قومی زبان

تنہائی میرا لباس ہے

رشتے میرے من کی اترن ہے قربتوں کا لمس دائمی نہیں تنہائی کا لمس سچا ہے پر من پگلا ہے بچے جیسے روتا ہے محبت پہننا چاہتا ہے دل کی محبت رات کو سڑکوں پہ بکتے غباروں جیسے ہوتی ہے جس کی گیس آدھی رات کو گھر پہنچنے تک نکل جاتی ہے جانتی ہوں پر من پگلا ہے بچے جیسے روتا ہے

مزید پڑھیے

نظم

کرفیو زدہ شہر کی بیوہ سڑکیں آنکھیں کھولتی ہیں نگر کے گربھ میں کیا دیکھتی ہیں نہیں معلوم حیرت زدہ ہیں دھرتی شاید گربھ دھارن کر رہی ہے چاند چھپ کر کھڑکیوں سے جھانکتا ہے آوارہ کتے ٹولیوں میں بھونکتے ہیں زندگی برہنہ سو رہی ہے میں رات سی کٹ رہی ہوں پوری وادی میں کرفیو نافذ ہے

مزید پڑھیے

نظم

تمہاری رضا کو لوگ میری خطا کہتے ہیں میرے ہاتھوں سے وہ پوشاک چھین لی گئی جو میں پہننے والی تھی اور پہنی ہوئی پوشاک میں اتار چکی تھی میرے سارے آنے والے موسم منسوخ کر دیے گئے تھے میں نے کوئی احتجاج نہیں کیا اپنا سر تسلیم خم کر دیا تھا مجھے اتنی ایذا دی گئی کہ ارمانوں کا ریشم کاتنا اب ...

مزید پڑھیے

کن سوچوں میں ڈوبے ہو

ہاں میں اسی پانی کی بوند ہوں جو تمہارے کمرے کے کونے میں پڑی صراحی میں رہتا تھا آخر کار تمہارا سمندر نہ جانے کتنے دریاؤں کا پیاسا تھا اور جگ جگ پھرتا تھا میں ہر شام صراحی کی حدیں پار کرتی تمہارے ہونٹ طراوت کے ذائقے لیتے جگ جگ پھرنے کی تھکن مٹ جاتی پر ہر جگ سے لایا گیا گیان تمہیں ...

مزید پڑھیے

نظم

سچ سے گھر نہیں بنتے میری لکڑی سچ تھی گھر نہیں کشتی بنی سچ کی کشتی کو کھیتی ہوئی میری روح نہ جانے کن کن پانیوں سے گزر رہی ہے پانی کی شکل مقرر نہیں مرنے کا وقت مقرر ہوتا ہے کشتی کو میری روح سے زیادہ پانی موافق ہے دیو دار کی عمر پانی میں بڑھ جاتی ہے اور دنیا میں ڈھونگ نہ رچانے والے کی ...

مزید پڑھیے

نظم

اس کو تاریخ سے آزادی دی گئی تھی وہ اتنا چلی کہ اس کا کوئی بھی ناخن نہیں بچا بنا ناخن کی انگلیاں بھدی ہی نہیں بیکار ہو جاتی ہیں پھر وہ بہنے لگی اور بہتی رہی اپنی اننت دھارا میں تاریخ بہاؤ کی خوبصورتی کیا سمجھتی باندھ باندھے بنا یہ سوچے کہ سڑاندھ پیدا ہو جانے پر دم گھٹ سکتا ہے تاریخ ...

مزید پڑھیے

نظم

تحفہ میں ملی پینٹنگ میں چاروں موسم سنہری رنگ سے کھینچے گئے ہیں اور یوں ہی ملی زندگی میں صرف ایک موسم آنسوؤں کے رنگ سے کھینچا گیا ہے دونوں قید ہیں ایک کمرے میں پینٹنگ سالم ہے اور زندگی سے پوچھتی ہے تیرے باقی موسم کہاں ہیں زندگی پینٹنگ سے کہتی ہے سنو مجھے سوچو نہیں الجھ جاؤ گی میں ...

مزید پڑھیے

نظم

مجھے فرار بھری جوتیوں نے پہن لیا اور ایک سفر ایجاد کیا میرے ساتھ میری خاموشی ہے اک بے سوادی ہے باقی سب خواب عشق وفا نیندیں سب کچھ جاگیر داری کے کونے کھدروں میں پڑے ہوئے ہیں خاموشی کے دامن سے وفا کا دامن بڑا ہوتا ہے پیروں کے چھالے پڑنے پر وفا کی طلب بڑھتی ہے میں مور کی مانند اپنے ...

مزید پڑھیے

میں

اور تنہائی سو رہے تھے تمہارا خط آیا ایک بھاری پاؤں تنہائی کے سینے پر پڑا چیخ پڑی اور لپٹ گئی مجھ سے اس کی باہوں کی قید میں تمہارا خط پڑھا پھر پڑھا بار بار پڑھا دل دھڑکا وہ دیکھتی تو ڈر جاتی من میں شور سا اٹھا وہ سنتی تو مر جاتی میں نے اس کا چہرہ تکیے سے چھپا لیا اس کی آنکھ کھلی خفا ...

مزید پڑھیے

نظم

میری لکنت اس قلم کی زبان ہے جس کو تمہاری انا نے تراشا اور یہ جو گونج ہے میرے وجود کے ٹوٹنے کی آواز ہے کوئی فیمینزم نہیں بس بے حیثیتی ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 1043 سے 6203