کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و ادا کاری ہے
کچھ تغافل ہے تو کچھ ناز و ادا کاری ہے قہر کا قہر ہے دل داری کی دل داری ہے التفات نگہ ناز سے بچ کر رہنا جذبۂ عشق ترے قتل کی تیاری ہے شفقتیں زندہ ہیں اخلاص کی بنیادوں پر اب بھی کچھ لوگوں میں پہلے سی رواداری ہے یہی تہذیب تو ورثے میں ملی ہے مجھ کو تم انا سمجھے ہو جس کو مری خودداری ...