شاعری

سن لی راماین کی جب پوری کتھا

سن لی راماین کی جب پوری کتھا دل مرا راون پہ ہو بیٹھا فدا ہجر کی باتوں میں تھا ایسا اثر وصل میں بھی دل مرا بیتاب تھا چاند نے اپنی نگاہیں پھیر لیں پر تری آنکھوں میں جلتا تھا دیا اک انوکھی کیفیت نے چھو لیا ہاتھ میں جیسے خدا کا ہاتھ تھا اک صحیفے میں لکھی تھی داستاں لفظ لفظوں سے ...

مزید پڑھیے

پتنگ اڑانے سے پہلے

پتنگ اڑانے سے پہلے یہ جان لینا تھا کہ اس کی اصل ہے کیا اور ماہیت کیا ہے بہت نحیف سی دو بانس کی کھپنچیں ہیں اور ان سے لپٹا مربعے میں ناتواں کاغذ یہ جس کے دم پہ ہوا میں کلیلیں بھرتی ہے ذرا سی ضرب سے وہ ڈور ٹوٹ جاتی ہے پتنگ کٹ گئی تو اس کا اتنا غم کیوں ہے پتنگ اڑانے سے پہلے یہ جان لینا ...

مزید پڑھیے

جب تم مجھ سے ملنے آؤ

تمہاری اپنی دنیا ہے تمہارے روز و شب شام و سحر اپنے تم اک آزاد پنچھی ہو مری جاگیر کا حصہ نہیں ہو تم مگر کل شام جب تم مجھ سے ملنے آؤ (جیسا تم نے لکھا ہے) تو آنکھوں میں ذرا کاجل لگا آنا

مزید پڑھیے

ایسا ہو کہ نا موعود ہو

وہ غنی ساعت کہ ہم شاکی نہ ہوں یا یوں کہیں خاکی نہ ہوں صد حیف افلاکی نہ ہوں کاش اس غنی ساعت میں اک کار غنیمت ایسا ہو مٹی بدن کی روح کی تہذیب سے ہموار ہو بے دار ہو یہ نقش پائے رفتگاں روشن مثال کہکشاں سب روح کی تہذیب سے بے دار مٹی کی نمو ہے عکس ہو ہے روح کی تہذیب یا اک سلسلہ جس میں عدم ...

مزید پڑھیے

کار بیہودہ

اپنے ہونے اور نہ ہونے میں خوشی کی غم کی اطمینان کی تحقیق بے مصرف ہے اور اک سعئ لا حاصل کے سوا کچھ بھی نہیں یہ زندگی اک جنگ تحمیلی ہے اور میں بے نتیجہ جنگ کا سر باز ہوں کوئی جو بیہودہ سوالوں سے ازل سے بر سر پیکار ابد آثار نا پیدا مائل تار ابریشم وجود اک کرم کی مانند غائب ہو رہا ہے ...

مزید پڑھیے

اہل دل کو بلا رہا ہوں

مجھے ودیعت ہوئی ہے جب تک تمہاری آنکھیں مقام بینائی تک نہ پہنچیں سفید کاغذ کی روشنی کو سیاہ الفاظ سے مسلسل چھپائے رکھوں کہا گیا ہے یہ قول بھی دوں جب آنکھیں خیرہ نہ ہوں گی (یعنی مقام بینائی پر پہنچ جائیں گی) تو کاغذ سیاہ کرنا میں چھوڑ دوں گا نفی موعود ہیں یہ الفاظ اصل اثبات چشم ...

مزید پڑھیے

وہ بات

وہ بات اگر میں خدا سے کہتا میں جانتا ہوں وہ سن بھی لیتا (جواب دینے کی کوئی میعاد طے نہیں ہو تو صرف سننے میں حرج کیا ہے) میں مانتا ہوں جواب وہ ایک روز دیتا پہ خواہشوں نے مری سماعت کو معتبر ہی کہاں ہے رکھا یہ خواہشیں ہیں کہ میرے کانوں میں روئی سا کچھ نہاں ہے رکھا میں سوچتا ہوں وہ بات ...

مزید پڑھیے

لوح ایام

عقائد کرم خوردہ خط نامعلوم میں لکھی کتابوں میں کہیں محفوظ ہیں معلوم کی بنیاد نامعلوم پر اک مضحکہ یہ سلسلہ منسوخ کب ہوگا میں جو کچھ مانتا ہوں جانتا ہوگا مجھے یہ جاننا ہوگا کہ میں اک دن درون قبر زیر خاک خاک سرد و نا ہموار میں سو جاؤں گا اور میرے چہرے ہونٹوں آنکھوں میں چلیں گی ...

مزید پڑھیے

خلا سا کہیں ہے

خیابان دانش گہہ ممبئی سے یہاں راج پتھ کے سفر تک ہمیشہ مرے زیر پا شاہراہیں رہی ہیں اعلیٰ عمارات سرسبز میداں دو رویہ قطاروں میں اشجار فرحاں تمدن کے غماز بے مثل نقل و حمل کے ذرائع تحفظ کو جاں باز سر باز ہر گام آنکھیں بچھائے میں اک بچہ قریۂ دور افتادہ لیکن مرے بخت میں آج تک پائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 871 سے 5858