شاعری

تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا

تڑپ کے لوٹ کے آنسو بہا کے دیکھ لیا لگی نہ دل کی تجھے دل لگا کے دیکھ لیا کسی نے داد نہ دی کچھ فسانۂ دل کی انہیں بھی درد محبت سنا کے دیکھ لیا کسے امید تھی آؤ گے تم دم آخر بڑا کمال کیا تم نے آ کے دیکھ لیا کہا تھا میں نے کہ دشوار دل کا لینا ہے وہ بولے دور سے مجھ کو دکھا کے دیکھ لیا غضب ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے

نہ پوچھو شب وصل کیا ہو رہا ہے گلے میں ہیں بانہیں گلا ہو رہا ہے وہ اٹھلا کے میری طرف آ رہے ہیں قیامت کا وعدہ وفا ہو رہا ہے گلے پر جو رک رک کے چلتا ہے خنجر یہ پورا مرا مدعا ہو رہا ہے مری بے خودی پر نظر کیا ہو اس کو وہ خود محو ناز و ادا ہو رہا ہے وہ ہمراہ لے کر گئے ہیں عدو کو ذرا ہم ...

مزید پڑھیے

ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر

ہر جفا ان کی ہوئی ہم کو وفا سے بڑھ کر اب نکالیں وہ کوئی ظلم جفا سے بڑھ کر سر تسلیم ہے خم تیری رضا کے آگے دے وہ رتبہ جو ہے تسلیم و رضا سے بڑھ کر کمسنی جن کی ہمیں یاد ہے اور کل کی ہی بات آج انہیں دیکھیے کیا ہو گئے کیا سے بڑھ کر اللہ اللہ خصوصیت ذات حسنین ساری امت کے ہیں پوتوں سے ...

مزید پڑھیے

آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست

آنکھوں کو سوجھتا ہی نہیں کچھ سوائے دوست کانوں میں آ رہی ہے برابر صدائے دوست کیسی وفا ستم سے بھی اس نے اٹھائے ہاتھ رہ رہ کے یاد اب آتی ہے طرز جفائے دوست سینے میں داغ ہائے محبت کی ہے بہار پھولا ہے خوب یہ چمن دل کشائے دوست دل میں مرے جگر میں مرے آنکھ میں مری ہر جا ہے دوست اور نہیں ...

مزید پڑھیے

چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں

چھوڑ کر مجھ کو چلی اے بے وفا میں بھی تو ہوں لے خبر میری بھی اے تیغ ادا میں بھی تو ہوں پی رہے ہیں سب پیالی پر پیالی بزم میں میری باری بھی تو آئے ساقیا میں بھی تو ہوں ذکر جب حور و پری کا سامنے ان کے ہوا پہلے تو سنتے رہے وہ پھر کہا میں بھی تو ہوں دخت رز زاہد سے بولی مجھ سے گھبراتے ہو ...

مزید پڑھیے

جہاں تک رنج دنیا ہے دئے جاؤ

جہاں تک رنج دنیا ہے دئے جاؤ ہمارے دل کے تم ٹکڑے کئے جاؤ فقط اک دل کے پیچھے ہم بگاڑیں خفا کیوں ہو رہے ہو لو لئے جاؤ لگا دو ہاتھ اک چلتے ہی چلتے ذرا سا کام ہے میرا کئے جاؤ نہ اٹھو غیر کی خاطر یہاں سے وہ خود آ جائے گا تم کس لئے جاؤ شرفؔ بھر بھر کے دیتے ہیں وہ خود جام پئے جاؤ پئے جاؤ ...

مزید پڑھیے

ہندوستانی لیڈر

لالچی کتنے خوشامد خور دولت کے غلام خود غرض مکار ابن الوقت جھوٹوں کے امام بندۂ حرس و ہوس غدار مطلب آشنا پیسے کی خاطر وطن کو بیچنے والے بتا کیا تجھے احساس محکومی کبھی ہوتا بھی ہے تو کبھی ہندوستاں کے حال پر روتا بھی ہے کیا سنی بھی ہے کبھی مزدوروں کے دل کی پکار کیا کبھی تو نے ...

مزید پڑھیے

ہولی

بج رہے ہیں مدھ بھری آواز میں ہولی کے ساز کھنچ کے آنکھوں میں نہ آ جائے دل حرماں نواز کھیلتی ہیں رنگ آپس میں کنواری لڑکیاں گیت ہولی کے زباں پر ہاتھ میں پچکاریاں نالیوں میں گر رہے ہیں لوگ پی پی کر شراب ملک میں شاید نہیں ان کے لیے کوئی عذاب دے رہا ہے گالیاں بے نطق ہر پیر و جواں واہ ...

مزید پڑھیے

دیوالی

رات کچھ تاریک بھی ہے اور کچھ روشن بھی ہے وقت کے ماتھے پہ شوخی بھی ہے بھولا پن بھی ہے بام و در پر آج مٹی کے دیے ہیں اس طرح آسمانوں پر ستارے جگمگائیں جس طرح راستوں پر ہیں دنادن کی صدائیں خوفناک زندگی سے موت گویا کر رہی ہے تاک جھانک ہو رہی ہیں ہر گلی کوچے میں آتش بازیاں آر رہا ہے ...

مزید پڑھیے

مرزا غالبؔ

اندھیری رات میں جب مسکرا اٹھتے ہیں سیارے ترنم پھوٹ پڑتا ہے مرے ساز رگ جاں سے کوئی انگڑائیاں لیتا جب آ جاتا ہے محفل میں تمنا کروٹیں لیتی ہے پیہم دکھ بھرے دل میں نگاہیں بادۂ رخ سے خمار آمیز ہوتی ہیں شرابی کی طرح جب جھومتی ہیں عشق کی نبضیں کوئی ٹیگورؔ کے جب میٹھے میٹھے گیت گاتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 781 سے 5858