بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں
بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں زندگی روٹھ گئی لوٹ کے پھر آئی نہیں جو سمجھنا ہی نہ چاہے اسے سمجھائی نہیں جو بھی اک بار کہی بات وہ دہرائی نہیں حسن سادہ ہے ترا میں بھی بہت عام سی ہوں میری آنکھوں میں کسی نیل کی گہرائی نہیں میرا حصہ مجھے خاموشی سے دے دیتا ہے درد کے آگے ہتھیلی ...