یہ تو سوچا ہی نہیں اس کو جدا کرتے ہوئے
یہ تو سوچا ہی نہیں اس کو جدا کرتے ہوئے چن لیا ہے غم بھی خوشیوں کو رہا کرتے ہوئے جن چراغوں پر بھروسہ تھا انھوں نے آخرش سازشیں کر لیں ہواؤں سے دغا کرتے ہوئے آنکھ کے صندوقچے میں بند ہے اک سیل درد ڈر رہی ہوں قفل ان پلکوں کے وا کرتے ہوئے جانتی تھی کب بھٹکتی ہی رہے گی در بہ در ہم سفر ...