نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں
نقش کرتا رم و رفتار عناں گیر کو میں کیسا چھنکاتا ہوا چلتا ہوں زنجیر کو میں غیب و غفلت کا ادھر جشن منا لوں تو چلوں ابھی تاخیر سمجھتا نہیں تاخیر کو میں خامشی میری کچھ ایسی ہدف آگاہ نہیں بات بے بات چلا دیتا ہوں اس تیر کو میں ساتواں دن مگر اچھا نہیں گزرا میرا چھ دن الٹاتا رہا پردۂ ...