شاعری

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے اشاروں کو ترے پڑھنے کی جرأت اب ہوئی ہے عجب لہجے میں کرتے تھے در و دیوار باتیں مرے گھر کو بھی شاید میری عادت اب ہوئی ہے گماں ہوں یا حقیقت سوچنے کا وقت کب تک یہ ہو کر بھی نہ ہونے کی مصیبت اب ہوئی ہے اچانک ہڑبڑا کر نیند سے میں جاگ اٹھا ہوں پرانا ...

مزید پڑھیے

رات بے پردہ سی لگتی ہے مجھے

رات بے پردہ سی لگتی ہے مجھے خوف نے ایسی نظر دی ہے مجھے آہ اس معصوم کو کیسے بتاؤں کیوں اسے کھونے کی جلدی ہے مجھے جوش میں ہیں اس قدر تیماردار ٹھیک ہوتے شرم آتی ہے مجھے اک لطیفہ جو سمجھ میں بھی نہ آئے اس پہ ہنسنا کیوں ضروری ہے مجھے منتشر ہونے لگے سارے خیال نیند بس آنے ہی والی ہے ...

مزید پڑھیے

اداس ہیں سب پتا نہیں گھر میں کیا ہوا ہے

اداس ہیں سب پتا نہیں گھر میں کیا ہوا ہے ہمارا اتنا خیال کیوں رکھا جا رہا ہے کچھ اتنا خوش فہم ہو گیا ہوں کہ اپنا چہرہ پرائی آنکھوں سے جب بھی دیکھا برا لگا ہے ابھی تو اچھی لگے گی کچھ دن جدائی کی رت ابھی ہمارے لیے یہ سب کچھ نیا نیا ہے خوشی ہوئی تھی کہ اب میں تنہا نہیں ہوں لیکن یہ ...

مزید پڑھیے

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے اپنے ماحول میں خود کو دیکھے ہوئے ایک دن ہم اچانک بڑے ہو گئے کھیل میں دوڑ کر اس کو چھوتے ہوئے سب گزرتے رہے صف بہ صف پاس سے میرے سینے پہ اک پھول رکھتے ہوئے جیسے یہ میز مٹی کا ہاتھی یہ پھول ایک کونے میں ہم بھی ہیں رکھے ہوئے شرم تو آئی لیکن خوشی بھی ...

مزید پڑھیے

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا دھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا اب ہماری مشکلیں کچھ کم ہوئیں دشمنوں نے ایک چہرا کر لیا ہاتھ کیا آیا سجا کر محفلیں اور بھی خود کو اکیلا کر لیا ہارنے کا حوصلہ تو تھا نہیں جیت میں دشمن کی حصہ کر لیا منزلوں پر ہم ملیں یہ طے ہوا واپسی میں ساتھ پکا کر ...

مزید پڑھیے

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں

کہیں نہ تھا وہ دریا جس کا ساحل تھا میں آنکھ کھلی تو اک صحرا کے مقابل تھا میں حاصل کر کے تجھ کو اب شرمندہ سا ہوں تھا اک وقت کہ سچ مچ تیرے قابل تھا میں کس احساس جرم کی سب کرتے ہیں توقع اک کردار کیا تھا جس میں قاتل تھا میں کون تھا وہ جس نے یہ حال کیا ہے میرا کس کو اتنی آسانی سے حاصل ...

مزید پڑھیے

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم خموشی کی زباں سمجھے نہیں ہم انا کی بات اب سننا پڑے گی وہ کیا سوچے گا جو روٹھے نہیں ہم ادھوری لگ رہی ہے جیت اس کو اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم ہمیں تو روک لو اٹھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم بچھڑنے کا ترے صدمہ تو ہوگا مگر اس خوف کو جیتے نہیں ...

مزید پڑھیے

نگاہ نیچی ہوئی ہے میری

نگاہ نیچی ہوئی ہے میری یہ ٹوٹنے کی گھڑی ہے میری پلٹ پلٹ کر جو دیکھتا ہوں کوئی صدا ان سنی ہے میری یہ کام دونوں طرف ہوا ہے اسے بھی عادت پڑی ہے میری تمام چہروں کو ایک کر کے عجیب صورت بنی ہے میری وہیں پہ لے جائے گی یہ مٹی جہاں سواری کھڑی ہے میری

مزید پڑھیے

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا غلط موسم میں صحرا دیکھ آیا ڈگر اور منزلیں تو ایک سی تھیں وہ پھر مجھ سے جدا کیا دیکھ آیا ہر اک منظر کے پس منظر تھے اتنے بہت کچھ بے ارادہ دیکھ آیا کسی کو خاک دے کر آ رہا ہوں زمیں کا اصل چہرہ دیکھ آیا رکا محفل میں اتنی دیر تک میں اجالوں کا بڑھاپا دیکھ ...

مزید پڑھیے

یوں بھی صحرا سے ہم کو رغبت ہے

یوں بھی صحرا سے ہم کو رغبت ہے بس یہی بے گھروں کی عزت ہے اب سنورنے کا وقت اس کو نہیں جب ہمیں دیکھنے کی فرصت ہے تجھ سے میری برابری ہی کیا تجھ کو انکار کی سہولت ہے قہقہہ ماریے میں کچھ بھی نہیں مسکرانے میں جتنی محنت ہے سیر دنیا کو آ تو جاؤ مگر واپسی میں بڑی مصیبت ہے یہ جو اک شکل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 774 سے 5858