اک مہکتے گلاب جیسا ہے
اک مہکتے گلاب جیسا ہے خوبصورت سے خواب جیسا ہے میں اسے پڑھتی ہوں محبت سے اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے بے یقینی ہی بے یقینی ہے ہر سمندر سراب جیسا ہے میں بھٹکتی ہوں کیوں اندھیروں میں وہ اگر آفتاب جیسا ہے ڈوبتی جائے زیست کی ناؤ ہجر لمحہ چناب جیسا ہے میں حقائق بیان کر دوں گی یہ گنہ بھی ...