شاعری

میں نے صرف اپنے نشیمن کو سجایا سال بھر

میں نے صرف اپنے نشیمن کو سجایا سال بھر فصل گل بھی اس لیے آئی ہے اب کے ڈال بھر بد گمانی آئی تو لے جائے گی رشتے تمام دیکھنا نکلے گی ان شیشوں کی ہستی بال بھر وہ زمانہ ٹھیک تھا ایمان لانے کے لیے حیدر کرار بھر خیر اور شر دجال بھر آج میری عرض پر زلفیں اگر کھولے گا وہ کل حسد کی آگ میں جل ...

مزید پڑھیے

سرمئی راتوں سے چھنوا کر سحر کی رونقیں

سرمئی راتوں سے چھنوا کر سحر کی رونقیں نالۂ شام غریباں بیچتا پھرتا ہوں میں موج بربط موج گل موج صبا کے ساتھ ساتھ نکہت گیسوئے خوباں بیچتا پھرتا ہوں میں دیدنی ہے اب مرے چاک گریباں کا مآل کج کلاہوں کے گریباں بیچتا پھرتا ہوں میں شعلۂ تاریخ کی زد پر ہے تاج خسروی غرۂ تقدیر سلطاں ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کا

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کا دماغ سے نہیں ہوگا مقابلہ دل کا علاج تیرے تغافل نے کر دیا دل کا بہت دنوں سے دماغ آسماں پہ تھا دل کا تم انتظام کروگے بتاؤ کیا دل کا یہاں تو خود نہیں معلوم مدعا دل کا عجیب لوگ ہیں یہ دل کو کیا سمجھتے ہیں طبیب جسم میں ڈھونڈا کئے پتہ دل کا بس ایک طرز ...

مزید پڑھیے

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں سبھی چلتے ہوں جس پر ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہے ملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں کبھی سیراب کر جاتا ہے ہم کو ابر کا منظر کبھی ساون برس کر بھی پیاسا چھوڑ دیتے ہیں زمیں کے مسئلوں کا حل اگر یوں ہی ...

مزید پڑھیے

شدت انتظار کام آئی

شدت انتظار کام آئی ان کی تحریر میرے نام آئی دن میں ہم نے بھلا دیا تھا تجھے رات لینے کو انتقام آئی صبح مرکز بنی امیدوں کا شام مایوسیوں کے کام آئی دیکھتے دیکھتے ترا چہرہ خود بہ خود قدرت کلام آئی

مزید پڑھیے

چھوڑیئے باقی بھی کیا رکھا ہے ان کے قہر میں

چھوڑیئے باقی بھی کیا رکھا ہے ان کے قہر میں جان درویشوں کو پیاری ہے ہمارے شہر میں دیکھیے کیا حشر ہوتا ہے ہمارا دہر میں شہریاری کی تمنا اور تیرے شہر میں دیکھنے والے کو سارا ہی سمندر چاہئے سوچنے والا سمندر سوچ لے اک لہر میں دیکھیے تاثیر خالی زہر میں ہوتی نہیں زندگی سوکھی ملا کر ...

مزید پڑھیے

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے ترنگ آئی تو منظر ہی بدل دیں گے نظر والے اسی پر خوش ہیں کہ اک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ابھی تنہائی کا مطلب نہیں سمجھے ہیں گھر والے ستم کے وار ہیں تو کیا قلم کے دھار بھی تو ہیں گزارہ خوب کر لیتے ہیں عزت سے ہنر والے کوئی صورت نکلتی ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

میرا دل ہاتھوں میں لو تو کیا تمہارا جائے گا

میرا دل ہاتھوں میں لو تو کیا تمہارا جائے گا اور میرا ہی سمرقند و بخارا جائے گا تشنگی کا ایک اک پہلو ابھارا جائے گا وصل کی شب کو بھی فرقت میں گزارا جائے گا کل یہ منصوبہ بنایا ہم نے پی لینے کے بعد آسمانوں کو زمینوں پر اتارا جائے گا درد جائے گا تو کچھ کچھ جائے گا پر دیکھنا چین جب ...

مزید پڑھیے

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی اور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی اس نے مری کتاب کا دیباچہ پڑھ لیا اب تو کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکا تم بھی گئے اداس مری بات بھی گئی ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہوا عرفان ذات بھی نہ ہوا رات بھی گئی ملنے ...

مزید پڑھیے

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے

پہلے ہوا جو کرتے تھے ہم وہ نہیں رہے دیکھو شب فراق ہے اور رو نہیں رہے ایسی بھی رو رہے ہیں انہیں جو نہیں رہے پہلے سے معجزے تو کہیں ہو نہیں رہے یارو دکھاؤ پھر کوئی ایسا ہنر کہ بس غیروں کی کوئی فکر ہی ہم کو نہیں رہے اشعار سے عیاں ہیں تو اشعار مت پڑھو ہم دل کے داغ تم کو دکھا تو نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 683 سے 5858