خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں
خود میں اتریں تو پلٹ کر واپس آ سکتے نہیں ورنہ کیا ہم اپنی گہرائی کو پا سکتے نہیں خوشبوئیں کپڑوں میں نادیدہ چمن زاروں کی ہیں ہم کہاں سے ہو کے آئے ہیں بتا سکتے نہیں ہم نے ان گلیوں میں چلنے کی رعایت لی ہے بس دیکھ سکتے ہیں ہمیں یہ گھر بسا سکتے نہیں یہ بھرم منظر کا بھی ہے اور پس منظر ...