شاعری

یہ کائنات ترا معجزہ لگے ہے مجھے

یہ کائنات ترا معجزہ لگے ہے مجھے خدا نہیں ہے مگر تو خدا لگے ہے مجھے نہ اپنے ہاتھ اٹھاؤ نہ التماس کرو کبھی کسی کی بتاؤ دعا لگے ہے مجھے کسے خبر ہے کہ کب چلتی سانس رک جائے یہ زندگی بھی فریب قضا لگے ہے مجھے ترے وصال نے بے چین کر دیا تھا بہت ترا فراق ہی دل کی دوا لگے ہے مجھے ہر ایک چیز ...

مزید پڑھیے

آخر تمہارے عشق میں برباد ہو سکے

آخر تمہارے عشق میں برباد ہو سکے گزرے کہاں کہاں سے تو شہزاد ہو سکے بستی کو اپنی چھوڑ کے آیا ہے اک فقیر خواہش کہ تیرے جسم میں آباد ہو سکے مدت سے اپنی یاد بھی آتی نہیں ہمیں تم جس کو یاد ہو اسے کیا یاد ہو سکے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ دے کہ میں راکھ ہو سکوں میری نئے سرے سے پھر ایجاد ہو ...

مزید پڑھیے

سانپ سیڑھی

وہ سانپ سیڑھی کا کھیل تھا جو ہم عہد طفلی میں کھیلتے تھے اگرچہ سانپوں سے گھر بھی جاتے جو کوئی ان میں سے ڈس بھی لیتا تو واپس اپنی جگہ پہ جاتے وہ زہر ہوتا تھا اتنا ہلکا کہ مر نہ پاتے پھر اپنی جد و جہد کی خاطر ہم اٹھ کے قسمت کو آزماتے اور ایسا ہوتا بھی تھا کہ اکثر ہمیں وہ سیڑھی ملی ہے جس ...

مزید پڑھیے

عید

چلو ہم عید منائیں کہ جشن کا دن ہے خوشی کے گیت سنائیں کہ جشن کا دن ہے رخوں پہ پھول کھلائیں کہ جشن کا دن ہے دلوں میں پریت جگائیں کہ جشن کا دن ہے مگر رکو ذرا ٹھہرو یہ سسکیاں کیسی خوشی کہ رت میں دکھوں کی یہ بدلیاں کیسی سنو یہ غور سے مائیں بلک رہی ہیں کہیں یہ دیکھو بچوں کی آنکھیں چھلک ...

مزید پڑھیے

خودداری

کسی چراغ سے ہنس کر کہا یہ آندھی نے کہ میرے سامنے اوقات کیا تمہاری ہے بڑے ہی فخر سے بولا چراغ اے آندھی جو بجھ گیا تو شہیدوں میں نام ہوگا مرا جلا رہا تو اندھیرا غلام ہوگا مرا

مزید پڑھیے

قتل چراغاں

آج پھر قتل چراغاں کا یہ منظر دیکھو آج پھر خاک سی اڑتی ہے چمن زاروں میں پھوٹا پھر خون کا سوتا کہیں کوہساروں میں آج پھر مقتل انساں پہ بڑی رونق ہے آج پھر صورت‌ شیطاں پہ بڑی رونق ہے کچھ دھماکوں نے جو تصویر بدل ڈالی ہے خاک بھی خاک نہیں ہے یہاں اب لالے ہے بن کے کون آیا ہے اب نوع بشر کا ...

مزید پڑھیے

تلاش

نہ جانے کیوں یہ لگ رہا ہے جیسے کھو گیا ہے کچھ کبھی یہ لگ رہا ہے جیسے ہم نے پا لیا ہے کچھ وہ کیا ہے جو کہ کھو گیا وہ کیا تھا جس کو پا لیا یہ بات مشتمل ہے ایک عرصہ‌ٔ عقیل پر قلندر ایک رو‌ نما ہوا تھا اک سبیل پر وہ پہلے علم و فن کی پوری پیاس کو جگاتا تھا سوال پوچھتا تھا اور تشنگی بجھاتا ...

مزید پڑھیے

اب تو جس روز سے روٹھی ہے محبت اس کی

اب تو جس روز سے روٹھی ہے محبت اس کی بڑھ گئی اور بھی پہلے سے ضرورت اس کی لوح ہر زخم پہ تحریر ہے اس کا مضمون نقش ہے ہر ورق دل پہ عبارت اس کی جسم تو میرا تھا دل اس کا تھا جاں اس کی تھی میری جاگیر تھی چلتی تھی حکومت اس کی شور فریاد سنائیں تو سنائیں کس کو حشر اس کا ہے خدا اس کا قیامت اس ...

مزید پڑھیے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

مزید پڑھیے

سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی

سمندر سے غم و غصہ کے طغیانی نہیں جاتی شکایت چیز ایسی ہے بہ آسانی نہیں جاتی نگاہوں نے نہ جانے اس کی دیکھے کون سے منظر بہت چاہا پہ آنکھوں سے یہ ویرانی نہیں جاتی تخیل دستکیں دے کر پلٹ جاتا ہے اکثر ہی انا کی جذبۂ دل پر نگہبانی نہیں جاتی بہت ممکن ہے خط کا بھی ترے مضموں بدل جائے ابھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 726 سے 5858