مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے وہ کشتیاں مری پتوار جن کے ٹوٹ گئے وہ بادباں جو ترستے رہے ہوا کے لیے بس ایک ہوک سی دل سے اٹھے گھٹا کی طرح کہ حرف و صوت ضروری نہیں دعا کے لیے جہاں میں رہ کے جہاں سے برابری کی یہ چوٹ اک امتحان مسلسل مری انا کے ...