شاعری

تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے

تجھے دل میں بسائیں گے ترے ہی خواب دیکھیں گے مٹیں گے تیری چاہت میں وفا کے باب دیکھیں گے یہ آنکھیں یار کے دیدار کی پیاسی ہیں مدت سے وہ آئیں بام پر تو جلوۂ مہتاب دیکھیں گے خمار خود پرستی بھی کبھی اترے گا موجوں کا تو پھر اے قلزم ہستی تجھے پایاب دیکھیں گے رسائی جو تری محفل تلک اک ...

مزید پڑھیے

گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی

گیلی مٹی سے بدن بنتے ہوئے عمر لگی مجھ کو صحرا سے چمن بنتے ہوئے عمر لگی پختگی فکر میں یک لخت کہاں آتی ہے میری سوچوں کو سخن بنتے ہوئے عمر لگی ابن آدم کی ہوس سے ملی صدیوں میں نجات بنت حوا کو دلہن بنتے ہوئے عمر لگی فرق حالانکہ بہت تھوڑا ہے دونوں میں مگر سر کے آنچل کو کفن بنتے ہوئے ...

مزید پڑھیے

اپنا خالق خود ہی تھا میرا خدا کوئی نہ تھا

اپنا خالق خود ہی تھا میرا خدا کوئی نہ تھا اس جہاں میں مجھ سے پہلے دوسرا کوئی نہ تھا رات بھر چلتا رہا تھا چاند میرے ساتھ ساتھ دشت میں اس کا کہیں بھی نقش پا کوئی نہ تھا فاصلے ہی فاصلے تھے منزلیں ہی منزلیں ہم سفر کوئی نہ تھا اور رہ نما کوئی نہ تھا وہ پیمبر تھا کھڑا تھا اک گلی کے موڑ ...

مزید پڑھیے

تیری الفت میں نہ جانے کیا سے کیا ہو جاؤں گا

تیری الفت میں نہ جانے کیا سے کیا ہو جاؤں گا تو نے گر چاہا تو اک دن میں خدا ہو جاؤں گا قتل کر کے مت سمجھنا میں فنا ہو جاؤں گا جل کے اپنی راکھ سے پھر رونما ہو جاؤں گا میں کسی درویش کے لب کی دعا ہو جاؤں گا بے سہارا زندگی کا آسرا ہو جاؤں گا رات بھر بیٹھا رہا میں تھام کر یادوں کا ...

مزید پڑھیے

صحرا میں کڑی دھوپ کا ڈر ہوتے ہوئے بھی

صحرا میں کڑی دھوپ کا ڈر ہوتے ہوئے بھی سائے سے گریزاں ہوں شجر ہوتے ہوئے بھی ماں باپ کا منظور نظر ہوتے ہوئے بھی محروم وراثت ہوں پسر ہوتے ہوئے بھی یہ جبر مشیت ہے کی تنہائی کی عادت میں قید ہوں دیوار میں در ہوتے ہوئے بھی ہم ایسے پرندوں کی ہے اک پیڑ سے نسبت اڑ کر کہیں جاتے نہیں پر ...

مزید پڑھیے

احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا

احساس کی دیوار گرا دی ہے چلا جا جانے کے لیے یار جگہ دی ہے چلا جا اے قیس نما شخص یہاں کچھ نہیں تیرا تجھ نام کی صحرا میں منادی ہے چلا جا دنیا تو چلو غیر تھی شکوہ نہیں اس سے تو نے بھی تو اوقات دکھا دی ہے چلا جا تا کوئی بہانہ ترے پیروں سے نہ لپٹے دیوار سے تصویر ہٹا دی ہے چلا جا یک ...

مزید پڑھیے

بہتا ہے کوئی غم کا سمندر مرے اندر

بہتا ہے کوئی غم کا سمندر مرے اندر چلتے ہیں تری یاد کے خنجر مرے اندر کہرام مچا رہتا ہے اکثر مرے اندر چلتی ہے ترے نام کی صرصر مرے اندر گمنام سی اک جھیل ہوں خاموش فراموش مت پھینک ارے یاد کے کنکر مرے اندر جنت سے نکالا ہوا آدم ہوں میں آدم باقی وہی لغزش کا ہے عنصر مرے اندر کہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

نکلنے والے نہ تھے زندگی کے کھیل سے ہم

نکلنے والے نہ تھے زندگی کے کھیل سے ہم کہ چین کھینچ کے اترے تھے خود ہی ریل سے ہم رہا نہیں بھی وہ کرتا تو مسئلہ نہیں تھا فرار یوں بھی تو ہو جاتے اس کی جیل سے ہم سخن میں شعبدہ بازی کے ہم نہیں قائل بندھے ہوئے ہیں روایات کی نکیل سے ہم جسے بھی دیکھو لبھایا ہوا ہے دنیا کا سو بچ گئے ہیں ...

مزید پڑھیے

حسن جب قاتل نہ تھا اور عشق دیوانہ نہ تھا

حسن جب قاتل نہ تھا اور عشق دیوانہ نہ تھا زندگی میں درد و غم کا کوئی افسانہ نہ تھا سب سے وہ کہتا پھرا میں ہی تھا اس کا آشنا سامنے آیا تو اس نے مجھ کو پہچانا نہ تھا رات بھر کچھ آہٹیں دل کی طرف آتی رہیں ہم تھے جس کے منتظر اس کو مگر آنا نہ تھا ایک سہمی سی تمنا ایک مبہم سا خیال اس سے ...

مزید پڑھیے

اس نے پھر اور کیا کہا ہوگا

اس نے پھر اور کیا کہا ہوگا راز ہستی بتا چکا ہوگا تم جو چاہو تو جا ملو اس سے وہ ابھی موڑ پر کھڑا ہوگا بے خودی اور بڑھ گئی دل کی جانے کیا یاد آ گیا ہوگا مل گئیں جس سے آپ کی نظریں آج تک خواب دیکھتا ہوگا کوئی اپنی ہنسی کے پردے میں درد دل کا چھپا رہا ہوگا اجنبی شہر میں چلو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 695 سے 5858