شاعری

پار اترنے کے لیے تو خیر بالکل چاہئے

پار اترنے کے لیے تو خیر بالکل چاہئے بیچ دریا ڈوبنا بھی ہو تو اک پل چاہئے فکر تو اپنی بہت ہے بس تغزل چاہئے نالۂ بلبل کو گویا خندۂ گل چاہئے شخصیت میں اپنی وہ پہلی سی گہرائی نہیں پھر تری جانب سے تھوڑا سا تغافل چاہئے جن کو قدرت ہے تخیل پر انہیں دکھتا نہیں جن کی آنکھیں ٹھیک ہیں ان ...

مزید پڑھیے

تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا

تکلف چھوڑ کر میرے برابر بیٹھ جائے گا تصور میں ابھی وہ پاس آ کر بیٹھ جائے گا در و دیوار پر اتنا پڑا ہے سارے دن پانی اگر کل دھوپ بھی نکلے گی تو گھر بیٹھ جائے گا اڑے گا خود تو لائے گا خبر سات آسمانوں کی اڑایا تو پرندہ چھت کے اوپر بیٹھ جائے گا نہ منزل کو پتا ہوگا نہ رستوں کو خبر ...

مزید پڑھیے

اب تیرے لیے ہیں نہ زمانے کے لیے ہیں

اب تیرے لیے ہیں نہ زمانے کے لیے ہیں ہم گوشۂ تنہائی سجانے کے لیے ہیں مطلب مری تحریر کا الفاظ سے مت پوچھ الفاظ تو مفہوم چھپانے کے لیے ہیں ہاں تیرے تغافل سے پریشان ہیں ہم بھی یہ طنز کے تیور تو دکھانے کے لیے ہیں تم سامنے ہو پھر بھی چلے آئے زباں پر وہ گیت جو تنہائی میں گانے کے لیے ...

مزید پڑھیے

گرچہ بادل پانی برساتا ہوا گھر گھر پھرا

گرچہ بادل پانی برساتا ہوا گھر گھر پھرا پھر بھی بارش کی دعا کرتا رہا اک سر پھرا ایک امی کو ملی اپنے ہی دل میں کائنات اور میں عالم تلاش ذات میں در در پھرا ہم زمانے سے پھرے یہ تو بجا ہے صاحبو اس کو تو لاؤ جو ہم سے آشنا ہو کر پھرا اس کی خوش فہمی نے کل بس مار ہی ڈالا ہمیں تجھ کو دیکھا ...

مزید پڑھیے

ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے

ادھر تو دار پر رکھا ہوا ہے ادھر پیروں میں سر رکھا ہوا ہے کم از کم اس سراب آرزو نے مری آنکھوں کو تر رکھا ہوا ہے سمجھتے کیا ہو ہم کو شہر والو بیاباں میں بھی گھر رکھا ہوا ہے ہم اچھا مال تو بالکل نہیں ہیں ہمیں کیوں باندھ کر رکھا ہوا ہے مرے حالات کو بس یوں سمجھ لو پرندے پر شجر رکھا ...

مزید پڑھیے

لوگوں نے ہم کو شہر کا قاضی بنا دیا

لوگوں نے ہم کو شہر کا قاضی بنا دیا اس حادثے نے ہم کو نمازی بنا دیا تم کو کہا جو چاند تو تم دور ہو گئے تشبیہ کو بھی تم نے مجازی بنا دیا ایک اور دن کی شام کسی طرح ہو گئی کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا بغض معاویہ میں سبھی ایک ہو گئے اس اتحاد نے مجھے نازی بنا دیا خالی علامتوں سے ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے

چہرے پہ تھوڑی رکھی ہے دل میں بیتابی رکھی ہے اک دو دن سے جینے والو ہم نے کافی جی رکھی ہے دل کے شجر نے کس محنت سے اک اک شاخ ہری رکھی ہے وصل ہوا پر دل میں تمنا جیسی تھی ویسی رکھی ہے غیر کی کیا رکھے گا یہ درباں ظالم نے کس کی رکھی ہے ہوس میں کچھ بھی کر سکتے ہو عشق میں پابندی رکھی ...

مزید پڑھیے

دوسری باتوں میں ہم کو ہو گیا گھاٹا بہت

دوسری باتوں میں ہم کو ہو گیا گھاٹا بہت ورنہ فکر شعر کو دو وقت کا آٹا بہت کائنات اور ذات میں کچھ چل رہی ہے آج کل جب سے اندر شور ہے باہر ہے سناٹا بہت آرزو کا شور برپا ہجر کی راتوں میں تھا وصل کی شب تو ہوا جاتا ہے سناٹا بہت ہم سے تو اک شعر سن کر فلسفی چپ ہو گیا لیکن اس نے بے زباں نقاد ...

مزید پڑھیے

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے

یہاں وہاں کی بلندی میں شان تھوڑی ہے پہاڑ کچھ بھی سہی آسمان تھوڑی ہے مرے وجود سے کم تیری جان تھوڑی ہے فساد تیرے مرے درمیان تھوڑی ہے ملے بنا کوئی رت ہم سے جا نہیں سکتی ہمارے سر پہ کوئی سائبان تھوڑی ہے یہ واقعہ ہے کہ دشمن سے مل گئے ہیں دوست مرا بیان برائے بیان تھوڑی ہے کرم ہے مجھ ...

مزید پڑھیے

جو تم سے پہلے آئے تھے ان کی کارستانی دیکھو

جو تم سے پہلے آئے تھے ان کی کارستانی دیکھو گاؤں سے نکلے ہو تو اب شہروں کی ویرانی دیکھو سوتے میں مرنے کا موقع مل جاتا ہے سب لوگوں کو پھر بھی زندہ اٹھ جاتے ہیں لوگوں کی نادانی دیکھو روکو گے تو پھٹ جاؤں گا یارو تم بس اتنا کرنا کچھ مت کہنا مجھ سے جب میری آنکھوں میں پانی دیکھو ساتوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 684 سے 5858