قومی زبان

تیری سنگ

زلفوں کی خوشبو اندر تک اتر رہی ہے ہوائیں سرسرا رہی ہیں ہڈیوں ہی کوئی راگ بج رہا ہے یہ طبلہ خاموش ہے بہت ساون کی پھوہاروں کی تھاپ تیز ہے تم آؤ میرے سنگیت کو سنگت دینے کے لئے

مزید پڑھیے

معدوم ہوتی خوشبو

اب کبھی اچانک سامنا ہوتا ہے تو کھنکتی مہکتی یادوں کے دھندلکے وہ سارے چمبن وہ سارے لمس وہ ساری خوشبوئیں بکھرنے لگتی ہیں ہم حیرت زدہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ اب کیا باقی بچا ہے اس بے نام شناخت کے جو ہم دونوں کے بیچ سے دھیرے دھیرے معدوم ہوتی جا رہی ہے

مزید پڑھیے

دل سے

دل سے ہزار خیال نکلتے جب سے تمہیں دیکھا ہے تم سے پہلے زندگی میں کوئی چمک نہیں تھی اب ہاتھ بھی دعا کو اٹھتے ہیں اب نماز بھی میں پڑھتا ہوں تم سے پہلے میں ایسا نہیں تھا تم کو دیکھا تو دست سوال ہوا میں

مزید پڑھیے

دامن میں آنسو مت بونا

دامن میں آنسو مت بونا ہاتھ آئے موتی کیا کھونا بھیگے کاغذ کی تحریر میں دھوپ نکل آئے تو دھونا چادر تو سرکاؤ سر سے آنگن میں بکھرا ہے سونا یہ محفل ہے ہنس لو گا لو تنہائی میں کھل کر رونا پیچھے مڑ کر دیکھنے والے پتھر میں تبدیل نہ ہونا اس سے کچھ کہنے کا مطلب آنسو میں آواز بھگونا

مزید پڑھیے

میرؔ و غالبؔ کی طرح سحر بیاں سے نکلے

میرؔ و غالبؔ کی طرح سحر بیاں سے نکلے شعر ایسا بھی کوئی دل سے زباں سے نکلے اشک سے بھیگے ہوئے میں مرے الفاظ غزل آگ سے کوئی لپک جیسے دھواں سے نکلے کوئی سیلاب بھی روکے سے نہیں رکتا ہے راستہ تھا ہی نہیں پھر بھی وہاں سے نکلے

مزید پڑھیے

جو میں نے سوچا تھا

میں نے سوچا تھا پہلے پھر کہا تھا جو کہا تھا شاید وہی سوچا تھا جو سوچا تھا وہی کچھ کہا تھا میں نے جس نے سنا اس نے وہی سمجھا جو میں نے کہا تھا لیکن سننے والے کے لئے میری کہی گئی بات بدل گئی تھی جو سوچا تھا میں نے ویسا کچھ بھی نہیں یہی تھا اس تک

مزید پڑھیے

فریاد

سنو درزی ٹانک دو گے جسم کے اس حصے کو جس پہ موسم کا سب سے گہرا اتر ہوتا ہے سمندر ان دنوں بے حد یہاں یہ ہے سمندر کے یار کون ہے

مزید پڑھیے

میرا اس کا ساتھ

میرے بستر میں دیپک کی طرح میرے ساتھ کون جلتا ہے کون ہے جو میرے ساتھ دور بہت دور تک جلتا ہے میرے غموں کے ساتھ میری ہڈیوں میں اترتا ہے کون ہے گئے رات جو میرے شانوں پہ سر رکھ مجھ کو بڑے پیار سے کہتا ہے ٹھیک ہے سب ٹھیک ہو جائے گا کیونکہ تم اکیلے تو نہیں ہو

مزید پڑھیے

میں اور تم

تم تھی مجھ میں ہی میرے اندر تمہارے ہونے نے ہی مجھے تنہائی کا احساس دیا تم مجھ میں سے ہی ہو تمہیں میں نے جنم دیا ہے اپنے ہی جسم کے حصے سے اور تمہارے ہی جسم سے پیدا کیا میں نے اپنے روپ کو

مزید پڑھیے

لوگ ہیں منتظر نور سحر مدت سے

لوگ ہیں منتظر نور سحر مدت سے میں بھی بیٹھا ہوں سر راہ گزر مدت سے مدتوں دار و رسن زیست کا عنوان رہے مورد سنگ ہیں اس شہر میں سر مدت سے جس کی منزل کا نشاں تک بھی نہیں نظروں میں کب سے اس راہ میں ہیں محو سفر مدت سے وہ کوئی دشت و بیاباں ہو کہ آبادی ہو بن چکے ہیں سبھی شعلوں کے نگر مدت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1002 سے 6203