گو کم سخن ہے بھری محفلوں میں تنہا ہے
گو کم سخن ہے بھری محفلوں میں تنہا ہے وہ اپنے آپ سے ملتا ہے بات کرتا ہے جو بات دونوں میں ہونی تھی ہو نہ پائی کبھی سو گھر میں آج بھی تنہائیوں کا ڈیرا ہے ہر ایک حال میں رہتے ہیں عشق والے خوش وصال و ہجر کے مابین ایسا رشتہ ہے کھڑا ہے صحن میں تنہا جو ٹنڈمنڈ درخت نہ جانے اس کو پرندوں پہ ...