خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے
خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے اشاروں کو ترے پڑھنے کی جرأت اب ہوئی ہے عجب لہجے میں کرتے تھے در و دیوار باتیں مرے گھر کو بھی شاید میری عادت اب ہوئی ہے گماں ہوں یا حقیقت سوچنے کا وقت کب تک یہ ہو کر بھی نہ ہونے کی مصیبت اب ہوئی ہے اچانک ہڑبڑا کر نیند سے میں جاگ اٹھا ہوں پرانا ...