شاعری

شکست

مجھے اپنے بیرون کی جستجو تھی کہ وہ آنکھ سے اپنی دیکھا تھا میں نے جزائر وہ سب ریختہ نا رسیدہ جزائر خلاؤں میں بکھرے گرے زیست آثار کے شائبے جن میں تھے اب مری جستجو یا ہوس کا ہدف بن گئے تھے میں ان کی تمنا لیے دل کش و مست راہوں میں اک عمر گھوما کیا ماہ و انجم کو چوما کیا اور کل شام بعد ...

مزید پڑھیے

موسم ہجر میں

تمہاری آنکھ بھی ہر روز کاجل سے سنورتی ہے مجھے بھی شیو کرنے میں کبھی ناغہ نہیں ہوتا

مزید پڑھیے

کل شام

کل شام ٹی وی پر بدلتے وقت کے موضوع پہ تم نے کہی تھیں جتنی بھی باتیں بڑی دلچسپ تھیں وہ اور مدلل بھی اسی دوران اک خواہش ہوئی دل میں مری ٹیبل پہ جو تصویر رہتی ہے تمہاری اور ٹی وی پر دکھائی دینے والے چہرے کو اک بار دیکھوں تو ذرا لیکن مری عینک کہیں گم ہو گئی تھی

مزید پڑھیے

ہم اپنے عشق کی بابت کچھ احتمال میں ہیں

ہم اپنے عشق کی بابت کچھ احتمال میں ہیں کہ تیری خوبیاں اک اور خوش خصال میں ہیں تمیز ہجر و وصال اس مقام پر بھی ہے حساب راہ محبت میں گرچہ حال میں ہیں کوئی بھی پاس نہیں تو ترا خیال نہ غم بقول پیر جہاں دیدہ ہم وصال میں ہیں بہت ضروری نہیں ہے کہ تو سبب ٹھہرے یہ بات اپنی جگہ ہم کسی ملال ...

مزید پڑھیے

نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا (ردیف .. ')

نصیب چشم میں لکھا ہے گر پانی نہیں ہونا تو کیا یہ طے ہے اب رنج پشیمانی نہیں ہونا سکوں سے جا لگے گی دل کی کشتی اپنے ساحل سے کہ اس برسات میں دریا کو طوفانی نہیں ہونا سبھی کچھ طے شدہ معمولی جیسا ہونے والا ہے کسی بھی واقعے کو وجہ حیرانی نہیں ہونا جنوں میں ممکنہ حد تک رہے گا ہوش بھی ...

مزید پڑھیے

اس سوچ میں ہی مرحلۂ شب گزر گیا

اس سوچ میں ہی مرحلۂ شب گزر گیا در وا کیا تو کس لیے سایہ بکھر گیا تا دیر اپنے ساتھ رہا میں زمانے بعد بے نام سا سکوت تھا جب رات گھر گیا رکھتا تھا حکم موت کا جو راہ وصل میں وہ لمحۂ فراق مرے ڈر سے مر گیا سب رونقیں بضد تھیں جہاں گھر بنانے کو وہ قریۂ وجود خلاؤں سے بھر گیا میں باندھ ہی ...

مزید پڑھیے

منکر حق

اک آواز ابھرتی آ رہی ہے دودھیا سی روشنی اک پردۂ بینائی سے ہو کر گزرتی گزرتی جا رہی ہے سلب ہوتی جا رہی ہے قوت انکار بھی اقرار بھی کچھ ہو رہا ہے یا کہوں کچھ ہے نہیں معلوم کیا ہے اور کیوں کچھ ہے اک انبوہ فراواں جوق اندر جوق سب افراد اقرا کی طرف جاتے ہوئے اور میں ادھر غار حرا کی چہل ...

مزید پڑھیے

تجزیہ

آج جس تناظر میں کائنات کو دیکھا ہر طرح مکمل تھی پہلے اتنی شدت سے کب خیال آیا تھا اس قدر اکیلا ہوں

مزید پڑھیے

ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا

نیاز مندوں کی بھیڑ ہے اک قطار اندر قطار سارے کھڑے ہوئے ہیں میں فاصلے پر ہوں سوچتا ہوں کہ دست خالی کے اس سفر میں کمانا کیا اور گنوانا کیا ہے میں اس مقام عجیب یعنی 'کمانا کیا اور گنوانا کیا ہے' پہ جب پہنچتا ہوں دیکھتا کیا ہوں میں اسی دائرے کے اوپر کھڑا ہوا ہوں جہاں میں کل تھا جو فرق ...

مزید پڑھیے

کتاب گمراہ کر رہی ہے

کتاب گمراہ کر رہی ہے پہ اک یقیں ہے کہ اتنی گمراہیوں کے پیچھے کوئی تو اک راہ ہوگی جو منزلوں سے نہیں ملے گی سفر پہ جو گامزن رکھے گی یہ شرک کہنہ سفر کی وحدانیت کو مجروح کر رہا ہے کہاں کی منزل کہاں ہے منزل یہ شرک کے ہیں سراب سارے ہم آپ ہیں محو خواب سارے یہ شرک افیون بن کے خوں میں گھلا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 872 سے 5858