شاعری

بے بسی سے ہاتھ اپنے ملنے والے ہم نہیں

بے بسی سے ہاتھ اپنے ملنے والے ہم نہیں مہربانی پر کسی کی پلنے والے ہم نہیں رہ گزر اپنی جدا ہے فلسفہ اپنا الگ جا ترے نقش قدم پر چلنے والے ہم نہیں ایک بس دل کا کیا ہے جان جاں تجھ سے سوال دل لئے بن تیرے در سے ٹلنے والے ہم نہیں ہم کہ سورج کی طرح بزدل نہیں اے ظلمتو تیرگیٔ شب سے ڈر کر ...

مزید پڑھیے

دل پر ستم ہزار کرے بے وفا کے لب

دل پر ستم ہزار کرے بے وفا کے لب برچھی کبھی کٹار لگے دل ربا کے لب گفت و شنید میں بڑے بے باک ہیں مگر دیکھا مجھے تو کھل نہ سکے لب کشا کے لب گفتار و آن بان کا عالم نہ پوچھئے خوش رنگ و جاں فزا ہیں مرے ہم نوا کے لب ہو جائے پل میں خاک وہ جس کو یہ چوم لیں جلتے ہوئے شرارے ہیں جان ادا کے ...

مزید پڑھیے

تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں

تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں نازاں ہوں ہو کر تجھ سے وابستہ میں جان کے بھی انجان بنی رہتی ہے تو پاس کبھی آ جاؤں جو آہستہ میں پیار کی خوشبو سے مہکاتا ہوں محفل اپنے آپ میں پھولوں کا گلدستہ میں ورنہ کون سنے کم ظرفوں کے طعنے مجبوری کے باعث ہوں لب بستہ میں وہ جو عیاں ہو کر بھی نہاں ...

مزید پڑھیے

نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے

نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے اس پہ میرا فن پرواز گراں گزرا ہے یہ الگ بات نتیجہ جو نکلتا لیکن اتنا مایوس کن آغاز گراں گزرا ہے اک نہ اک روز تو کھلنی ہی تھی سچائی مگر فاش اچانک جو ہوا راز گراں گزرا ہے جن میں جرأت نہیں اڑنے کی انہیں کو میرا ہونا یوں مائل پرواز گراں گزرا ہے آتے ...

مزید پڑھیے

حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا

حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا صبح کا رات پہ تنقید سے آغاز کیا شعر گوئی کے سفر کا میاں ناصح ہم نے اپنے افکار کی تجدید سے آغاز کیا وہ پس و پیش کہ سوچوں تو لرز جاتا ہوں اس کی ترجیح نے تردید سے آغاز کیا دیکھتا کیا ہے مرا شوق جنوں میں نے تو اپنے ہر دن کا تری دید سے آغاز کیا عرض‌ ...

مزید پڑھیے

ان کی بھی شرارت تو دیکھو ہم کو ہی کہو گے دوشی کیا

ان کی بھی شرارت تو دیکھو ہم کو ہی کہو گے دوشی کیا برداشت سے باہر ہو جائے تو اوڑھے کوئی خموشی کیا جو اپنی ذات میں خود سر ہیں کیا ان کا ضمیر جھنجھوڑے کوئی ظاہر پر کان نہ دیں جو انہیں باطن کی بھلا سرگوشی کیا دنیا کی بنائی رسم ہے یہ جو ہم کو نبھانی ہے ورنہ نازاں جس پر خود گلشن ہو اس ...

مزید پڑھیے

ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں

ہر طرف اداسی ہے حوصلے بھی زخمی ہیں دل لگی کے موسم میں قہقہے بھی زخمی ہیں وحشتوں کے پیروں میں کون باندھے زنجیریں کیا کریں کہاں جائیں فیصلے بھی زخمی ہیں بے حیائی کے سائے غالب آ گئے ہم پر آج کل تمدن کے زاویے بھی زخمی ہیں راہ و رسم کا قائل اب نہیں رہا انساں ہیں لہو لہو رشتے رابطے ...

مزید پڑھیے

بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم

بچھڑ گئے تھے کسی روز کھیل کھیل میں ہم کہ ایک ساتھ نہیں چڑھ سکے تھے ریل میں ہم ذرا سا شور بغاوت اٹھا اور اس کے بعد وزیر تخت پہ بیٹھے تھے اور جیل میں ہم پتہ چلا وہ کوئی عام پینٹنگ نہیں ہے اور اس کو بیچنے والے تھے آج سیل میں ہم جفا کی ایک ہی تیلی سے کام ہو جاتا کہ پورے بھیگے ہوئے تھے ...

مزید پڑھیے

اب کے برس ہوں جتنا تنہا

اب کے برس ہوں جتنا تنہا پہلے کہاں تھا اتنا تنہا دنیا ایک سمندر جس میں میں ہوں کوئی جزیرہ تنہا زیست سفر ہے تنہائی کا آنا تنہا جانا تنہا اس کو بتاؤ جسم سے کٹ کر رہ نہیں سکتا سایہ تنہا اف یہ موج طوفان الم ہائے دل کا سفینہ تنہا جس کو چاہا جان سے بڑھ کر آخر اس نے چھوڑا تنہا گھر سے ...

مزید پڑھیے

ناز بھلا کس بات کا تجھ کو پاس ہنر جب کچھ بھی نہیں

ناز بھلا کس بات کا تجھ کو پاس ہنر جب کچھ بھی نہیں منزل پر پہنچے گا کیسے رخت سفر جب کچھ بھی نہیں دیکھ بھٹک جائے نہ مسافر آنکھ کی بھول بھلیا میں کس کو ڈھونڈے شوخ نظر تا حد نظر جب کچھ بھی نہیں میری نگاہوں میں دنیا کی ہر شے سے نایاب ہے تو اور کسی کو کیوں چاہوں تجھ سے بہتر جب کچھ بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 694 سے 5858