شاعری

منہ سے جو ملائیے کسی کو

منہ سے جو ملائیے کسی کو کیوں داغ لگائیے کسی کو آئینۂ کج نما ہیں احباب صورت نہ دکھائیے کسی کو جو صورت زخم خون رو دے ایسا نہ ہنسائیے کسی کو کچھ خوب نہیں ہے عادت ظلم ہرگز نہ ستائیے کسی کو دیوار سے کوئی پھوڑے گا سر در سے نہ اٹھائیے کسی کو مشتاق ہے کوئی زیر دیوار آواز سنائیے کسی ...

مزید پڑھیے

راستے پر پیچ راہی رستگار (ردیف .. ے)

راستے پر پیچ راہی رستگار رہبروں کے نقش پا گم ہو گئے ضربت امواج تیرا شکریہ ناؤ ڈوبی نا خدا گم ہو گئے شیخ صاحب ہم رہ پیر مغاں مے کدے میں کیا ہوا گم ہو گئے خندۂ مہر درخشاں کی قسم اس سحر کے آشنا گم ہو گئے اب کہاں شعر و سخن کی رونقیں شاعر شعلہ نوا گم ہو گئے

مزید پڑھیے

اب جی رہا ہوں گردش دوراں کے ساتھ ساتھ (ردیف .. ن)

اب جی رہا ہوں گردش دوراں کے ساتھ ساتھ یہ ناگوار فرض ادا کر رہا ہوں میں اے رب ذو الجلال تری برتری کی خیر اب ظالموں کی مدح و ثنا کر رہا ہوں میں شورشؔ مری نوا سے خفا ہے فقیہ شہر لیکن جو کر رہا ہوں بجا کر رہا ہوں میں

مزید پڑھیے

اس کشاکش میں یہاں عمر رواں گزرے ہے

اس کشاکش میں یہاں عمر رواں گزرے ہے جیسے صحرا سے کوئی تشنہ دہاں گزرے ہے اس طرح تلخیٔ ایام سے بڑھتی ہے خراش جیسے دشنام عزیزوں پہ گراں گزرے ہے اس طرح دوست دغا دے کے چلے جاتے ہیں جیسے ہر نفع کے رستے سے زیاں گزرے ہے یوں بھی پہنچے ہیں کچھ افسانے حقیقت کے قریب جیسے کعبہ سے کوئی پیر ...

مزید پڑھیے

کھیل

یارب ترے بندوں سے قضا کھیل رہی ہے اک کھیل بعنوان دغا کھیل رہی ہے جس کھیل کو صرصر نے بھی کھیلا نہ چمن میں اس کھیل کو اب باد صبا کھیل رہی ہے الجھے ہوئے حالات کے تیور ہیں خطرناک بدلے ہوئے موسم کی ہوا کھیل رہی ہے رندان تہی دست سزاوار سبو ہیں! ٹوٹی ہوئی توبہ سے گھٹا کھیل رہی ہے لغزیدہ ...

مزید پڑھیے

معلوم نہیں کیوں

یوں گردش ایام ہے معلوم نہیں کیوں رندوں کا لہو عام ہے معلوم نہیں کیوں مفلس ہے تو اک جنس فرومایہ ہے لا ریب مخلص ہے تو ناکام ہے معلوم نہیں کیوں تہمت کے سزا وار فقیہان حرم ہیں ملا یہاں بد نام ہے معلوم نہیں کیوں اب خون کے دھبے ہیں مدیروں کی قبا پر خامہ دم صمصام ہے معلوم نہیں کیوں خون رگ ...

مزید پڑھیے

ذرا صبر!

اک نئے دور کی ترتیب کے ساماں ہوں گے دست جمہور میں شاہوں کے گریباں ہوں گے برق خود اپنی تجلی کی محافظ ہوگی! پھول خود اپنی لطافت کے گریباں ہوں گے نغمہ و شعر کا سیلاب امڈ آئے گا وقت کے سحر سے غنچے بھی غزل خواں ہوں گے ناؤ منجدھار سے بے خوف و خطر کھیلے گی ناخدا بربط طوفاں پہ رجز خواں ہوں ...

مزید پڑھیے

چلو یہ تو حادثہ ہو گیا کہ وہ سائبان نہیں رہا

چلو یہ تو حادثہ ہو گیا کہ وہ سائبان نہیں رہا ذرا یہ بھی سوچ لو ایک دن اگر آسمان نہیں رہا یہ بتا کہ کون سی جنگ میں میں لہولہان نہیں رہا مگر آج بھی ترے شہر میں کوئی مجھ کو مان نہیں رہا یہ نہیں کہ میری زمین پر کوئی آسمان نہیں رہا مگر آسمان کبھی مرے ترے درمیان نہیں رہا شب ہجر نے ہوس ...

مزید پڑھیے

دلوں میں فرق ہے تو گفتگو سے کچھ نہیں ہوگا

دلوں میں فرق ہے تو گفتگو سے کچھ نہیں ہوگا چل اٹھ تشنہ لبی جام و سبو سے کچھ نہیں ہوگا نہ پوری ہو سکی جو آرزو اب تک وہ کہتی ہے جو پوری ہو گئی اس آرزو سے کچھ نہیں ہوگا میاں جب اتنے سارے دوستوں سے کچھ نہیں بگڑا ہمیں معلوم ہے اب اک عدو سے کچھ نہیں ہوگا گریباں خارجیت اور وحشت داخلیت ...

مزید پڑھیے

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کو

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کو میں بھول گیا اس کو وہ بھول گیا مجھ کو اب ڈوب ہی جانے دے اتنا نہ گرا مجھ کو شرمندہ نہ کر ڈالے تنکے کی انا مجھ کو میں گمشدہ لوگوں کی فہرست میں دب جاتا وہ تو مرے دشمن نے پہچان لیا مجھ کو اس عہد میں کیا رکھا تھا جس پہ بسر ہوتی کیا ہوتا جو ورثے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 682 سے 5858