شاعری

گلی گلی ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو

گلی گلی ہے اندھیرا تو میرے ساتھ چلو تمہیں خیال ہے میرا تو میرے ساتھ چلو میں جا رہا ہوں اجالوں کی جستجو کے لیے ستا رہا ہو اندھیرا تو میرے ساتھ چلو جنوں کے دشت میں اک چھاؤنی بسا لیں گے نہیں ہے کوئی بسیرا تو میرے ساتھ چلو میں راہزن ہوں مگر آشنائے منزل دل جو راہبر ہے لٹیرا تو میرے ...

مزید پڑھیے

نکل پڑے ہیں صنم رات کے شوالے سے

نکل پڑے ہیں صنم رات کے شوالے سے کچھ آج شہر غریباں میں ہیں اجالے سے چلو پلٹ بھی چلیں اپنے مے کدہ کی طرف یہ آ گئے کس اندھیرے میں ہم اجالے سے خدا کرے کہ بکھر جائیں میرے شانوں پر سنور رہے ہیں یہ بادل جو کالے کالے سے بتوں کی خلوت رنگیں میں بزم انجم میں کہاں کہاں نہ گئے ہم ترے حوالے ...

مزید پڑھیے

چمن لہک کے رہ گیا گھٹا مچل کے رہ گئی

چمن لہک کے رہ گیا گھٹا مچل کے رہ گئی ترے بغیر زندگی کی رت بدل کے رہ گئی خیال ان کے ساتھ ساتھ دیر تک چلا کیا نظر تو ان کے ساتھ تھوڑی دور چل کے رہ گئی وہ اک نگاہ مہرباں کا التفات مختصر اندھیرے گھر میں جیسے کوئی شمع جل کے رہ گئی کہاں چمن کی صبح میں چمن کا حسن نیم شب کنول بکھر کے رہ ...

مزید پڑھیے

جو دیکھتے ہوئے نقش قدم گئے ہوں گے

جو دیکھتے ہوئے نقش قدم گئے ہوں گے پہنچ کے وہ کسی منزل پہ تھم گئے ہوں گے پلٹ کے دشت سے آئیں گے پھر نہ دیوانے پکار لو کہ ابھی کچھ قدم گئے ہوں گے جو ماورائے تصور نہیں کوئی صورت تو بتکدے ہی تک اہل حرم گئے ہوں گے ترے جنوں نے پکارا تھا ہوش والوں کو نہ جانے کون سے عالم میں ہم گئے ہوں ...

مزید پڑھیے

خموش کس لیے بیٹھے ہو چشم تر کیوں ہو

خموش کس لیے بیٹھے ہو چشم تر کیوں ہو کوئی خفا ہو کسی سے تو اس قدر کیوں ہو نظر کی پیاس بجھا دو جو اک نگاہ سے تم تو ہر نظارے سے رسوا مری نظر کیوں ہو جنوں کی جادہ تراشی ہے بانکپن میرا یہ رہ گزار جہاں اپنی رہ گزر کیوں ہو گرا تھا جام نہ ٹوٹا تھا کوئی آئینہ شکست دل کی بھلا آپ کو خبر کیوں ...

مزید پڑھیے

جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے

جشن حیات ہو چکا جشن ممات اور ہے ایک برات آ چکی ایک برات اور ہے عشق کی اک زبان پر لاکھ طرح کی بندشیں آپ تو جو کہیں بجا آپ کی بات اور ہے پینے کو اس جہان میں کون سی مے نہیں مگر عشق جو بانٹتا ہے وہ آب حیات اور ہے ظلمت وقت سے کہو حسرت دل نکال لے ظلمت وقت کے لیے آج کی رات اور ہے ان کو ...

مزید پڑھیے

یہ خوشی غم زمانہ کا شکار ہو نہ جائے

یہ خوشی غم زمانہ کا شکار ہو نہ جائے نہ ملو زیادہ ہم سے کہیں پیار ہو نہ جائے جو مچل رہی ہے شیشے میں حسین ہے وہ شبنم مرے لب تک آتے آتے جو شرار ہو نہ جائے نہ کٹیں اکیلے دل سے غم زندگی کی راہیں جو شریک فکر دوراں غم یار ہو نہ جائے نہ بڑھا بہت چمن سے رہ و رسم آشیانہ کہ مزاج باغباں پر ...

مزید پڑھیے

اگرچہ عشق میں اک بے خودی سی رہتی ہے

اگرچہ عشق میں اک بے خودی سی رہتی ہے مگر وہ نیند بھی جاگی ہوئی سی رہتی ہے وہی تو وجہ تعارف ہے کوئی کیا جانے ادا ادا میں جو اک بے رخی سی رہتی ہے بڑی عجیب ہے شب ہائے غم کی ظلمت بھی دیے جلاؤ مگر تیرگی سی رہتی ہے ہزار درد فرائض ہیں اور دل تنہا مرے خلوص کو شرمندگی سی رہتی ہے شمیمؔ خون ...

مزید پڑھیے

پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے گرانی ہے

پی کر بھی طبیعت میں تلخی ہے گرانی ہے اس دور کے شیشوں میں صہبا ہے کہ پانی ہے اے حسن تجھے اتنا کیوں ناز جوانی ہے یہ گل بدنی تیری اک رات کی رانی ہے اس شہر کے قاتل کو دیکھا تو نہیں لیکن مقتل سے جھلکتا ہے قاتل کی جوانی ہے جلتا تھا جو گھر میرا کچھ لوگ یہ کہتے تھے کیا آگ سنہری ہے کیا آنچ ...

مزید پڑھیے

آ رہی ہے شب غم میری طرف میرے لیے

آ رہی ہے شب غم میری طرف میرے لیے ساقیا چشم کرم میری طرف میرے لیے تھکنے لگتا ہوں تو آواز سی آتی ہے کوئی اور دو چار قدم میری طرف میرے لیے لوگ کہتے ہیں کہ ہو جاتی ہے دنیا رنگیں اک نظر میری قسم میری طرف میرے لیے پائلیں کوئے نگاراں میں کھنک اٹھتی ہیں جب وہ رکھتے ہیں قدم میری طرف میرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 847 سے 5858