قومی زبان

خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں

خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں سلسلہ جنبان شور خانۂ زنجیر ہوں خاکساری کے ابھی تو درپئے تدبیر ہوں کشتہ ہو کر خاک جب ہوں تب کبھی اکسیر ہوں ضعف نے گو کر دیا ہے جوں کماں گوشہ نشیں اب بھی چلنے کو جو پوچھو تو سراسر تیر ہوں رشتۂ الفت نے باندھے ہیں پر پرواز آہ دام حیرت میں برنگ ...

مزید پڑھیے

خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپنا

خال رخ اس نے دکھایا نہ دوبارا اپنا چندے اک اور ہے گردش میں ستارا اپنا دل و دین و خرد و صبر کجا کو آرام گھر لٹا ہم نے دیا عشق میں سارا اپنا بولی صیاد سے بلبل کہ نہ کر گل سے جدا تختۂ باغ ہے یہ تخت ہزارا اپنا سیر کی ہم نے جو کل محفل خاموشاں کی نہ تو بیگانہ ہی بولا نہ پکارا اپنا مثل ...

مزید پڑھیے

ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کا

ہار بنا ان پارۂ دل کا مانگ نہ گجرا پھولوں کا اور کہاں سے عاشق مفلس لائے یہ گہنہ پھولوں کا دیکھے ہے وہ صحن چمن میں جا کے تماشا پھولوں کا داغوں سے بن جائے یہ سینہ کاش کہ تختہ پھولوں کا کاش دل صد چاک یہ بن کر بیچنے والا پھولوں کا کوئے بتاں میں جا کے پکارے لو کوئی گجرا پھولوں کا حرف ...

مزید پڑھیے

اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا

اس دل کو ہمکنار کیا ہم نے کیا کیا دشمن کو دوست دار کیا ہم نے کیا کیا رہتا یہی ہے دل میں شش و پنج یار سے آئینہ کیوں دو چار کیا ہم نے کیا کیا مٹھی بھرم کی غنچہ صفت اس چمن میں کھول اسرار آشکار کیا ہم نے کیا کیا در پردہ دوستی ہوئی ہم اپنے حق میں آہ مطرب پسر کو یار کیا ہم نے کیا ...

مزید پڑھیے

میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھول

میری تربت پر چڑھانے ڈھونڈتا ہے کس کے پھول تیری آنکھوں کا ہوں کشتہ رکھ دے دو نرگس کے پھول ایک دن ہو جاؤں گا تیرے گلے کا ہار میں سونگھنے کو مت لیا کر ہاتھ میں جس تس کے پھول بستر گل پر جو تو نے کروٹیں لیں رات کو عطر آگیں ہو گئے اے گل بدن سب پس کے پھول وصل مہوش کا دلا مژدہ ہمیں دے ہے ...

مزید پڑھیے

دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں

دم لے اے کوہ کن اب تیشہ زنی خوب نہیں جان شیریں کو نہ کھو کوہ کنی خوب نہیں ٹک تو ہنس بول یہ غنچہ دہنی خوب نہیں رشک گل اتنی بھی ہاں کم سخنی خوب نہیں سر پہ قمری کو بٹھایا تو ہے تو نے پر سرو تیری آزاد وشی بے کفنی خوب نہیں قابل چشم نمائی ہے تو اے طفل سرشک ابتر اتنا بھی نہ ہو ناشدنی خوب ...

مزید پڑھیے

یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج

یاں سے دیں گے نہ تم کو جانے آج لاکھ اب تم کرو بہانے آج بن لیے آج تیرا بوسۂ لب کب بھلا دوں گا تجھ کو جانے آج بس یہ مجھ سے نہ تم کرو کل کل اتنی ہے کل کہاں کہ جانے آج داغ جوں لالہ کھا چمن میں نسیم میں بھی آیا ہوں گل کھلانے آج لگ گیا خاک ہو کے جسم نصیرؔ کوچۂ یار میں ٹھکانے آج

مزید پڑھیے

اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں

اٹھتی گھٹا ہے کس طرح بولے وہ زلف اٹھا کہ یوں برق چمکتی کیونکہ ہے ہنس کے یہ پھر کہا کہ یوں چوری سے اس کے پاؤں تک پہنچی تھی شب کو کس طرح آ کہیں ہاتھ مت بندھا کہہ دے اب اے حنا کہ یوں دن کو فلک پہ کہکشاں نکلے ہے کیونکہ غیر شب چین جبیں دکھا مجھے اس نے دیا بتا کہ یوں جیسے کہا کہ عاشقاں ...

مزید پڑھیے

جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصل

جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصل کہ دل کو لو لگ رہی یہی ہے چراغ روشن مراد حاصل مدام کیفیت اپنے دل میں مئے محبت کے نشے کی ہے کہ ساقی اس آفتاب سے ہے دماغ روشن مراد حاصل اسیر کنج قفس تو ہو تم یہ عندلیبو سدا یہ بولو شتاب یارب چراغ گل سے ہو باغ روشن مراد حاصل لگے نہ کیوں ...

مزید پڑھیے

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا

کیسا کیسا در پس دیوار کرنا پڑ گیا گھر کے اندر اور گھر تیار کرنا پڑ گیا اس کنارے نے کہا کیا کیا کہوں کیا بات تھی بات ایسی تھی کہ دریا پار کرنا پڑ گیا پھر بساط خواب اٹھائی اور اوجھل ہو گئے شام کا منظر ہمیں ہموار کرنا پڑ گیا اک ذرا سا راستہ مانگا تھا ویرانی نے کیا اپنا سارا گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1020 سے 6203