قومی زبان

گو کم سخن ہے بھری محفلوں میں تنہا ہے

گو کم سخن ہے بھری محفلوں میں تنہا ہے وہ اپنے آپ سے ملتا ہے بات کرتا ہے جو بات دونوں میں ہونی تھی ہو نہ پائی کبھی سو گھر میں آج بھی تنہائیوں کا ڈیرا ہے ہر ایک حال میں رہتے ہیں عشق والے خوش وصال و ہجر کے مابین ایسا رشتہ ہے کھڑا ہے صحن میں تنہا جو ٹنڈمنڈ درخت نہ جانے اس کو پرندوں پہ ...

مزید پڑھیے

ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا

ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام ایک بار اور ذرا ان کی وضاحت کرنا سب کے ہاتھوں میں یہ اعجاز مسیحائی کہاں ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا یہ تو ایسا ہے کہ اس راہ میں چل پڑیے عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت ...

مزید پڑھیے

بے خبر کچھ نہ جیتے جی سمجھے

بے خبر کچھ نہ جیتے جی سمجھے جاں سے گزری تو زندگی سمجھے اب بہت دیر ہو چکی چھوڑو مرتے مرتے بھی کیا کوئی سمجھے اک ذرا آئینہ دکھایا تھا آپ جس کو کھری کھری سمجھے دھن کے پکے ہیں کر ہی جائیں گے جو بھی اس دل نے ٹھان لی سمجھیں ہم تھے خوف فساد خلق سے چپ لوگ احساس برتری سمجھے او میرا حال ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہیں نہ ٹھہر جاتے ہیں

دیکھتے ہیں نہ ٹھہر جاتے ہیں لوگ رستے سے گزر جاتے ہیں کتنے دریا ہیں مگر آخر میں اک سمندر میں اتر جاتے ہیں دیکھنے کون ہمیں آتا ہے ڈھونڈنے کس کو ادھر جاتے ہیں دل کی وحشت بھی عجب وحشت ہے ساتھ رہتی ہے جدھر جاتے ہیں منزلیں گرد میں کھو جاتی ہیں راستے دھوپ سے بھر جاتے ہیں دن نکلتا ہے ...

مزید پڑھیے

سرخ سنہری سبز اور دھانی ہوتی ہے

سرخ سنہری سبز اور دھانی ہوتی ہے جھیل کنارے شام سہانی ہوتی ہے خود سے جب بھی آنکھ ملانی ہوتی ہے آنکھ تو جیسے پانی پانی ہوتی ہے رقص کرے اور آنکھ میں پانی بھر آئے ہر لڑکی تھوڑی دیوانی ہوتی ہے کتنی بوجھل ہے خفت کی گٹھری بھی جو مجھ کو ہر روز اٹھانی ہوتی ہے وہ کب بنا بتائے وعدہ توڑ ...

مزید پڑھیے

ابر ہی ابر ہے برستا نئیں

ابر ہی ابر ہے برستا نئیں اب کے ساون تمہارے جیسا نئیں خواب اور سینت کر رکھیں آنکھیں ان سے آنسو تو اک سنبھلتا نئیں گھومتی ہے زمین گرد مرے پاؤں اٹھتے ہیں رقص ہوتا نئیں نوچ ڈالے ہیں اپنے پر میں نے میں بھی انسان ہوں فرشتہ نئیں کیسا ہرجائی ہو گیا آنسو میرا دامن ہے اور گیلا نئیں کب ...

مزید پڑھیے

ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ

ایک منظر میں کئی بار اسے دیکھ کے دیکھ دیکھنا ہے تو لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ کوئی سورج سے ملا پاتا ہے کب تک آنکھیں پھر بھی اک بار لگاتار اسے دیکھ کے دیکھ یہ کھلی آنکھ کا منظر ہی نہیں ہے مری جاں بند آنکھوں سے بھی اک بار اسے دیکھ کے دیکھ برف آنکھوں میں لئے دور کھڑے شخص کی خیر کیسے ...

مزید پڑھیے

ایک بس تو نہیں ملتا ہے مجھے کھونے کو

ایک بس تو نہیں ملتا ہے مجھے کھونے کو ورنہ کیا کچھ نہیں ہوتا ہے یہاں ہونے کو دیکھ بے درد زمانے کی زبوں حالی دیکھ ایک شانہ نہیں ملتا ہے جہاں رونے کو رات بھر خود سے گلے مل کے بہت روتی ہوں جھوٹے منہ بھی نہیں کہتا ہے کوئی سونے کو کتنی میلی ہے ہوس ناک نگاہوں کی چمک کہ سمندر بھی بہت کم ...

مزید پڑھیے

رنج و الم کے باب کا عنوان عشق ہے

رنج و الم کے باب کا عنوان عشق ہے ایثار کے نصاب کا عنوان عشق ہے اغیار کا خیال جو دل سے نکال دے حرمت کے اس سراب کا عنوان عشق ہے محسوس آفتاب کی جس سے نہ ہو تپش گیسو کے اس سحاب کا عنوان عشق ہے ہر دم تیار ہے جو کرائے کو سر قلم ایسے جری شباب کا عنوان عشق ہے انجام گرچہ طور ہے خواہش کے ...

مزید پڑھیے

وقت نے اک نظر جو ڈالی ہے

وقت نے اک نظر جو ڈالی ہے پھول کی تازگی چرا لی ہے آج بھی اس نے شام سے پہلے دھوپ دیوار سے اٹھا لی ہے اب ہوا چیختی پھرے شب بھر شہر تو شام ہی سے خالی ہے موت بھی اس لیے نہیں آتی زندگی زندگی سے خالی ہے ہے ملاقات اس سے خوابوں میں اور یہ تصویر بھی خیالی ہے ہم سفر بھی نیا بنا لیں گے رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1070 سے 6203