شاعری

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں زندگی روٹھ گئی لوٹ کے پھر آئی نہیں جو سمجھنا ہی نہ چاہے اسے سمجھائی نہیں جو بھی اک بار کہی بات وہ دہرائی نہیں حسن سادہ ہے ترا میں بھی بہت عام سی ہوں میری آنکھوں میں کسی نیل کی گہرائی نہیں میرا حصہ مجھے خاموشی سے دے دیتا ہے درد کے آگے ہتھیلی ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی تیری دہلیز کی مٹی تھی اٹھا کے رکھ لی تجھ کو تکتے ہی رہے رات بہت دیر تلک چاند کے طاق میں تصویر سجا کے رکھ لی دل سی نوخیز کلی تیری محبت کے لیے سینچ کے جذبوں سے پہلو میں کھلا کے رکھ لی اس نئے سال کے سواگت کے لیے پہلے سے ہم نے پوشاک اداسی کی سلا ...

مزید پڑھیے

چناؤ

چار برس کے میلے کچلے دبلے پتلے لڑکے میں تھی غضب کی پھرتی چوراہے پر ایک طرف کی ہری لائٹ سے دوسری سمت کی لال لائٹ تک بجلی کی تیزی سے وہ آتا جاتا تھا جو مل جائے اس کے آگے پھیلاتا تھا اپنی ہتھیلی جس میں خوشحالی اور لمبے جیون کی ریکھائیں تھیں چوراہے تک ہی محدود تھی اس کی دنیا جس کو اس ...

مزید پڑھیے

کب کرو گے ہمارا استقبال

وقت کا ایسا یہ جزیرہ ہے جہاں دن اور رات کچھ بھی نہیں ذہن و دل اب ہیں ایسے عالم میں ہوش و بے ہوشی میں نہیں کچھ فرق اجنبیت ہے ایک خلا ہے یہ یہاں خود کا پتا نہیں ملتا پھر بھی کچھ تو سنائی دیتا ہے چند آوازیں اور ایک دستک ہر صدا کا کچھ ایسا لہجہ ہے جیسے دہشت ہو درد ہو موجود جیسے عصمت کو ...

مزید پڑھیے

ایسی شدید روشنی میں جل مروں گا میں

ایسی شدید روشنی میں جل مروں گا میں اتنے حسین شخص کو کیسے سہوں گا میں مجھ سے مرا وجود تو ثابت نہیں ہوا تو آنکھ بھر کے دیکھ لے ہونے لگوں گا میں میں میکدے سے دور ہوں پر دائرے میں ہوں زندہ رہا تو تیرے گلے آ لگوں گا میں میں وہ عجیب شخص ہوں کہ چند روز تک پاگل نہ کر سکا تو اسے مار دوں گا ...

مزید پڑھیے

واہمہ

رات جاگی تو کہیں صحن میں سوکھے پتے چرمرائے کہ کوئی آیا کوئی آیا ہے اور ہم شوق کے مارے ہوئے دوڑے آئے گو کہ معلوم ہے تو ہے نہ ترا سایہ ہے ہم کہ دیکھیں کبھی دالان کبھی سوکھا چمن اس پہ دھیمی سی تمنا کہ پکارے جائیں پھر سے اک بار تری خواب سی آنکھیں دیکھیں پھر ترے ہجر کے ہاتھوں ہی بھلے ...

مزید پڑھیے

سانولی

کتنے الفاظ ہیں جو مری انگلیوں کے ہر اک پور میں اک سمندر کی مانند بند ہیں سمندر بہت ہی غصیلا سمندر سمندر وہ جو منتظر ہے کہ کب تیرے ہونٹوں کے دونوں سرے مسکراہٹ کی کوشش میں کھچنے لگیں اور رخسار میں پیچ و خم ڈال دیں ایک شاعر جو آنکھیں مسلنے لگے تو ہنسے اور سمندر ابلنے لگے

مزید پڑھیے

ہوس

کچھ بوندوں نے مل کر میری ہتھیلی پر چھوٹی سی ایک جھیل بنائی جس میں پورے چاند کا عکس اتر آیا وحشی من نے اکسایا چاند کو میں نے قید کر لیا مٹھی میں سارا پانی پھسل گیا چاند میرے قبضے سے نکل گیا

مزید پڑھیے

مجھ کو آج نہ سونے دینا

در مت کھولو نیند کو اندر مت آنے دو ورنہ اس کی انگلیاں چھیڑیں گی اس البم کے صفحے جس میں تصویریں ہیں کل کے کچھ آسیبوں کی ذکر چھڑے گا ان اوقات کا دفن ہیں جن میں سب میری ناکام امیدیں میری بے جا کاوش میرے سلگتے ارماں پھر بھڑکے گی آگ پھر جھلسے گا آج کا دامن پھر فردا سے ناطہ توڑنے والی ...

مزید پڑھیے

سیلن

ہم نے اپنے ساتھ کی آخری شب بوڑھے پیڑ کی جھینی چھتری کے نیچے چاند کی بھیگی بھیگی کرنوں کے ساتھ بتائی تھی میں نے اپنے اشکوں کا رخ موڑ دیا تھا تم نے پلکوں سے دو موتی میرے کندھے پر ٹانک دئے تھے اور ماتھے پر کبھی نہ مٹنے والی مہر لگائی تھی ایک گیلے بوسے کی اگلی شب اس پیڑ کے نیچے میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 658 سے 5858