شاعری

پرچھائیوں کی بات نہ کر رنگ حال دیکھ

پرچھائیوں کی بات نہ کر رنگ حال دیکھ آنکھوں سے اب ہوا‌ و ہوس کا مآل دیکھ دو شیر جس کے قہر کی جنگل میں دھوم تھی میری نشست گاہ میں اب اس کی کھال دیکھ خوشبو کی طرح گونج اٹھا حرف آگہی اے دل ذرا حصار نفس کا زوال دیکھ تجھ سے قریب آئے تو اپنی خبر نہ تھی دوری کا یہ عذاب برنگ وصال ...

مزید پڑھیے

تیرگی چاند کو انعام وفا دیتی ہے

تیرگی چاند کو انعام وفا دیتی ہے رات بھر ڈوبتے سورج کو صدا دیتی ہے میں نے چاہا تھا کہ لفظوں میں چھپا لوں خود کو خامشی لفظ کی دیوار گرا دیتی ہے کوئی سایہ تو ملا دھوپ کے زندانی کو میری وحشت تری چاہت کو دعا دیتی ہے کتنی صدیوں کے دریچے میں ہے بس ایک وجود زندگی سانس کو تلوار بنا دیتی ...

مزید پڑھیے

روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے

روز و شب کی گتھیاں آنکھوں کو سلجھانے نہ دے اور جانے کے لیے اٹھوں تو وہ جانے نہ دے سرمئی گہرا خلا بے جان لمحوں کا غبار میں نہ کہتا تھا گل منظر کو مرجھانے نہ دے یا دل وحشی پہ یوں احساس کی یورش نہ ہو یا بھری آبادیوں کو ایسے ویرانے نہ دے آرزو کے قہر سے سانسوں کی کشتی کو بچا بادبانوں ...

مزید پڑھیے

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں

پھر لوٹ کے اس بزم میں آنے کے نہیں ہیں ہم لوگ کسی اور زمانے کے نہیں ہیں اک دور کنارا ہے وہیں جا کے رکیں گے جتنے بھی یہاں گھر ہیں ٹھکانے کے نہیں ہیں یوں جاگتے رہنا ہے تو آنکھوں میں ہماری جو خواب چھپے ہیں نظر آنے کے نہیں ہیں دل ہے تو یہ دولت کبھی معدوم نہ ہوگی یہ درد کسی اور خزانے ...

مزید پڑھیے

کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں

کبھی صحرا میں رہتے ہیں کبھی پانی میں رہتے ہیں نہ جانے کون ہے جس کی نگہبانی میں رہتے ہیں زمیں سے آسماں تک اپنے ہونے کا تماشا ہے یہ سارے سلسلے اک لمحۂ فانی میں رہتے ہیں سویرا ہوتے ہوتے روز آ جاتے ہیں ساحل پر سفینے رات بھر دریا کی طغیانی میں رہتے ہیں پتا آنکھیں کو ملتا ہے یہیں سب ...

مزید پڑھیے

کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل کیا جانے

کیوں پریشان ہوا جاتا ہے دل کیا جانے کیسا پاگل ہے کہ پانی کو بھی صحرا جانے میں وہ آوارہ کہ بادل بھی خفا ہیں مجھ سے تو زمانے کو بھی ٹھہرا ہوا لمحہ جانے دھوپ کی گرد فضاؤں میں دلوں میں تابوت ہر نفس خود کو بس اک آگ کا دریا جانے اوس کی بوند بھی اب سنگ صفت لگتی ہے پھول کے باغ کو دل آگ کا ...

مزید پڑھیے

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے

یہ رشتۂ جاں میری تباہی کا سبب ہے اس قید سے چھٹنے کی تمنا بھی عجب ہے اس عرصۂ محشر میں خموشی بھی صدا ہے ٹوٹی ہوئی قبروں میں بڑا شور و شعب ہے سورج کو یہ ضد اس کی اک بوند نہ رہ جائے ہونٹوں کو فقط پیاس بجھانے کی طلب ہے چہرے پہ تھکن سانس کی زنجیر پریشاں آنکھوں میں مگر اب بھی وہی غیظ و ...

مزید پڑھیے

چور دروازہ

میرے سونے کمرے میں تو کوئی نہیں تھا میں نے اس کمرے کو خالی کر کے سب دروازے بند رکھے تھے گوشہ گوشہ دیکھ چکا تھا کوئی نہیں تھا میں تھا میری تنہائی تھی لیکن مجھ کو یہ تو بتاؤ تم آخر کس دروازے سے اس کمرے میں در آئی ہو

مزید پڑھیے

شہر جاں میں اضطراب سوز فن دیکھے گا کون

شہر جاں میں اضطراب سوز فن دیکھے گا کون میرے اندر ایک قلزم موجزن دیکھے گا کون مضمحل سوچوں کے اس جھلسے ہوئے ماحول میں تیرا حسن قامت سرو سمن دیکھے گا کون رات نے آنکھوں میں بھر دیں اس قدر تاریکیاں صبح تو ہوگی مگر پہلی کرن دیکھے گا کون اپنی اپنی آگ میں آنکھیں جھلس کر رہ گئیں تیرے ...

مزید پڑھیے

لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے

لکڑہارے تمہارے کھیل اب اچھے نہیں لگتے ہمیں تو یہ تماشے سب کے سب اچھے نہیں لگتے اجالے میں ہمیں سورج بہت اچھا نہیں لگتا ستارے بھی سر دامان شب اچھے نہیں لگتے تو یہ ہوتا ہے ہم گھر سے نکلنا چھوڑ دیتے ہیں کبھی اپنی گلی کے لوگ جب اچھے نہیں لگتے یہ کہہ دینا کہ ان سے کچھ گلہ شکوہ نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 822 سے 5858