شاعری

تیرے نالوں سے کوئی بدنام ہوتا جائے گا

تیرے نالوں سے کوئی بدنام ہوتا جائے گا تو بھی اے دل مورد الزام ہوتا جائے گا مطمئن ہوں میں کہ ہو جائے گا سامان سکوں درد بڑھتا جائے گا آرام ہوتا جائے گا وجہ ناکامی نہ ہوں اے دل تری بے صبریاں صبر سے لے کام خود ہر کام ہوتا جائے گا چھوڑ دے اے دل تمنا زندگی کی چھوڑ دے تو ہلاک گردش ایام ...

مزید پڑھیے

جبکہ دشمن ہو راز داں اپنا

جبکہ دشمن ہو راز داں اپنا راز کیوں کر رہے نہاں اپنا عشق میں پھر سکون کیسے ہو دل جب ایسا ہو بد گماں اپنا تھی بہار چمن جوانی پر جبکہ اجڑا تھا آشیاں اپنا ہم مکرر فریب کیا کھائیں لطف رہنے دو مہرباں اپنا کیوں نہ خلوت‌ گزیں رہوں شاکرؔ گزر اس بزم میں کہاں اپنا

مزید پڑھیے

یہ ارض و سما قلزم و صحرا متحرک

یہ ارض و سما قلزم و صحرا متحرک اک تو ہی نہیں شمس ہے دنیا متحرک تا حد نظر اک وہی چہرا متحرک یا حسن مجسم کا ہے جلوا متحرک انسانوں میں اب بوئے وفا ہی نہیں ملتی ہر شخص نظر آتا ہے تنہا متحرک یہ سوچ رہا ہوں اسے کس چیز کا غم ہے رہتی ہے مرے دل میں تمنا متحرک یوں دھوپ سے گھبرا کے میں سائے ...

مزید پڑھیے

زمین تنگ ہے یا رب کہ آسمان ہے تنگ

زمین تنگ ہے یا رب کہ آسمان ہے تنگ یہ کیا کہ بندوں پہ پیہم تیرا جہان ہے تنگ مرے سوال کا کوئی جواب کیا دیتا کہ تیرے شہر میں ہر شخص کی زبان ہے تنگ کروں تو کیسے کروں حرف مدعا آغاز غزل کے واسطے لفظوں کا آسمان ہے تنگ فضا میں اڑتے پرندے کی خیر ہو یا رب کہ اس کا تیر بڑا ہے مگر کمان ہے ...

مزید پڑھیے

مشتعل ہو گیا وہ غنچہ دہن دانستہ

مشتعل ہو گیا وہ غنچہ دہن دانستہ آ گئی لفظوں میں کیوں اس کے چبھن دانستہ جب بھی لایا ہے وہ ماتھے پہ شکن دانستہ یوں لگا جیسے ہوا چاند گہن دانستہ ٹھیس لگتی ہے انا کو تو برس پڑتے ہیں لب کشا ہوتے نہیں اہل سخن دانستہ سربلندی ہمیں منظور تھی حق کی خاطر اس لیے چوم لیے دار و رسن ...

مزید پڑھیے

جب تک تجھ کو موت نہ آئے کر لے رین بسیرا بابا

جب تک تجھ کو موت نہ آئے کر لے رین بسیرا بابا آتی جاتی اس دنیا میں کیا میرا کیا تیرا بابا گاؤں میں سندھیا ہو کے یہ کیا ہے بند ہوئے ہیں سب دروازے بیری جگ میں تاک میں ہے اب ایک اک سائیں لٹیرا بابا ایک سیاسی چال کی خاطر کتنا بھیانک قتل ہوا ہے پورب پچھم اتر دکھن نکلا سرخ سویرا ...

مزید پڑھیے

بے پردہ اس کا چہرۂ پر نور تو ہوا

بے پردہ اس کا چہرۂ پر نور تو ہوا کچھ دیر شعبدہ سا سر طور تو ہوا اچھا کیا کہ میں نے کیا ترک آرزو بے صبر دل کو صبر کا مقدور تو ہوا گو اس میں اب نہیں ہیں لڑکپن کی شوخیاں لیکن شباب آنے سے مغرور تو ہوا اب اور التفات سے مقصد ہے کیا ترا بس اے نگاہ مست کہ میں چور تو ہوا تم نے اگر سنا نہیں ...

مزید پڑھیے

وہ جو ہر دم مرے خیال میں ہے

وہ جو ہر دم مرے خیال میں ہے جانے کس پردۂ جمال میں ہے چاہتے ہو تو ٹوٹ کر چاہو خود جواب آپ کے سوال میں ہے ہاں مرا فن کمال کو پہونچا زیست لیکن مری زوال میں ہے فکر کیا سرخ رو ہو یا ٹوٹے دل مرا ان کی دیکھ بھال میں ہے کیا ضروری ہے ہم جواب ہی دیں ایک تلوار چپ کی ڈھال میں ہے ان کو فرصت ...

مزید پڑھیے

شوخ معصوم سی الہڑ وہ کنواری باتیں

شوخ معصوم سی الہڑ وہ کنواری باتیں یاد آتی ہیں مجھے آپ کی پیاری باتیں ناز سے روٹھنا پھر ان کا منانا مجھ کو یاد آنے لگیں رہ رہ کے وہ ساری باتیں آستیں اپنے ہی اشکوں سے بھگو ڈالوگے یاد آئیں گی تمہیں جب بھی ہماری باتیں کی خطا تم نے کہ ہم نے اسے کل سوچیں گے آج کی رات تو یہ چھوڑیئے ...

مزید پڑھیے

دست قاتل میں یہ شمشیر کہاں سے آئی

دست قاتل میں یہ شمشیر کہاں سے آئی ناز کرتی مری تقدیر کہاں سے آئی چاندنی سینے میں اتری ہی چلی جاتی ہے چاند میں آپ کی تصویر کہاں سے آئی اپنی پلکوں پہ سجا لائی ہے کس کے جلوے زندگی تجھ میں یہ تنویر کہاں سے آئی ہو نہ ہو اس میں چمن والوں کی سازش ہے کوئی پھول کے ہاتھ میں شمشیر کہاں سے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 840 سے 5858