خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں
خاندان قیس کا میں تو سدا سے پیر ہوں سلسلہ جنبان شور خانۂ زنجیر ہوں خاکساری کے ابھی تو درپئے تدبیر ہوں کشتہ ہو کر خاک جب ہوں تب کبھی اکسیر ہوں ضعف نے گو کر دیا ہے جوں کماں گوشہ نشیں اب بھی چلنے کو جو پوچھو تو سراسر تیر ہوں رشتۂ الفت نے باندھے ہیں پر پرواز آہ دام حیرت میں برنگ ...