شاعری

مشق

تو وہ سب مشق تھی بے پردگی کی جو مجھے پچھلے کئی ایک سال سے ان اسپتالوں میں کرائی جا رہی تھی جہاں پر قید تھا میں کبھی مجھ کو مرے ہی پھیپھڑوں کی ایکس رے میں قید تصویریں دکھا کر کبھی پیشاب کی تھیلی لگا کر کہ میں پوری طرح بے شرم ہو جاؤں اس اک لمحے کے آنے تک جب اک انجان ہاتھ غسل کے تختے پہ ...

مزید پڑھیے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے

سچ تو بیٹھ کے کھاتا ہے جھوٹ کما کر لاتا ہے یاد بھی کوئی آتا ہے یاد تو رکھ جاتا ہے جیسے لفظ ہوں ویسا ہی منہ کا مزہ ہو جاتا ہے پھر دشمن بڑھ جائیں گے کس کو دوست بناتا ہے کیسی خشک ہوائیں ہیں صبح سے دن چڑھ جاتا ہے اسے گھٹا کر دنیا میں باقی کیا رہ جاتا ہے جانے وہ اس چہرہ پر کس کا ...

مزید پڑھیے

اچھا تو تم ایسے تھے

اچھا تو تم ایسے تھے دور سے کیسے لگتے تھے ہاتھ تمہارے شال میں بھی کتنے ٹھنڈے رہتے تھے سامنے سب کے اس سے ہم کھنچے کھنچے سے رہتے تھے آنکھ کہیں پر ہوتی تھی بات کسی سے کرتے تھے قربت کے ان لمحوں میں ہم کچھ اور ہی ہوتے تھے ساتھ میں رہ کر بھی اس سے چلتے وقت ہی ملتے تھے اتنے بڑے ہو کے ...

مزید پڑھیے

ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیا

ہونے سے مرے فرق ہی پڑتا تھا بھلا کیا میں آج نہ جاگا تو سویرا نہ ہوا کیا سب بھیگی رتیں نیند کے اس پار ہیں شاید لگتی ہے ذرا آنکھ تو آتی ہے ہوا کیا ہم کھوج میں جس کی ہیں پریشان ازل سے بیمار کی آنکھوں نے وہ در ڈھونڈ لیا کیا مقتول کو بانہوں میں لیے بیٹھا رہوں کیوں اس جرم سے لینا ہے ...

مزید پڑھیے

دنیا شاید بھول رہی ہے

دنیا شاید بھول رہی ہے چاہت کچھ اونچا سنتی ہے جب چادر سر سے اوڑھی ہے موت سرہانے پر دیکھی ہے اتنا سچا لگتا ہے وہ دیکھو تو حیرت ہوتی ہے قرب کی ساعت تو یاروں کو چپ کرنے میں گزر جاتی ہے آؤ گلے مل کر یہ دیکھیں اب ہم میں کتنی دوری ہے فیصلے اوروں کے کرتا ہوں اپنی سزا کٹتی رہتی ہے یگ ...

مزید پڑھیے

سفر سے مجھ کو بد دل کر رہا تھا

سفر سے مجھ کو بد دل کر رہا تھا بھنور کا کام ساحل کر رہا تھا وہ سمجھا ہی کہاں اس مرتبے کو میں اس کو دکھ میں شامل کر رہا تھا ہماری فتح تھی مقتول ہونا یہی کوشش تو قاتل کر رہا تھا کوئی تو تھا مرے ہی قافلے میں جو میرا کام مشکل کر رہا تھا وہ ٹھکرا کر گیا اس دور میں جب میں جو چاہوں وہ ...

مزید پڑھیے

کہاں سوچا تھا میں نے بزم آرائی سے پہلے

کہاں سوچا تھا میں نے بزم آرائی سے پہلے یہ میری آخری محفل ہے تنہائی سے پہلے بس اک سیلاب تھا لفظوں کا جو رکتا نہیں تھا یہ ہلچل سطح پہ رہتی ہے گہرائی سے پہلے بہت دن ہوش مندوں کے کہے کا مان رکھا مگر اب مشورہ کرتا ہوں سودائی سے پہلے فقط رنگوں کے اس جھرمٹ کو میں سچ مان لوں کیا وہ سب ...

مزید پڑھیے

کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں

کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے یہاں بھیڑ چھٹ جائے گی پل میں یہ خبر اڑتے ہی اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے یہاں یہ بھنور کون سا موتی مجھے دے سکتا ہے بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے یہاں کیا ملا دشت میں آ کر ترے دیوانے کو گھر کے جیسا ہی اگر ...

مزید پڑھیے

عجب شکست کا احساس دل پہ چھایا تھا

عجب شکست کا احساس دل پہ چھایا تھا کسی نے مجھ کو نشانا نہیں بنایا تھا اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ میں سب کچھ نظر بھی آیا تھا یہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں وہ کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا تھا الجھ گیا ہوں کچھ ایسا کہ یاد بھی تو نہیں یہ وہم پہلے پہل کیسے ...

مزید پڑھیے

کبھی خود کو چھوکر نہیں دیکھتا ہوں

کبھی خود کو چھوکر نہیں دیکھتا ہوں خدا جانے بس وہم میں مبتلا ہوں کہاں تک یہ رفتار قائم رہے گی کہیں اب اسے روکنا چاہتا ہوں وہ آ کر منا لے تو کیا حال ہوگا خفا ہو کے جب اتنا خوش ہو رہا ہوں فقط یہ جتاتا ہوں آواز دے کر کہ میں بھی اسے نام سے جانتا ہوں گلی میں سب اچھا ہی کہتے تھے مجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 773 سے 5858