شاعری

ٹوٹ کر اندر سے بکھرے اور ہم جل تھل ہوئے

ٹوٹ کر اندر سے بکھرے اور ہم جل تھل ہوئے تجھ سے جب بچھڑے تو اتنا روئے ہم بادل ہوئے تھے کبھی آباد جو زخموں کے پھولوں سے یہاں دیکھنا وہ شہر اس موسم میں سب جنگل ہوئے دھوپ سے محرومیوں کی تھے ہراساں لوگ سب روح کے آزار سے کچھ اور بھی پاگل ہوئے جن سے وابستہ تھی شبنمؔ زندگی کی ہر خوشی آہ ...

مزید پڑھیے

جو دل کی بارگاہ میں تجلیاں دکھا گیا

جو دل کی بارگاہ میں تجلیاں دکھا گیا مرے حواس و ہوش پر سرور بن کے چھا گیا ترے بغیر زندگی گزارنا محال تھا مگر یہ قلب ناتواں یہ بوجھ بھی اٹھا گیا جو شخص میری ذات میں بسا ہوا تھا مدتوں نہ جانے مجھ سے روٹھ کر وہ اب کہاں چلا گیا پھر آج اک ہوائے غم اداس دل کو کر گئی خیال تیری یاد کا نظر ...

مزید پڑھیے

برپا ترے وصال کا طوفان ہو چکا

برپا ترے وصال کا طوفان ہو چکا دل میں جو باغ تھا وہ بیابان ہو چکا پیدا وجود میں ہر اک امکان ہو چکا اور میں بھی سوچ سوچ کے حیران ہو چکا پہلے خیال سب کا تھا اب اپنی فکر ہے دامن کہاں رہا جو گریبان ہو چکا تم ہی نے تو یہ درد دیا ہے جناب من تم سے ہمارے درد کا درمان ہو چکا جو جشن وشن ہے ...

مزید پڑھیے

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے ایسے میں آرزو بڑی ہمت کا کام ہے ہم کو بھی چھوڑتا ہوا آگے نکل گیا جذبوں کا قافلہ بھی بڑا تیز گام ہے بے آرزو بھی خوش ہیں زمانے میں بعض لوگ یاں آرزو کے ساتھ بھی جینا حرام ہے لفظوں کی جان چھوڑ دے مفہوم کو پکڑ ورنہ یہ سب معاملہ تجنیس تام ہے توبہ کے ...

مزید پڑھیے

جو قصہ تھا خود سے چھپایا ہوا

جو قصہ تھا خود سے چھپایا ہوا وہ تھا شہر بھر کو سنایا ہوا مخالف سے صلح و صفائی جو کی کئی دوستوں کا صفایا ہوا جو محفل میں پہچانتا تک نہ تھا تصور میں بیٹھا ہے آیا ہوا ہر اک زخم جائے گا میرے ہی ساتھ نمک سب نے ہے میرا کھایا ہوا نظر آ رہا ہے جو وہ آسماں یہ ہے میرے رب کا بنایا ہوا

مزید پڑھیے

دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں

دل کی بستی پہ کسی درد کا سایہ بھی نہیں ایسا ویرانی کا موسم کبھی آیا بھی نہیں ہم کسی اور ہی عالم میں رہا کرتے ہیں اہل دنیا نے جہاں آکے ستایا بھی نہیں ہم پہ اس عالم تازہ میں گزرتی کیا ہے تم نے پوچھا بھی نہیں ہم نے بتایا بھی نہیں کب سے ہوں غرق کسی جھیل کی گہرائی میں راز ایام مگر عقل ...

مزید پڑھیے

نہ دیکھا جامۂ خود رفتگی اتار کے بھی

نہ دیکھا جامۂ خود رفتگی اتار کے بھی چلی گئیں تری یادیں مجھے پکار کے بھی یہ زندگی ہے اسے تلخ ترش ہونا ہے صعوبتوں کے ذرا دیکھ دن گزار کے بھی حباب زیست نہ دست قضا سے ٹوٹ سکا حیات باقی رہی قبر میں اتار کے بھی ترے غرور کے ہے روبرو یہ خوش شکنی جھکا کے سر نہ ہوئے پیش شہریار کے بھی بدی ...

مزید پڑھیے

فراق و وصل سے ہٹ کر کوئی رشتہ ہمارا ہو

فراق و وصل سے ہٹ کر کوئی رشتہ ہمارا ہو بغیر اس کے بھی شاید زندگی ہم کو گوارا ہو نکل آئے جو ہم گھر سے تو سو رستے نکل آئے عبث تھا سوچنا گھر میں کوئی غیبی اشارہ ہو نہ اس ڈھب کی بھی ظلمت ہو کہ سب مل کر دعا مانگیں کوئی جگنو ہی آ نکلے نہ گر کوئی ستارہ ہو زیاں کی زد پہ دنیا میں کئی لوگ ...

مزید پڑھیے

کار مشکل ہی کیا دنیا میں گر میں نے کیا

کار مشکل ہی کیا دنیا میں گر میں نے کیا پر نہ اس بے رحم کے دل میں گزر میں نے کیا دل میں لیلائے تمنا پاؤں چھلنی تیز دھوپ کس قیامت کا سفر تھا جو سفر میں نے کیا تیرا اپنا راستہ تھا میرا اپنا راستہ اس پہ بھی اے زندگی تجھ کو بسر میں نے کیا مسکرا کر اس نے جب باہیں گلے میں ڈال دیں پھر جو ...

مزید پڑھیے

آگ کو پھول کہے جائیں خردمند اپنے

آگ کو پھول کہے جائیں خردمند اپنے اور آنکھوں پہ رکھیں دید کے در بند اپنے لاکھ چاہا کہ غم و فکر جہاں سے چھوٹیں جامۂ دل پہ یہ سجتے رہے پیوند اپنے شہر میں دھوم مچاتی رہی کیا تازہ ہوا ہم نے در وا نہ کیا ہم ہیں گلہ مند اپنے سطح قرطاس پہ اترے نہ تری گل بدنی کتنے عاجز ہوئے جاتے ہیں ہنر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 686 سے 5858