شاعری

سمجھے ہے مفہوم نظر کا دل کا اشارہ جانے ہے

سمجھے ہے مفہوم نظر کا دل کا اشارہ جانے ہے ہم تم چپ ہیں لیکن دنیا حال ہمارا جانے ہے ہلکی ہوا کے اک جھونکے میں کیسے کیسے پھول گرے گلشن کے گل پوش نہ جانیں گلشن سارا جانے ہے شمع تمنا پچھلے پہر تک درد کا آنسو بن ہی گئی شام کا تارا کیسے ڈوبا صبح کا تارا جانے ہے کیا کیا ہیں آئین تماشا ...

مزید پڑھیے

وہاں کھلے بھی تو کیونکر بساط حکمت و فن

وہاں کھلے بھی تو کیونکر بساط حکمت و فن ملے ہر ایک جبیں پر جہاں شکن ہی شکن ہماری خاک کبھی رائیگاں نہ جائے گی ہماری خاک کو پہچانتی ہے خاک وطن خزاں کی رات میں کمھلا کے پھول گرتے ہیں تو جاگ جاتی ہے سوئی ہوئی زمین چمن بہت ہے رات اندھیری مگر چلے ہی چلو کہ آپ اپنے مسافر کو ڈھونڈ لے گی ...

مزید پڑھیے

زباں کو حکم ہی کہاں کہ داستان غم کہیں

زباں کو حکم ہی کہاں کہ داستان غم کہیں ادا ادا سے تم کہو نظر نظر سے ہم کہیں جو تم خدا خدا کہو تو ہم صنم صنم کہیں کہ ایک ہی سی بات ہے وہ تم کہو کہ ہم کہیں ملے ہیں تشنہ میکشوں کو چند جام اس لیے کہیں نہ حال تشنگی کہیں تو کم سے کم کہیں ستم گران سادہ دل یہ بات جانتے نہیں کہ وہ ستم ظریف ...

مزید پڑھیے

قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا

قید غم حیات سے ہم کو چھڑا لیا اچھا کیا کہ آپ نے اپنا بنا لیا ہونے دیا نہ ہم نے اندھیرا شب فراق بجھنے لگا چراغ تو دل کو جلا لیا دنیا کے پاس ہے کوئی اس طنز کا جواب دیوانہ اپنے حال پہ خود مسکرا لیا کیا بات تھی کہ خلوت زاہد کو دیکھ کر رند گناہ گار نے سر کو جھکا لیا چپ ہوں تمہارا درد ...

مزید پڑھیے

ہمیں تھے ایسے سرپھرے ہمیں تھے ایسے منچلے

ہمیں تھے ایسے سرپھرے ہمیں تھے ایسے منچلے کہ تیرے غم کی رات میں چراغ کی طرح جلے ملے کوئی تو پھر مزے نہ زندگی کے پوچھئے کٹے جو رات دیر میں تو مے کدے میں دن ڈھلے کھلی ہوئی ہر اک کلی مہک رہی ہے شاخ پر تو کچھ اداس پھول بھی پڑے ہیں شاخ کے تلے اس انجمن کو کیا ہوا نہ روشنی نہ زندگی چراغ و ...

مزید پڑھیے

پی لے جو لہو دل کا وہ عشق کی مستی ہے

پی لے جو لہو دل کا وہ عشق کی مستی ہے کیا مست ہے یہ ناگن اپنے ہی کو ڈستی ہے مے خانے کے سائے میں رہنے دے مجھے ساقی مے خانے کے باہر تو اک آگ برستی ہے اے زلف غم جاناں تو چھاؤں گھنی کر دے رہ رہ کے جگاتا ہے شاید غم ہستی ہے ڈھلتے ہیں یہاں شیشے چلتے ہیں یہاں پتھر دیوانو ٹھہر جاؤ صحرا نہیں ...

مزید پڑھیے

فاصلہ تو ہے مگر کوئی فاصلہ نہیں

فاصلہ تو ہے مگر کوئی فاصلہ نہیں مجھ سے تم جدا سہی دل سے تم جدا نہیں کاروان آرزو اس طرف نہ رخ کرے ان کی رہ گزر ہے دل عام راستہ نہیں اک شکست آئینہ بن گئی ہے سانحہ ٹوٹ جائے دل اگر کوئی حادثہ نہیں آئیے چراغ دل آج ہی جلائیں ہم کیسی کل ہوا چلے کوئی جانتا نہیں آسماں کی فکر کیا آسماں ...

مزید پڑھیے

ان کا وعدہ بدل گیا ہے

ان کا وعدہ بدل گیا ہے فردا آنسو میں ڈھل گیا ہے تنہائی سے کچھ ہوئی ہیں باتیں تنہائی سے دل بہل گیا ہے معمول نظر وہی ہے لیکن مفہوم نظر بدل گیا ہے رک جا اے کاروان امروز ماضی میرا کچل گیا ہے ساحل پہ نگاہ آنکھ والو اندھا طوفاں مچل گیا ہے ساغر میں شراب ہے کہ یارو انگارہ کوئی پگھل ...

مزید پڑھیے

غم دو عالم کا جو ملتا ہے تو غم ہوتا ہے

غم دو عالم کا جو ملتا ہے تو غم ہوتا ہے کہ یہ بادہ بھی مرے ظرف سے کم ہوتا ہے کب مری شام تمنا کو ملے گا اے دوست وہ سویرا جو ترا نقش قدم ہوتا ہے بے خبر پھول کو بھی کھینچ کے پتھر پہ نہ مار کہ دل سنگ میں خوابیدہ صنم ہوتا ہے ہائے وہ محویت دید کا عالم جس وقت اپنی پلکوں کا جھپکنا بھی ستم ...

مزید پڑھیے

رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں

رکھنا ہے تو پھولوں کو تو رکھ لے نگاہوں میں خوشبو تو مسافر ہے کھو جائے گی راہوں میں کیوں میری محبت سے برہم ہو زمیں والو اک اور گنہ رکھ لو دنیا کے گناہوں میں کیفیت مے دل کا درماں نہ ہوئی لیکن رنگیں تو رہی دنیا کچھ دیر نگاہوں میں کانٹوں سے گزر جانا دشوار نہیں لیکن کانٹے ہی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 848 سے 5858