شاعری

جنوں تو ہے مگر آؤ جنوں میں کھو جائیں

جنوں تو ہے مگر آؤ جنوں میں کھو جائیں کسی کو اپنا بنائیں کسی کے ہو جائیں جگر کے داغ کوئی کم ہیں روشنی کے لیے میں جاگتا ہوں ستاروں سے کہہ دو سو جائیں طلوع صبح غم زندگی کو ضد یہ ہے کہ میرے خواب کے لمحے غروب ہو جائیں یہ سوگوار سفینہ بھی رہ کے کیا ہوگا اسے بھی آ کے مرے ناخدا ڈبو ...

مزید پڑھیے

ہنسو نہ تم رخ دشمن جو زرد ہے یارو

ہنسو نہ تم رخ دشمن جو زرد ہے یارو کسی کا درد ہو اپنا ہی درد ہے یارو دلوں سے شکوۂ باہم کو دور کرنے میں لگے گا وقت کہ برسوں کی گرد ہے یارو ہم اہل شہر کی فطرت سے خوب واقف ہے وہ اک غریب جو صحرا نورد ہے یارو جہاں متاع ہنر کی خرید ہوتی تھی بہت دنوں سے وہ بازار سرد ہے یارو عجب نہیں کہ ...

مزید پڑھیے

خود کوئی چاک گریباں ہے رگ جاں کے قریب

خود کوئی چاک گریباں ہے رگ جاں کے قریب اے جنوں حشر کا ساماں ہے رگ جاں کے قریب منزل دل سے تو گزرے ہوئے دن بیت گئے کاروان غم جاناں ہے رگ جاں کے قریب در بدر کس لیے آوارہ ہو سرگشتہ ہو دوستو کوچۂ جاناں ہے رگ جاں کے قریب کیا کہیں اب دل بیتاب کا عالم یارو مضطرب جیسے رگ جاں ہے رگ جاں کے ...

مزید پڑھیے

چمن چمن جو یہ صبح بہار کی ضو ہے

چمن چمن جو یہ صبح بہار کی ضو ہے ترے تبسم رنگیں کا ایک پرتو ہے خزاں کی رات کے قاتل کہاں گئے دیکھیں کہ جو لہو ہے چراغ بہار کی لو ہے چلے نہ ساتھ زمانہ تو اس کو یوں کہیے ٹھہر گیا ہے مسافر کہ جادۂ نو ہے بجھا ہے دل تو نہ سمجھو کہ بجھ گیا غم بھی کہ اب چراغ کے بدلے چراغ کی لو ہے مری زمیں ...

مزید پڑھیے

شمع پر شمع جلاتی ہوئی ساتھ آتی ہے

شمع پر شمع جلاتی ہوئی ساتھ آتی ہے رات آتی ہے کہ یادوں کی برات آتی ہے اک ذرا کوچۂ جاناں میں ٹھہر جا اے موت خیر مقدم کے لیے میری حیات آتی ہے پھیر لیتے ہیں نگاہیں ترے پیاسے ہنس کر جام پر جام لیے موج فرات آتی ہے قصۂ دیر و حرم اور سے پوچھو لوگو ہم تو شاعر ہیں ہمیں پیار کی بات آتی ...

مزید پڑھیے

ظلمت گہ دوراں میں صبح چمن دل ہوں

ظلمت گہ دوراں میں صبح چمن دل ہوں روکو نہ سفر میرا میں قسمت منزل ہوں زندانئ ہستی ہوں پابند سلاسل ہوں کس طرح ملوں تم سے خود راہ میں حائل ہوں برباد سہی لیکن برباد غم دل ہوں آنکھوں سے لگا مجھ کو گرد رہ منزل ہوں اے سنگ بکف دنیا آ شوق سے آ لیکن آہستہ قدم رکھنا میں شیشہ گہہ دل ہوں موج ...

مزید پڑھیے

گلوں پہ سایۂ غم ہائے روزگار ملے

گلوں پہ سایۂ غم ہائے روزگار ملے بھری بہار کے چہرے بھی سوگوار ملے سجا دے ان کے گریباں کو ماہ و انجم سے ہمارے دست جنوں کو جو اختیار ملے ہزار داغ اٹھا کر چمن کھلاتی ہے کہیں زمیں کو جو اہل زمیں کا پیار ملے ہمارے پاس ہے کیا دولت جنوں کے سوا نثار چاک گریباں اگر بہار ملے یہ واقعہ ہے ...

مزید پڑھیے

سحر کو دے کے نئی نکہت حیات گئی

سحر کو دے کے نئی نکہت حیات گئی نہ جانے کس کی گلی سے نکل کے رات گئی جنوں نے دولت دل کو نثار کر ڈالا پکارتی ہی رہی عقل کائنات گئی شب فراق کا اتنا بھی غم نہ کر اے دل سوئے سحر ہی گئی آج تک جو رات گئی پڑے ہیں راہ میں کچھ پھول خاک آلودہ کوئی جنازہ اٹھا یا کوئی برات گئی شمیمؔ عہد گزشتہ ...

مزید پڑھیے

مجھے دیر سے تعلق نہ حرم سے آشنائی

مجھے دیر سے تعلق نہ حرم سے آشنائی کہیں قشقۂ نمائش کہیں سجدۂ ریائی کسی جیب دل میں دیکھی نہ متاع عشق میں نے مرے شہر میں لٹا دو مرا درد بے نوائی مرے دل کے آئینے کو نہ شکستہ کر خدارا کہ اداس ہو نہ جائے ترا حسن خودنمائی کوئی کب پہنچ سکا ہے ترے غم کی سرحدوں تک وہی کارواں کی منزل جو ...

مزید پڑھیے

درد شناس دل نہیں جلوہ طلب نظر نہیں

درد شناس دل نہیں جلوہ طلب نظر نہیں حادثہ کتنا سخت ہے ان کو ابھی خبر نہیں اور بڑھے گا درد دل رات جو بھیگ جائے گی دیکھ نہ وقت کی طرف وقت بھی چارہ گر نہیں کس کو خبر کہ ہم سے کب آپ نگاہ پھیر لیں نشہ تو دھوپ چھاؤں ہے بادہ بھی معتبر نہیں ہم تو خزاں کی دھوپ میں خون جگر چھڑک چلے موسم گل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 846 سے 5858