قومی زبان

مرے حق میں کوئی ایسی دعا کر

مرے حق میں کوئی ایسی دعا کر میں زندہ رہ سکوں تجھ کو بھلا کر فسردہ ہوں تجھے کھو کر کہ جیسے کوئی بچہ قلم تختی گنوا کر یہاں سورج سے خالی دن ہیں سارے کہا تو تھا تجھے روشن دیا کر بھلانے کی میں کوشش کر رہا ہوں تری تصویر کمرے میں سجا کر ہوا محروم میں شمس و قمر سے گھنا اک پیڑ آنگن میں ...

مزید پڑھیے

ہر ایک شخص کو کم ہی سمجھ میں آتا ہوں

ہر ایک شخص کو کم ہی سمجھ میں آتا ہوں جو جانتا ہے اسی کی سمجھ میں آتا ہوں نہ آؤں تو میں سمجھ میں کبھی نہیں آتا سمجھ میں آؤں تو فوری سمجھ میں آتا ہوں تجھے جو مجھ سے شکایت ہے وہ محبت ہے اسی لیے تو میں تیری سمجھ میں آتا ہوں جو تشنہ کام نظر بھر کے دیکھتے ہیں انہیں شراب اور صراحی سمجھ ...

مزید پڑھیے

عجیب شام تھی جب لوٹ کر میں گھر آیا

عجیب شام تھی جب لوٹ کر میں گھر آیا کوئی چراغ لیے منتظر نظر آیا دعا کو ہاتھ اٹھائے ہی تھے بہ وقت سحر کہ اک ستارا مرے ہاتھ پر اتر آیا تمام عمر ترے غم کی آبیاری کی تو شاخ جاں میں گل تازہ کا ثمر آیا پھر ایک شام در دل پہ دستکیں جاگیں اور ایک خواب کے ہم راہ نامہ بر آیا گلے سے لگ کے مرے ...

مزید پڑھیے

سفر میں گرد چھٹی راستہ دکھائی دیا

سفر میں گرد چھٹی راستہ دکھائی دیا اور اس کے بعد مجھے دوسرا دکھائی دیا زبان حرف سے محروم ہو گئی ہے مری بتاؤں کیسے مجھے اور کیا دکھائی دیا مرے ہی خواب تمنا کی لو میں جلتے رہے مرا ہی عکس سر آئینہ دکھائی دیا نکل کے آپ سے باہر دکھائی کچھ نہ دیا دکھائی کچھ نہ دیا تو خدا دکھائی ...

مزید پڑھیے

چمن کو پھول وطن کو نئی بہار ملے

چمن کو پھول وطن کو نئی بہار ملے ہمیں بھی دامن صد چاک و تار تار ملے خزاں میں ہم نے بہاروں کے گیت گائے تھے ہمیں بہار گلستاں پہ اختیار ملے یہی ہے آمد فصل بہار کا حاصل تمام پھول گلستاں میں دل فگار ملے جنہیں غرور تھا دنیا میں کج کلاہی کا فراز دار پہ ہم کو وہ تاجدار ملے شبانہؔ ہم بھی ...

مزید پڑھیے

وہم کی پرچھائیوں سے دل کو بہلاتے نہیں

وہم کی پرچھائیوں سے دل کو بہلاتے نہیں اہل دانش اس فریب شوق میں آتے نہیں مضطرب رکھتی ہے ہر لمحہ سفر کی آرزو ہم وہ راہی ہیں جو منزل پر سکوں پاتے نہیں آبگینوں کی طرح ان کی حفاظت فرض ہے ٹوٹ جاتے ہیں جو رشتے پھر نمو پاتے نہیں چھوڑ کر اک تیرے در کو در بہ در جائیں تو کیوں ہر کسی کے ...

مزید پڑھیے

حسرت تعمیر

یہ دنیا پھول پتھر آگ مٹی ریت کے تودوں کا مسکن ہے پہاڑوں کی چٹانوں اور ڈھلانوں تیز رو دریاؤں اور چشموں کا منظر ہے یہ دنیا ننھے منے چاند تاروں کا ہے گہوارہ جو مستقبل کی نورانی فضاؤں کی امانت ہیں یہ دنیا علم و فن سائنس اور تہذیب کی عظمت کا مظہر ہے یہ دنیا خوب صورت ہے بہت ہی خوب صورت ...

مزید پڑھیے

دھوپ نگر

دھوپ نگر کے باسی ہیں ہم دھوپ کی پہرے داری ہے دھوپ نگر میں دھوپ کے خیمے دھوپ کی ہی گل کاری ہے دھوپ فلک پر دھوپ فضا میں دھوپ زمیں پر رقصاں ہے دھوپ ہواؤں کا پیراہن ہر سو دھوپ پرافشاں ہے دھوپ کی شاخیں دھوپ کے پتے دھوپ کی کلیاں دھوپ کے پھول دھوپ کی یہ نگری ہے انوکھی دھوپ زدہ ہیں اس کے ...

مزید پڑھیے

اپنی تخلیق میں اپنا ہی ہنر جاگتا ہے

اپنی تخلیق میں اپنا ہی ہنر جاگتا ہے وقت لگتا ہے مگر سچ کا اثر جاتا ہے بات چھوٹی ہی اگر ڈھنگ سے کہہ دے کوئی سننے والے میں تجسس کا اثر جاگتا ہے شیشہ پیکر ہو تو پتھر سے نبھائے رکھو یہ سلیقہ جسے آتا ہے وہ گھر جاگتا ہے زندگی نام ہے جینے کا تو زندہ سب ہیں پیار ملتا ہے تو خوابوں کا شجر ...

مزید پڑھیے

آگ سینے کی بجھا لوں پانی

آگ سینے کی بجھا لوں پانی سرخ آنکھیں ہیں بہا لوں پانی خرچ کم کم ہو سنبھالوں پانی ہو سکے جتنا بچا لوں پانی عنقا ہونے لگا ہے اب یہ بھی سب کی نظروں سے چھپا لوں پانی کل سے آیا نہیں ہے ایسا ہو دے کے آواز بلا لوں پانی قطرہ قطرہ جو بھر کے رکھا تھا برتنوں سے وہ نکالوں پانی بجلی غائب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1071 سے 6203