شاعری

ہم زندگی شناس تھے سب سے جدا رہے

ہم زندگی شناس تھے سب سے جدا رہے بستی میں ہول آیا تو جنگل میں جا رہے کمرے میں میرے دھوپ کا آنا بہ وقت صبح آنکھوں میں کاش ایک ہی منظر بسا رہے پھر آج میرے درد نے مجھ کو منا لیا کوئی کسی عزیز سے کب تک خفا رہے کب تک کسی پڑاؤ پہ وحشت کرے قیام کب تک کسی کے ہجر کا سایہ گھنا رہے بابا یہ ...

مزید پڑھیے

نمو

خزاں کے دور میں پھیلی برہنہ شاخوں نے جڑوں کی طرح سے رنگ شفق کو چوسا تھا سنہری دھوپ کی تابانیوں کو جذب کیا سفید برف کی نرمی کو یوں سمویا تھا کہ اب بہار کے آنے پہ وہ گلابی شفق گلوں کے روپ میں شاخوں پہ پھوٹ آئی ہے سفید برف نے پھولوں کی پنکھڑی کا بدن سنہری دھوپ نے پیلے گلوں کو ڈھالا ...

مزید پڑھیے

رات کا راہی

رات کی کالی سڑک پر روشنی کا دائرہ ایک تنہا چاپ جیسے ہو مسافر کی صدا یہ قدم پر عزم تھے اس روشنی کی سمت میں پر حصار روشنی میں سست یوں پڑتے گئے تیرگی کے اس سفر میں روشنی کا یہ پڑاؤ راہرو کے واسطے اک دعوت آرام ہو روشنی کی حد پہ جا کر اس طرح ٹھٹکے قدم تیرگی میں ڈوبنا ان کو گوارا پھر نہ ...

مزید پڑھیے

نخل مریم

ٹاٹ کے اک پردے کے پیچھے گھٹی ہوئی گلیوں کی فضا میں ایک کشیدہ کرنے والی گلکاری کی شائق لڑکی کرتی ہے ایسے گل باری ململ ہو جیسے اک کیاری حبس اور گرمی میں یہ مالن بیل چڑھائے پھول لگائے چکن کے ٹانکوں سے کھل جائیں ڈھیر چنبیلی کے لگ جائیں گجرے بیلے کے لہرائیں لمس سے دوشیزہ ہاتھوں ...

مزید پڑھیے

ریشم جال

پیار کے ریشم لچھوں کو خود ہی الجھاتی ہوں پہروں بیٹھ دھنک رنگوں کو پھر سلجھاتی ہوں میری چاہت نے کاتے ہیں ریشم کے یہ سار ان میں الجھ جانے سے میں پھر کیوں گھبراتی ہوں اپنے خول میں ریشم کا کیڑا بھی خوش تو نہیں میں بھی تتلی بن کر موقع پا اڑ جاتی ہوں

مزید پڑھیے

میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں

میری نظر کا مدعا اس کے سوا کچھ بھی نہیں اس نے کہا کیا بات ہے میں نے کہا کچھ بھی نہیں ہر ذہن کو سودا ہوا ہر آنکھ نے کچھ پڑھ لیا لیکن سر قرطاس جاں میں نے لکھا کچھ بھی نہیں دیوار شہر عصر پر کیا قامتیں چسپاں ہوئیں کوشش تو کچھ میں نے بھی کی لیکن بنا کچھ بھی نہیں جس سے نہ کہنا تھا کبھی ...

مزید پڑھیے

آج کا وعدہ یوں ہی کل پہ اٹھائے رکھئے

آج کا وعدہ یوں ہی کل پہ اٹھائے رکھئے غم نصیبوں کو بہر حال جلائے رکھئے خون کے گھونٹ پئے جائیے صہبا کے عوض کچھ نہ کچھ بزم کا ماحول بنائے رکھئے حال کے غم کا نہیں اس کے سوا کوئی علاج اپنے ماضی کو کلیجے سے لگائے رکھئے جانے کب مانگ لے وہ اپنی محبت کا صلہ کم سے کم اتنا لہو دل میں بچائے ...

مزید پڑھیے

ہوائیں تیز تھیں ماحول گرد گرد نہ تھا

ہوائیں تیز تھیں ماحول گرد گرد نہ تھا رخ حیات کبھی اتنا زرد زرد نہ تھا تھا انتشار ازل ہی سے آدمی کا نصیب مگر سماج کبھی اتنا فرد فرد نہ تھا جو تیرے ہجر میں اٹھتا تھا دل میں رہ رہ کر وہ کیف وصل سے بڑھ کر تھا درد درد نہ تھا مکالموں میں ترے زیست کی حرارت تھی ترا سلوک کبھی اتنا سرد سرد ...

مزید پڑھیے

جئے جانے کے خواب میں زندہ

جئے جانے کے خواب میں زندہ اک مسلسل سراب میں زندہ زندگی کے لئے ترستے لوگ زندگی کے عذاب میں زندہ ہاتھ آئی نہیں کوئی منزل ہیں سفر کے سراب میں زندہ خواب مرتے نہیں ہیں ذہنوں کے نغمہ جیسے رباب میں زندہ کشت دل لہلہائی اشکوں نے رنگ دنیا سحاب میں زندہ وہ نمو خیز کالی مٹی ہے شکل خوشبو ...

مزید پڑھیے

دور سے آتی صدا پر رقصاں

دور سے آتی صدا پر رقصاں پاؤں میرے ہیں صبا پر رقصاں اس کا آتا ہے اندھیرے میں خیال بجلیاں جیسے گھٹا پر رقصاں تیز آندھی میں حوادث کی ہم سوکھے پتے ہیں ہوا پر رقصاں میرے پندار کے مسمار محل میں ہوں اب ان کی بنا پر رقصاں خون آلودہ مرے پاؤں ہیں اور میں اپنی انا پر رقصاں شہلاؔ اس رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 730 سے 5858