شاعری

تعلق کی ناجائز تجاوزات

بہت غور و خوض کے بعد بالآخر تلاش ختم کر دی گئی اس مکان کی چوبی سیڑھیوں کے نصف دائرے پر جو ہماری سمت کا آخری حصہ بتایا گیا ہے اور قلعی کر دی گئی ان تمام دیوار گیر اندازوں پر جو ہمیں توڑ مروڑ کر لکھتے تھے الگ کئے ہوئے پاؤں جو کسی اجنبی راستے کا حصہ نہیں بنے چمڑے کے جوتوں میں سینت کر ...

مزید پڑھیے

سفر کی دھوپ نے چہرہ اجال رکھا تھا

سفر کی دھوپ نے چہرہ اجال رکھا تھا وہ مر گیا تو سرہانے وصال رکھا تھا حسین چہرے کشیدہ کیے تھے مٹی سے بلا کا خاک میں حسن و جمال رکھا تھا وہ حاشیوں میں ترے سرمگیں محبت تھی کہ آئنوں میں کوئی عکس ڈال رکھا تھا فلک کی سانس اکھڑنے لگی تو راز کھلا کہ آسماں کو زمیں نے سنبھال رکھا تھا ترا ...

مزید پڑھیے

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی پر تری بات ہواؤں سے بگڑ جائے گی خشک پیڑوں کی طرح زرد محبت ہے مری اس پہ سبزہ نہیں آیا تو یہ جھڑ جائے گی میں کہ مٹی کی عمارت ہوں کسی روز یوں ہی دل یہ ڈھ جائے گا ہر اینٹ اکھڑ جائے گی اتنا برفاب خموشی کا جزیرہ ہے یہاں چار دن ٹھہروں تو آواز اکڑ جائے ...

مزید پڑھیے

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے اک شاعر کے کمرے جیسی ہم نے عمر گزاری ہے ایک سلاخوں والی کھڑکی جھانک رہی ہے آنگن میں دیواروں پر اوپر نیچے خوابوں کی گلکاری ہے منظر منظر بھیگ رہا ہے شہر کی خالی سڑکوں پر پکی نہر پہ گاؤں کے گھوڑے کی ٹاپ سواری ہے پیاس بجھانے آتے ہیں دکھ درد ...

مزید پڑھیے

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے وقت گزرا جا رہا ہے دھوپ چھت سے ٹل رہی ہے اک لباس فاخرہ ہے سرخ غرقابی محل ہے کچھ پرانی ہو گئی ہے پر کہانی چل رہی ہے اک ستارہ ساز آنکھوں کے کنارے بس رہا ہے اک محبت نام کی لڑکی بدن میں پل رہی ہے پاس تھا کھویا نہیں ہے جو نہ تھا اب بھی نہیں ...

مزید پڑھیے

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے تیرے بغیر زندگی کرنا حرام ہے کرنے ہیں تیرے جسم پہ اک بار دستخط تاکہ خدا سے کہہ سکوں تو میرے نام ہے ہوتا ہے گفتگو میں بہت بار تذکرہ یعنی ہوا چراغ کا تکیہ کلام ہے پہلے پہل ملی تھی ہمیں شدتوں کی دھوپ اب یوں ہے رابطے کی سرائے میں شام ہے آخر میں بس نشاں ...

مزید پڑھیے

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں اندھیری رات میں تنہا میں اب کدھر جاؤں مجھے بگاڑ دیا ہے مرے ہی لوگوں نے کوئی خلوص سے چاہے تو میں سنور جاؤں مری جدائی میں گزری ہے زندگی کیسی یہ جی میں آئی ہے اس بار پوچھ کر جاؤں بتا تو کفر کا فتویٰ لگائے گا مجھ پر خدا میں مانوں تجھے اور پھر مکر ...

مزید پڑھیے

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے پھر خالی ہاتھ دہر سے جانا پڑا مجھے سب لوگ تیرے شہر کے ماضی پرست تھے مشکل سے حال میں انہیں لانا پڑا مجھے پہلے بنائے آنکھ میں خوابوں کے مقبرے پھر حسرتوں کو دل میں دبانا پڑا مجھے مجھ کو تو خیر خانہ بدوشی ہی راس تھی تیرے لیے مکان بنانا پڑا مجھے کچھ ...

مزید پڑھیے

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے تیرے بغیر تو مری دنیا اداس ہے پھیلا ہوا ہے رات کی آنکھوں میں سوز ہجر مہتاب رت میں چاند کا چہرہ اداس ہے لو پھر سے آ گیا ہے جدائی کا مرحلہ آنکھیں ہیں نم مری ترا لہجہ اداس ہے بارش بہا کے لے گئی تنکوں کا آشیاں بھیگے شجر کی شاخ پہ چڑیا اداس ہے شہزادہ سو ...

مزید پڑھیے

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا یادوں کے قافلے سے دسمبر کہاں گیا کٹیا میں رہ رہا تھا کئی سال سے جو شخص تھا عشق نام جس کا قلندر کہاں گیا طوفان تھم گیا تھا ذرا دیر میں مگر اب سوچتی ہوں دل سے گزر کر کہاں گیا تیری گلی کی مجھ کو نشانی تھی یاد پر دیوار تو وہیں ہے ترا در کہاں گیا چائے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 657 سے 5858