رتبۂ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا
رتبۂ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا ہم نشیں ضبط سخن کا بھی اثر پہنچے گا بے صدارات سے عاجز ہے مرا دست جنوں کوئی دن تا بہ گریبان سحر پہنچے گا کھنچ کے رہ مجھ سے مگر ضبط کی تلقین نہ کر اب مری آہ سے تجھ کو نہ ضرر پہنچے گا باتوں باتوں میں سب احوال جدائی مت پوچھ کچھ کہوں گا تو ترے دل پہ ...