تیرے نالوں سے کوئی بدنام ہوتا جائے گا
تیرے نالوں سے کوئی بدنام ہوتا جائے گا تو بھی اے دل مورد الزام ہوتا جائے گا مطمئن ہوں میں کہ ہو جائے گا سامان سکوں درد بڑھتا جائے گا آرام ہوتا جائے گا وجہ ناکامی نہ ہوں اے دل تری بے صبریاں صبر سے لے کام خود ہر کام ہوتا جائے گا چھوڑ دے اے دل تمنا زندگی کی چھوڑ دے تو ہلاک گردش ایام ...