شاعری

ملی جو دل کو خوشی تو خوشی سے گھبرائے

ملی جو دل کو خوشی تو خوشی سے گھبرائے ہم اجنبی کی طرح زندگی سے گھبرائے وہ اور کچھ ہے مگر کائنات ہوش نہیں اک آدمی ہی اگر آدمی سے گھبرائے کبھی کبھی تو تری دوستی میں ہم اے دوست خود اپنے عالم آوارگی سے گھبرائے جلا لئے ہیں اسی وقت آنسوؤں کے چراغ شب فراق میں جب تیرگی سے گھبرائے وہی ...

مزید پڑھیے

کسی کے وعدۂ فردا میں گم ہے انتظار اب بھی

کسی کے وعدۂ فردا میں گم ہے انتظار اب بھی خدا جانے ہے کیوں اک بے وفا پر اعتبار اب بھی کبھی کی تھی تمنا لالہ و گل کی نگاہوں نے رلاتی ہے لہو کے رنگ میں فصل بہار اب بھی ترے قول و عمل میں فرق ملتا ہے مجھے زاہد زباں پر لفظ توبہ ہے نگہ میں ہے خمار اب بھی خزاں کے بعد اس امید پر گلشن نہیں ...

مزید پڑھیے

کمرے کی دیواروں پر آویزاں جو تصویریں ہیں

کمرے کی دیواروں پر آویزاں جو تصویریں ہیں عہد گزشتہ کے خوابوں کی بکھری ہوئی تعبیریں ہیں ان کے خط محفوظ ہیں اب تک میرے خطوط کی فائل میں قسمیں وعدے عہد و پیماں پیار بھری تحریریں ہیں ہاتھ کی ریکھا دیکھنے والے میرا ہاتھ بھی دیکھ ذرا بر آئیں امیدیں جن سے ایسی کہیں لکیریں ہیں پھر یہ ...

مزید پڑھیے

یہ گھر جو ہمارے لیے اب دشت جنوں ہے

یہ گھر جو ہمارے لیے اب دشت جنوں ہے آباد بھی رہتا تھا کبھی اپنوں کے دم سے سو بار اسی طرح میں مر مر کے جیا ہوں دیرینہ تعلق ہے مرا مقتل غم سے یہ جینا بھی کیا جینا ہے سر پھوڑنا ٹھہرا قسمت کو ہے جب واسطہ پتھر کے صنم سے بس اتنا غنیمت رہے ان سے یہ تعلق ہم اپنے کو بدلیں نہ وہ باز آئیں ستم ...

مزید پڑھیے

جو بھی کہنا ہو وہاں میری زبانی کہنا

جو بھی کہنا ہو وہاں میری زبانی کہنا لوگ کچھ بھی کہیں تم آگ کو پانی کہنا آج وہ شخص زمانے میں ہے یکتا کہہ دو جب کوئی دوسرا مل جائے تو ثانی کہنا غم اگر پلکوں پہ تھم جائے تو آنسو کہیو اور بہہ جائے تو موجوں کی روانی کہنا جتنا جی چاہے اسے آج حقیقت کہہ لو کل اسے میری طرح تم بھی کہانی ...

مزید پڑھیے

اندھیری شب ہے کہاں روٹھ کر وہ جائے گا

اندھیری شب ہے کہاں روٹھ کر وہ جائے گا کھلا رہے گا اگر در تو لوٹ آئے گا جو ہو سکے تو اسے خط ضرور لکھا کر تجھے وہ میری طرح ورنہ بھول جائے گا بہت دبیز ہوئی جا رہی ہے گرد ملال نہ جانے کب یہ دھلے گی وہ کب رلائے گا لگے ہوئے ہیں نگاہوں کے ہر جگہ پہرے کہاں متاع سکوں جا کے تو چھپائے ...

مزید پڑھیے

کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے

کتاب کون سی ہے اور کس زبان میں ہے سنا ہے ذکر ہمارا بھی داستان میں ہے اسی نے دھوپ میں چلنے کی جیت لی بازی وہ ایک شخص جو مدت سے سائبان میں ہے زمیں کو جو بھی اگانا ہے وہ اگائے گی مجھے پتہ ہے مرا رزق آسمان میں ہے وہ لوٹ آئے تو اپنی بھی کچھ خبر دوں گا مرے لہو کا پرندہ ابھی اڑان میں ...

مزید پڑھیے

زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں

زندگی ہنستی ہے صبح و شام تیرے شہر میں عام ہے دور مئے گلفام تیرے شہر میں کس قدر مشہور ہیں وہ لوگ جو ہیں بوالہوس اور اک ہم ہیں کہ ہیں بدنام تیرے شہر میں کوئی سودائی کوئی کہتا ہے دیوانہ مجھے روز ملتا ہے نیا اک نام تیرے شہر میں ہم جنون عشق کے با وصف بھی ہشیار ہیں صبح تیرے شہر میں ...

مزید پڑھیے

کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب

کون سا شعلہ لپکتا ہے یہ محمل کے قریب حسن کس کا ہے جو بکھرا ہے مرے دل کے قریب نا خدا تیرے حوالے ہے سفینہ دل کا ڈوب جائے نہ کہیں آ کے یہ ساحل کے قریب پیشوائی کو چلی جاتی ہے خود ہی منزل ہے تھکا ماندہ مسافر کوئی منزل کے قریب کوئی گزرا ہے دبے پاؤں یہ شہر دل سے کس کی آہٹ سی یہ محسوس ...

مزید پڑھیے

آنکھیں غم فراق سے ہیں تر ادھر ادھر

آنکھیں غم فراق سے ہیں تر ادھر ادھر غم کا اثر ہے آج برابر ادھر ادھر تھے جو وفا شعار وہ نذر ستم ہوئے اب کس کو ڈھونڈھتا ہے ستم گر ادھر ادھر محفل میں تیرے حسن پہ قربان ہوگا کون دیوانے چل دیے جو نکل کر ادھر ادھر ساقی کے ساتھ رونق مے خانہ بھی گئی ٹوٹے پڑے ہیں شیشہ و ساغر ادھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 828 سے 5858