شاعری

مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے

مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے وہ کشتیاں مری پتوار جن کے ٹوٹ گئے وہ بادباں جو ترستے رہے ہوا کے لیے بس ایک ہوک سی دل سے اٹھے گھٹا کی طرح کہ حرف و صوت ضروری نہیں دعا کے لیے جہاں میں رہ کے جہاں سے برابری کی یہ چوٹ اک امتحان مسلسل مری انا کے ...

مزید پڑھیے

جس سے بیزار رہے تھے وہی در کیا کچھ ہے

جس سے بیزار رہے تھے وہی در کیا کچھ ہے گھر کی دوری نے یہ سمجھایا کہ گھر کیا کچھ ہے شکر کرتا ہوں خدا نے مجھے محسود کیا اب میں سمجھا کہ مرے پاس ہنر کیا کچھ ہے رات بھر جاگ کے کاٹے تو کوئی میری طرح خود بہ خود سمجھے گا وہ پچھلا پہر کیا کچھ ہے کوئی جھونکا نہیں سنکا چمن رفتہ سے کوئی سن گن ...

مزید پڑھیے

دیکھو فراق یار میں جاں کھو رہا ہے وہ

دیکھو فراق یار میں جاں کھو رہا ہے وہ شہزادؔ کو سنبھالو بہت رو رہا ہے وہ آئے نئے جو زخم تو یہ روح نے کہا کچھ دیر بیٹھ جاؤ ابھی سو رہا ہے وہ صحرا کی خاک حق میں مرے کہہ رہی ہے یہ جو ہونا چاہتا تھا وہی ہو رہا ہے وہ پہلے بھی خالی ہاتھ تھا ہے اب بھی خالی ہاتھ اور کب سے بار سود و زیاں ڈھو ...

مزید پڑھیے

اس قدر خود پہ ہم جفا نہ کریں

اس قدر خود پہ ہم جفا نہ کریں جسم کو جان سے جدا نہ کریں اشک از چشم من جدا نشود آپ ایسی کبھی دعا نہ کریں آؤ عہد وفا کریں دونوں اور عہد وفا وفا نہ کریں پھول بن کر مہکنے لگتے ہیں آپ زخموں کو یوں چھوا نہ کریں دور مانا زمین ہے اس سے آسماں سے مگر کہا نہ کریں اور بھی کچھ مزید دہکے گی آگ ...

مزید پڑھیے

چاندنی اپنے ساتھ لائی ہے

چاندنی اپنے ساتھ لائی ہے تیری صورت میں رات آئی ہے خود میں اب خود کو میں نہیں ملتا اس قدر مجھ میں تو سمائی ہے ایک دن جسم چھوڑ جائے گی روح اپنی نہیں پرائی ہے نہر میں صاف کچھ بھی دکھتا نہیں آج پانی پہ کتنی کائی ہے تجھ کو خط بھی لکھے ہیں خون سے اور تیری تصویر بھی بنائی ہے سر کھلے ...

مزید پڑھیے

آسماں تجھ سے کنارا کہیں کرنا ہے مجھے

آسماں تجھ سے کنارا کہیں کرنا ہے مجھے تھک گیا اڑتے ہوئے آج اترنا ہے مجھے اپنے زخموں کی ہوا دی ہے کسی ساحل کو اپنے اشکوں سے سمندر کوئی بھرنا ہے مجھے چاند کی ناؤ ہوئی رات کے سیلاب میں غرق پھر سے سورج کی کرن بن کے ابھرنا ہے مجھے یاد آتا ہے بکھر جانا مری ہستی کا اور اس زلف کا کہنا کہ ...

مزید پڑھیے

یوں اپنے دل کے بوجھ کو کچھ کم کیا گیا

یوں اپنے دل کے بوجھ کو کچھ کم کیا گیا عہد وصال و ہجر پہ ماتم کیا گیا آنکھوں سے خوں بہانا پڑا رات دن مجھے تب جا کے تیرے غم کو کہیں غم کیا گیا کیا کم تھا پہلے درہم و برہم اے آسماں جو اور مجھ کو درہم و برہم کیا گیا چہرا تمہارا پھول کیا اپنے عشق سے اور اس پہ پھر پسینے کو شبنم کیا ...

مزید پڑھیے

شرار جاں سے گزر گردش لہو میں آ

شرار جاں سے گزر گردش لہو میں آ اب اے نگار تمنا مرے سبو میں آ مجھے پکار مری بازگشت کی مانند مرے خمیر سے اٹھ میری گفتگو میں آ ترے لیے تو لباس غزل ہے نا کافی قرار جاں تو کسی اور رنگ و بو میں آ میں تشنہ لب ہوں سر دشت آگہی کب سے سبیل تو ہے تو صحرائے جستجو میں آ تجھے تو حلقۂ دانشوراں ...

مزید پڑھیے

عجیب عادت ہے بے سبب انتظار کرنا

عجیب عادت ہے بے سبب انتظار کرنا شب الم میں وصال کے دن شمار کرنا نہیں ہے آساں عداوتوں میں اسیر رہنا روش زمانے سے مختلف اختیار کرنا نہ بے نیاز قیود آداب عشق رہنا نہ اپنے اطراف مصلحت کا حصار کرنا نہ اہل دانش کے دام و دانہ کا صید ہونا نہ شہر والوں کے لطف کا اعتبار کرنا جو محفلوں ...

مزید پڑھیے

رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں

رقابتوں کی طرح سے ہم نے محبتیں بے مثال کی ہیں مگر خموش اب جو ہو گئے ہیں عنایتیں ماہ و سال کی ہیں کہاں سے دنیا کو آ گئے ہیں یہ طور اس کے طریق اس کے مظاہرہ سب گریز کا ہے علامتیں سب وصال کی ہیں نظر اٹھاؤ تو ہر طرف ہے بہشت حسن و جمال لیکن کہاں وہ انداز اس کا لہجہ شباہتیں خد و خال کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 725 سے 5858