قومی زبان

رتبۂ‌ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا

رتبۂ‌ درد کو جب اپنا ہنر پہنچے گا ہم نشیں ضبط سخن کا بھی اثر پہنچے گا بے صدارات سے عاجز ہے مرا دست جنوں کوئی دن تا بہ گریبان سحر پہنچے گا کھنچ کے رہ مجھ سے مگر ضبط کی تلقین نہ کر اب مری آہ سے تجھ کو نہ ضرر پہنچے گا باتوں باتوں میں سب احوال جدائی مت پوچھ کچھ کہوں گا تو ترے دل پہ ...

مزید پڑھیے

بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم

بے سر و ساماں کچھ اپنی طبع سے ہیں گھر میں ہم شہر کہتے ہیں جسے ہیں اس کے پس منظر میں ہم شام ڈوبی پڑ رہے سورج کے در پر شب کی شب صبح بکھری چل پڑے خود کو لیے ٹھوکر میں ہم آگہی تو نے ہمیں کن وسعتوں میں گم کیا بے نشاں ہر ملک میں بے آسرا ہر گھر میں ہم اپنے ہی صحرا میں کھو جائیں گے اندازہ ...

مزید پڑھیے

اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلا

اب کہاں لے کے چھپیں عریاں بدن اور تن جلا دھوپ ایسی ہے کہ سائے سے بھی پیراہن جلا چھین لو احساس مجھ سے چھین لو میرا شعور اس گھٹا میں تن پھنکا اس روشنی سے من جلا زندگی دشت سراب اور سر پہ اک سورج محیط میں تو میں ہوں میرے سائے کا بھی سب تن من جلا کس صدا کی ضرب سے ٹوٹا سکوت سنگ دشت ایک ...

مزید پڑھیے

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم

دل پر وفا کا بوجھ اٹھاتے رہے ہیں ہم اپنا ہر امتیاز مٹاتے رہے ہیں ہم منہ پر جو یہ جلے ہوئے دامن کی راکھ ہے شعلوں میں زندگی کے نہاتے رہے ہیں ہم اتنا نہ کھل سکا کہ ہوا کس طرف کی ہے سارے جہاں کی خاک اڑاتے رہے ہیں ہم آنکھوں سے دل تک ایک جہان سکوت ہے سنتے ہیں اس دیار سے جاتے رہے ہیں ...

مزید پڑھیے

ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیا

ہجر و وصال یار کا موسم نکل گیا اے درد عشق جاگ زمانہ بدل گیا کب تک یہ روز حشر سن اے شام انتظار کیا رات اب نہ آئے گی سورج تو ڈھل گیا اب کے کہاں سے آئے ہو ساون کے بادلو دیکھو تو سارا باغ ہی برکھا سے جل گیا جاؤں کہاں کہ تاب نہیں عرض نغمہ کی پانی میں آگ لگ گئی پتھر پگھل گیا ساتوں سروں ...

مزید پڑھیے

یہ محشر سوز و ساز کیا ہے

یہ محشر سوز و ساز کیا ہے آخر مرا امتیاز کیا ہے دل محو صدائے درد کیوں ہے یہ عرض ہنر گداز کیا ہے مفہوم نوائے راز کیا تھا آواز شکست ساز کیا ہے ڈرتا ہوں کہ اپنا غم نہ ہو جائے اپنے سے یہ احتراز کیا ہے پا کر بھی تجھے میں سوچتا ہوں مٹنے کا مرے جواز کیا ہے اب تو جو ملا تو میں نہیں ...

مزید پڑھیے

شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھے

شام رکھتی ہے بہت درد سے بیتاب مجھے لے کے چھپ جا کہیں اے آرزوئے خواب مجھے اب میں اک موج شب تار ہوں ساحل ساحل راہ میں چھوڑ گیا ہے مرا مہتاب مجھے اب تک اک شمع سیہ پوش ہوں صحرا صحرا تجھ سے چھٹ کر نہ ملی رہ گزر خواب مجھے ساحل‌ آب و سراب ایک ہے منزل منزل تشنگی کرتی ہے سیراب نہ غرقاب ...

مزید پڑھیے

میرا شہر

جہاں میں رہتا ہوں وہاں سب رہتے ہیں میرے گھر کے قریب ہی ایک گدھا رہتا ہے جو بڑے خلوص سے ملتا ہے وہیں پہ ایک لومڑی بھی رہتی ہے جس کے ہر بول میں مکاری ہے وہیں پہ رہتے ہیں کوے گدھ الو سیار لکڑ بگھے اور پھاڑ کھانے والے شہر بھی اب میں سوچتا ہوں میں ان لوگوں کے بیچ رہتا ہوں یا یہ لوگ میرے ...

مزید پڑھیے

میری شاعری

ایک دفعہ جب راشن ختم ہوا تھا تو ردی نکالی تھی گھر سے کہ بیچ آئیں ہنس کے کہا تھا تم نے تب کہو تمہاری نظمیں بھی کیا ڈال دوں ان میں ان سے وزن بڑھ جائے گا میں نے کہا تھا کل جو وقت کرے گا وہ مت آج کرو آنکھیں تمہاری بھر آئیں ہوئی اور تم نے کہا تھا میں تو کہا وہ وقت بھی نہ کر پائے گا

مزید پڑھیے

سمندر کا راستہ

جھیل جہاں سے میں لوٹا تھا صدی پہلے وہاں واپس پہنچنا چاہتا ہوں جھیل میں جانتا ہوں تم سمندر نہیں ہو میں کہ بس نہیں ہوں مجھے تمہارے سوا کوئی اور راستہ نہیں معلوم دنیا کے گھمسان میں کھویا رہا ہوں اب اچھا نہیں لگتا کچھ بھی صدی کے بعد لوٹا ہوں میں اپنی ذات میں واپس لوٹنا چاہتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 1001 سے 6203