوستے جاتے ہیں لیکن دل میں ہم یہ تو مت محسوس ہونے دیجیے اجنبی ہیں آپ کی محفل میں ہم مے کدے کے چور دروازے بھی ہیں آ تو جائیں شیخ کی منزل میں ہم خود فریبوں کو پیام آگہی مبتلا ہیں سعئ لا حاصل ...

مزید پڑھیے

شادؔ افتاد ہر نفس مت پوچھ

شادؔ افتاد ہر نفس مت پوچھ حضرت قاضی و عسس مت پوچھ خون بھی ہے رگ حمیت بھی کیوں نہیں لوگ ٹس سے مس مت پوچھ پھول کانٹوں میں تو نے دیکھا ہے مجھ سے حالات پیش و پس مت پوچھ کیا مری آرزو سے واقف ہے وہ نگاہ دقیقہ رس مت پوچھ آشیان و چمن کے دل دادہ تو کبھی وسعت قفس مت پوچھ چیستاں ہے فریب ...

مزید پڑھیے

مستقبل روشن تر کہیے

مستقبل روشن تر کہیے لیکن آنکھ ملا کر کہیے بربادی کو منظر کہیے کہیے سوچ سمجھ کر کہیے سمجھایا تھا دیکھ کے چلیے کیسی کھائی ٹھوکر کہیے دم گھٹنے کی بات الگ ہے طوق گلو کو زیور کہیے آنسو ہیں قانون سے باہر غم کی باتیں ہنس کر کہیے آئینہ دکھلانا ہوگا سچی باتیں منہ پر کہیے شیخی کی ...

مزید پڑھیے

اپنی تقدیر کو پیٹے جو پریشاں ہے کوئی

اپنی تقدیر کو پیٹے جو پریشاں ہے کوئی آپ کے بس میں علاج غم دوراں ہے کوئی روکئے اس کو جو اس وقت غزل خواں ہے کوئی جیل میں نغمہ سرائی کا بھی امکاں ہے کوئی اپنی مرضی سے تو اگتے نہیں خود رو پودے ہم غریبوں کا بہ ہر حال نگہباں ہے کوئی زرد چہروں کو تبسم نے کیا ہے رسوا ورنہ ظاہر بھی نہ ...

مزید پڑھیے

ہماری غزلوں ہمارے شعروں سے تم کو یہ آگہی ملے گی

ہماری غزلوں ہمارے شعروں سے تم کو یہ آگہی ملے گی کہاں کہاں کارواں لٹے ہیں کہاں کہاں روشنی ملے گی جہاں ملیں گے بتوں کے ہونٹوں پہ یوں تو گہری ہنسی ملے گی مگر بہ باطن خلوص و شائستگی میں واضح کمی ملے گی اسی سمے ہم نے ان کو ٹوکا تھا باغباں جب یہ کہہ رہے تھے بہار آتے ہی جی اٹھے گا چمن ...

مزید پڑھیے

کبھی تلاش نہ ضائع نہ رائیگاں ہوگی

کبھی تلاش نہ ضائع نہ رائیگاں ہوگی اگر ہوئی بھی تو از راہ امتحاں ہوگی اگر ممانعت سیر گلستاں ہوگی تو پھر بہار ہمیں روکش خزاں ہوگی اصول یہ تو نہیں ہے کہ نامراد رہیں فضا کبھی نہ کبھی ہم پہ مہرباں ہوگی جہان درد میں انسانیت کے ناطے سے کوئی بیان کرے میری داستاں ہوگی مے نشاط و طرب جس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1081 سے 6203