شاعری

خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا

خون ناحق کا سمندر نہیں دیکھا جاتا اب تباہی کا یہ منظر نہیں دیکھا جاتا جب سے ہے قید حصاروں میں تکبر کے انا خود سے اونچا کوئی پیکر نہیں دیکھا جاتا جانے کب کون ہمیں دیش نکالا دے دے سر پہ لٹکا ہوا خنجر نہیں دیکھا جاتا جو ذریعہ تھا شکم سیریٔ انساں کا سدا پیٹ پر باندھے ہے پتھر نہیں ...

مزید پڑھیے

اعتراف

کبھی ایسا بھی ہوتا ہے سوالوں کی کوئی اک بھیڑ مجھ کو گھیر لیتی ہے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں پابندیوں کے اس قفس کو توڑ کر باہر نکل آؤں میں اس دنیا کو دیکھوں اور بہت نزدیک سے دیکھوں ذہن میں کلبلاہٹ ان سوالوں کے بھی حل ڈھونڈوں جو کچھ میرے ہیں اور کچھ دوسروں نے مجھ سے پوچھے ہے کسی کو ...

مزید پڑھیے

تصویر

ہوں اک عرصے سے کوشش میں کہ میری ادھ بنی تصویر اپنے پایۂ تکمیل تک پہنچے کئی خط کھینچ رکھے ہیں بنانا چاہتی ہوں کچھ حسیں چہرے اچھلتے کودتے ہنستے ہوئے بچوں کے بھی خاکے مگر جب ان کے ہونٹوں پر تبسم کھینچنا چاہوں تو کچھ چہرے ابھرتے ہیں کہ ان کی جلتی آنکھیں جن میں آمیزش دکھوں کی ہے سوال ...

مزید پڑھیے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے

جن کے فٹ پاتھ پہ گھر پاؤں میں چھالے ہوں گے ان کے ذہنوں میں نہ مسجد نہ شوالے ہوں گے بھوکے بچوں کی امیدیں نہ شکستہ ہو جائیں ماں نے کچھ اشک بھی پانی میں ابالے ہوں گے تیرے لشکر میں کوئی ہو تو بلا لے اس کو میرا دعویٰ ہے کہ اس سمت جیالے ہوں گے جنگ پر جاتے ہوئے بیٹے کی ماں سے پوچھو کیسے ...

مزید پڑھیے

نہ ہے اس کو مجھ سے غفلت نہ وہ ذمے دار کم ہے

نہ ہے اس کو مجھ سے غفلت نہ وہ ذمے دار کم ہے پہ الگ ہے اس کی فطرت وہ وفا شعار کم ہے مری حسرتیں مٹیں گی مرے خواب ہوں گے پورے مجھے اپنے اس یقیں پر ذرا اعتبار کم ہے نہ بڑھائے اور دوری کوئی آنے والا موسم چلو فاصلے مٹا لیں کہ ابھی درار کم ہے یہ تم ہی پہ منحصر ہے کہ تم آؤ یا نہ آؤ میں بھلا ...

مزید پڑھیے

وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا

وہ جو مجھ سے خفا نہیں ہوتا درد حد سے سوا نہیں ہوتا میری کوشش کو جو رضا ملتی لفظ یوں بے صدا نہیں ہوتا ہم زباں تو بہت ملے لیکن کیوں کوئی ہم نوا نہیں ہوتا ہم اگر پہلے جاگ جاتے تو سانحہ وہ ہوا نہیں ہوتا آگ بستی کی گر بجھاتا تو اس کا گھر بھی جلا نہیں ہوتا کوئی کوشش کبھی تو کی ...

مزید پڑھیے

دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں

دشمنی وہ لائے ہیں دوستی کے دامن میں تیرگی ہے پوشیدہ روشنی کے دامن میں عدل کے لئے ملزم کب سے راہ تکتا ہے کون سی ہے مجبوری منصفی کے دامن میں گو کہ وہ مسیحا ہے پر یہ درد میرے ہیں کیسے سارے دکھ رکھ دوں اجنبی کے دامن میں یوں لباس بوسیدہ مال و زر سے خالی ہے بے کراں محبت ہے مفلسی کے ...

مزید پڑھیے

ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں

ہوا بھی گرم ہے چھائے ہیں سرخ بادل کیوں یہ ظلم کس پہ ہوا روئی خاک مقتل کیوں جو خواب دیکھتی آئی ہوں اپنے بچپن سے ادھورا خواب وہ ہوتا نہیں مکمل کیوں جو آرزو تھی کہ ہوں ارد گرد گل بوٹے تو تم نے ناگ پھنی کے اگائے جنگل کیوں ہم اپنے شوق کی دنیا میں گم تھے کچھ ایسے سمجھ نہ پائے کہ بھیگا ...

مزید پڑھیے

اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے

اے خدا تر مرے صحراؤں کا دامن کر دے ابر کو موڑ دے اس سمت کو ساون کر دے اس سے پہلے کہ کوئی توڑ کے بکھرا دے مجھے میرے مالک تو میرے حوصلے آہن کر دے خار و خس کی ہی حکومت ہے گلستانوں میں اپنی رحمت سے ہرا میرا یہ گلشن کر دے حلم ایسا کہ جو دشمن کو بنا لے اپنا علم وہ دے جو خیالات کو روشن کر ...

مزید پڑھیے

زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے

زباں کا زاویہ لفظوں کی خو سمجھتا ہے میں اس کو آپ پکاروں وہ تو سمجھتا ہے میں اس کی بزم میں بھی سرفراز رہتا ہوں میرا نسب مری عظمت عدو سمجھتا ہے منافقت سے عزیزوں کو زیر کرتا ہے اور اس میں اپنی بڑی آبرو سمجھتا ہے سخن کے حرف پہ رکھتا ہے حرف جاں کا مدار حیا کو آنکھ کی درد سبو سمجھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 727 سے 5858