قومی زبان

یہ تو سوچا ہی نہیں اس کو جدا کرتے ہوئے

یہ تو سوچا ہی نہیں اس کو جدا کرتے ہوئے چن لیا ہے غم بھی خوشیوں کو رہا کرتے ہوئے جن چراغوں پر بھروسہ تھا انھوں نے آخرش سازشیں کر لیں ہواؤں سے دغا کرتے ہوئے آنکھ کے صندوقچے میں بند ہے اک سیل درد ڈر رہی ہوں قفل ان پلکوں کے وا کرتے ہوئے جانتی تھی کب بھٹکتی ہی رہے گی در بہ در ہم سفر ...

مزید پڑھیے

اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے

اسی کے قرب میں رہ کر ہری بھری ہوئی ہے سہارے پیڑ کے یہ بیل جو کھڑی ہوئی ہے ابھی سے چھوٹی ہوئی جا رہی ہیں دیواریں ابھی تو بیٹی ذرا سی مری بڑی ہوئی ہے بنا کے گھونسلہ چڑیا شجر کی بانہوں میں نہ جانے کس لیے آندھی سے ڈری ہوئی ہے ابھی تو پہلے سفر کی تھکن ہے پاؤں میں کہ پھر سے جوتی پہ ...

مزید پڑھیے

ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں

ہم اگر سچ کے انہیں قصے سنانے لگ جائیں لوگ تو پھر ہمیں محفل سے اٹھانے لگ جائیں یاد بھی آج نہیں ٹھیک طرح سے جو شخص ہم اسے بھولنا چاہیں تو زمانے لگ جائیں شام ہوتے ہی کوئی خوشبو دریچہ کھولے اور پھر بیتے ہوئے لمحے ستانے لگ جائیں خود چراغوں کو اندھیروں کی ضرورت ہے بہت روشنی ہو تو ...

مزید پڑھیے

یہ اپنے آپ پہ تعزیر کر رہی ہوں میں

یہ اپنے آپ پہ تعزیر کر رہی ہوں میں کہ اپنی سوچ کو زنجیر کر رہی ہوں میں ہواؤں سے بھی نبھانی ہے دوستی مجھ کو دئے کا لفظ بھی تحریر کر رہی ہوں میں نہ جانے کب سے بدن تھے ادھورے خوابوں کے تمھاری آنکھ میں تعبیر کر رہی ہوں میں دریچہ کھولے ہوئے رنگ اور خوشبو کا سہانی شام کو تصویر کر رہی ...

مزید پڑھیے

عشق کی بات تو پرانی ہے

عشق کی بات تو پرانی ہے روز لیکن نئی کہانی ہے پیار کے قصے میں ہیں دو ہی لفظ ایک ہے عشق اک جوانی ہے راہبر بن گیا ہے خود رہزن کس قدر دکھ بھری کہانی ہے تیرے خط عمر بھر کا حاصل ہیں چوڑی اک کانچ کی نشانی ہے ٹوٹتی سانس کی حکایت کیا جیسے صحرا میں بوند پانی ہے

مزید پڑھیے

مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا

مجھے مشکل میں یوں اندازۂ مشکل نہیں ہوتا کبھی میں کثرت افکار سے بد دل نہیں ہوتا اگر ہونا پڑے منت کش امواج بھی مجھ کو تو پھر میری خودی کو کچھ غم ساحل نہیں ہوتا نہیں کچھ پاس غیرت جس کو اس کا ذکر ہی کیا ہے جو غیرت مند ہے وہ در بدر سائل نہیں ہوتا جھکا کرتی ہیں وہ شاخیں جو ہوتی ہیں ثمر ...

مزید پڑھیے

بربادیوں کا اپنی گلہ کیا کریں گے ہم

بربادیوں کا اپنی گلہ کیا کریں گے ہم آئے گی ان کی یاد تو رویا کریں گے ہم ہم زندگی سے اپنی بچھڑ کر بھی جی رہے کیا خاک اب قضا کی تمنا کریں گے ہم سب کچھ انہیں دیا جو ہمیں کچھ نہ دے سکے اے حاصل خلوص بتا کیا کریں گے ہم تھی جن سے کچھ امید وفا وہ بدل گئے ہرگز نہ اب کسی کی تمنا کریں گے ...

مزید پڑھیے

جگر کے خون سے روشن گو یہ چراغ رہا

جگر کے خون سے روشن گو یہ چراغ رہا مثال ماہ چمکتا تو دل کا داغ رہا بدل گیا ہے زمانہ چلی وہ باد سموم نہ گل رہے نہ وہ بلبل رہی نہ باغ رہا حضور حسن سے خوشیاں نہ مل سکیں نہ سہی متاع غم سے تو صد شکر با فراغ رہا وہ ڈال دی غلط انداز اک نظر تو نے کہ میں زمیں پہ رہا عرش پر دماغ رہا نہ ہوگی ...

مزید پڑھیے

کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم

کچھ بھی نہ اب کہیں گے قفس میں زباں سے ہم صیاد کو رلائیں گے آہ و فغاں سے ہم مایوسیوں کے شہر میں لگتا نہیں ہے دل لے جائیں اپنے دل کو کہاں اس جہاں سے ہم گلشن جہاں جہاں ہیں وہیں بجلیاں بھی ہیں جائیں نکل کے دور کہاں آسماں سے ہم امشب مزاج یار میں کچھ برہمی سی ہے گزرے ہیں بار بار اسی ...

مزید پڑھیے

لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے

لوٹ آئے گا کسی شام یہی لگتا ہے جگمگائیں گے در و بام یہی لگتا ہے زیست کی راہ میں تنہا جو بھٹکتی ہوں میں یہ وفاؤں کا ہے انعام یہی لگتا ہے ایک مدت سے مسلسل ہوں سفر میں لیکن منزل شوق ہے دو گام یہی لگتا ہے اک کلی بر سر پیکار خزاؤں سے ہے یہ نہیں واقف انجام یہی لگتا ہے میرے آنے کی خبر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1076 سے 6203