تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے
تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے مٹیں گے تیری چاہت میں وفا کے باب دیکھیں گے یہ آنکھیں یار کے دیدار کی پیاسی ہیں مدت سے وہ آئیں بام پر تو جلوۂ مہتاب دیکھیں گے خمار خود پرستی بھی کبھی اترے گا موجوں کا تو پھر اے قلزم ہستی تجھے پایاب دیکھیں گے رسائی جو تری محفل تلک اک ...