قومی زبان

صدیوں تمہاری یاد میں شمعیں جلائیں گے

صدیوں تمہاری یاد میں شمعیں جلائیں گے پل بھر کے بعد پھر بھی تمہیں بھول جائیں گے تعمیر مدعا طلب ذوق ہو گئی بنیاد درد ہوگی تو دیوار اٹھائیں گے اب کاہش جنوں کا کوئی سلسلہ نہیں ہاں بے دلی سے دست دعا بھی اٹھائیں گے اے کاروان تیز قدم ماندگاں کو دیکھ آنکھوں میں کیا غبار سر رہ سجائیں ...

مزید پڑھیے

یہ کس کے سوز کا ہے بزم جاں میں انتظار اے دل (ردیف .. ن)

یہ کس کے سوز کا ہے بزم جاں میں انتظار اے دل کہ آہیں آج سوئے عالم بالا نہیں جاتیں امیدیں جب مری بڑھ آئیں تو ہنس کر لگے کہنے یہ برسوں قید دل میں رہ کے کیوں گھبرا نہیں جاتیں نہیں گستاخ آئینہ مقابل ہے کھڑا کوئی یہ حیراں ہے کہ کیوں آنکھیں تری شرما نہیں جاتیں کھڑا ہوں انتظار یار میں ...

مزید پڑھیے

کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو

کیوں مشت خاک پر کوئی دل داغ دار ہو مر کر بھی یہ ہوس کہ ہمارا مزار ہو بڑھ جائے غم کا سلسلہ کہسار کی طرح طولانی گر یہ زندگئ مستعار ہو اس صید گاہ میں وہی نکلے گا بچ کے صاف جو صید سب سے پہلے اجل کا شکار ہو اس بوالہوس کی موت کے قربان جائیے جو پھر دوبارہ جینے کا امیدوار ہو ہستی کا طوق ...

مزید پڑھیے

وادی سندھ

سندھ کی وادی پہ ہے کالی گھٹا چھائی ہوئی برقعہ اوڑھے اک دلہن بیٹھی ہے شرمائی ہوئی منتظر بارش کے ہیں مکی کے اور شالی کے کھیت تشنگی سے خوشہ کی صورت ہے مرجھائی ہوئی آج گاندر بل ہوا ہے اس کا منظور نظر اس کے سر پر کیا گھٹا پھرتی ہے منڈلائی ہوئی سندھ کے نالے کی آہوں کا دھواں شاید ...

مزید پڑھیے

شعرائے قوم سے خطاب

اے شاعران قوم زمانہ بدل گیا پر مثل زلف یار تمہارا نہ بل گیا پیٹو گے کب تلک سر رہ تم لکیر کو بجلی کی طرح سانپ تڑپ کر نکل گیا اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہوگا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا اک تم کہ جم گئے ہو جمادات کی طرح اک وہ کہ گویا تیر کماں سے نکل گیا ہاں ہاں سنبھالو قوم کو شاید ...

مزید پڑھیے

ہم خرابے میں بسر کر گئے خاموشی سے

ہم خرابے میں بسر کر گئے خاموشی سے حلقۂ موج میں گوہر گئے خاموشی سے ساعت وصل قیامت کی گھڑی ٹھہری تھی جسم خاموش تھے دل ڈر گئے خاموشی سے آزمائش تھی کڑی کوئے وفا میں کہ جہاں کج کلہ آئے سبک سر گئے خاموشی سے ہم ترے ہجر میں آوارہ سخن ہو نکلے زخم جو تو نے دیئے بھر گئے خاموشی سے شکوہ سنج ...

مزید پڑھیے

ہم نے تو یہی معرکہ مارا ہے سفر میں

ہم نے تو یہی معرکہ مارا ہے سفر میں منزل کی طرح بیٹھ گئے راہ گزر میں وہ شمع شب انجام کی صورت تو نہیں تھا اک پل میں شب نصف اتر آئی ہے گھر میں اے نالۂ دل دوز تڑپ اٹھی خموشی ہے مرگ تماشا کسی آباد نگر میں ہم خاک کے تودے پہ کھڑے پوچھ رہے ہیں کیا لطف ملا تم کو سمندر کے سفر میں ہم سایۂ ...

مزید پڑھیے

رنگوں لفظوں آوازوں سے سارے رشتے ٹوٹ گئے

رنگوں لفظوں آوازوں سے سارے رشتے ٹوٹ گئے سیل بلا میں دشت خلا کے کتنے کنارے ٹوٹ گئے گونگے بہرے لوگوں سے اب ساری عمر نباہنا ہے جینا مرنا ایک برابر کچے دھاگے ٹوٹ گئے دل کے گرد حصار کھنچا تو اس کا ملنا محال ہوا چاروں کھونٹ آوارہ پھرے جب پاؤں بھی اپنے ٹوٹ گئے کھنڈر کھنڈر سب آوازوں ...

مزید پڑھیے

شق عافیت کنار کنارے کو کر گئی

شق عافیت کنار کنارے کو کر گئی دریا کی موج سر کو پٹک کر گزر گئی تہمت کا سیل صبح کو اٹھنے لگا کہ شب دستک تھی ایک در پہ صدا در بدر گئی غارت گر سکوں تھیں نوا ہائے خون بلب جنگل کی شام شہر میں آئی تو ڈر گئی روتا پھرے گا رات کے رستوں پہ ماہتاب آغوش ارض خاک تو سورج سے بھر گئی آرام جاں ...

مزید پڑھیے

ریگ رواں پہ نقش کف پا نہ دیکھنا

ریگ رواں پہ نقش کف پا نہ دیکھنا آئینۂ ضمیر میں چہرا نہ دیکھنا بے صرفہ ہے لہو کی تمازت مرے لیے اسرار جسم و جاں کو برہنہ نہ دیکھنا جو آنسوؤں کے لعل و جواہر بکھیر دے اس ایک موج درد کو اٹھتا نہ دیکھنا راتوں کا چین دن کا سکوں ہو اگر عزیز چلتا ہے ساتھ ساتھ جو سایہ نہ دیکھنا ہے شب کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1003 سے 6203