شاعری

میرے اندر

کائنات کے انتظام میں اک چھوٹا سا ذرہ ہوں میں لیکن اتنا جان گیا ہوں میرے اندر اک صحرا ہے جو صدیوں سے پیاسا ہے میں وہ امرت ڈھونڈھ رہا ہوں جس سے اس کی پیاس بجھے میرے اندر ہے اک ساگر کتنا گہرا کوئی نہ جانے غوطہ خور کے روپ میں اکثر کوشش کی ہے اس کی تہہ تک پہنچ سکوں بے شک بڑے نظام ...

مزید پڑھیے

میں کسی کونے میں

میں کسی کونے میں خائف سا کھڑا ہوں اور چھپ کر دیکھتا ہوں ان گنت سایوں کی بھیڑ افراتفری میں ہر اک سو اور کرتا ہوں تصور قید ہیں سینے میں اک اک سائے کے بس مشینی دھڑکنیں ذہن ہیں بیمار ان کے قرض ہے احسان ہے ہر سانس ان کی کھوکھلی ان کی نگاہیں دیکھتی ہیں پر بنا بینائی کے مردہ ہیں احساس ان ...

مزید پڑھیے

رتجگے

اپنی اپنی فکر اپنے اپنے ڈر اپنے اپنے درد لیے تم اور میں ادھ سوئے سے ادھ جاگے سے کب سے کروٹ بدل رہے ہیں میں کیوں جاگ رہا ہوں مجھ کو پتا نہیں لیکن سوچ رہا ہوں تم کیوں جاگ رہی ہو میرے جاگے رہنے کی تم چنتا چھوڑو سو جاؤ

مزید پڑھیے

ڈور

بادل برکھا ندیاں ساگر ساگر بادل برکھا ندیاں ایک ڈور کا حصہ ہیں فردا کے سانچے میں کل اور آج یوں ہی ڈھل جاتے ہیں کل اور آج اور کل آپس میں جدا نہیں ہو پاتے ہیں گزرے لمحے ختم نہیں ہو جاتے ہیں میرا نظارہ میری نظر میرے حوالے میرے تیور میرا تلفظ میری زبان میری جہالت میرا گیان میرے تخیل ...

مزید پڑھیے

ہم نہ سہی

ہم نہ سہی تم نہ سہی مگر اب بھی کوئی لڑکا کسی لڑکی کے گھر کے سامنے چلچلاتی دھوپ میں کھڑا ہوگا کسی بہانے تم نہ سہی میں نہ سہی مگر اب بھی کوئی لڑکی گھر کی کھڑکی تک آنے میں جھجکتی ہوگی کہ اس پاگل لڑکے کی حوصلہ افزائی نہ ہو جائے میں نہ سہی تم نہ سہی مگر وہ لڑکا اب بھی مس کرتا ہوگا وہ ...

مزید پڑھیے

مجھے معلوم ہے

مجھے معلوم ہے میری تمام ان سنی دستکوں بنا پڑھی چٹھیوں مایوس درخواستوں کے عوض ایک لمبی خاموشی کے بعد وہ کھٹکھٹائے گا میرا در اور میں گھر پر نہیں ملوں گا

مزید پڑھیے

دھند

وہم کے اس جنگل سے باہر جانے کو کبھی کبھی ایک راہ نظر تو آتی ہے بڑھتا بھی ہوں اس جانب تھوڑا سا مگر شک کی دھند سے عینک کے شیشے دھندلے ہو جاتے ہیں سب رستے کھو جاتے ہیں

مزید پڑھیے

اندر دھنش بن جائیں

سمے ہے ایک سمندر جگ صدیاں اور سال موسم ماہ اور ہفتے رات اور دن شام و سحر بحر وقت کے قطرے ہیں سب اس ساگر کے کوئی نہیں ہیں کنارے کوئی سفینہ پار نہیں کر پایا اس کو ایک بلبلے کی گودی میں تم میں ہم سب بہتے ہیں اس سے قبل کہ ہم بھی یہیں پر غرق یوں ہی ہو جائیں کیوں نہ ہوا کے پنکھ لگا کر اڑ ...

مزید پڑھیے

سنہرا ہی سنہرا وعدۂ فردا رہا ہوگا

سنہرا ہی سنہرا وعدۂ فردا رہا ہوگا قیاس آرائی کا بے ساختہ لمحہ رہا ہوگا سمندر میں چنے موتی نہ تاروں کا جہاں دیکھا ضرور اسکول میں تخئیل پر پہرہ رہا ہوگا کہا تھا جس نے تم سے ہاں میں تم سے پیار کرتا ہوں مرے اندر چھپا اک بے دھڑک لڑکا رہا ہوگا میں اب بھی ڈرتے ڈرتے اپنے حق کی بات کرتا ...

مزید پڑھیے

میں جدائی کا مقرر سلسلہ ہو جاؤں گا

میں جدائی کا مقرر سلسلہ ہو جاؤں گا وہ بھی دن آئے گا جب خود سے جدا ہو جاؤں گا خط لکھو یا فون کے ذریعہ پتہ لیتے رہو ورنہ میں تھوڑے دنوں میں لاپتہ ہو جاؤں گا جاؤں گا میں آئنے کے اس طرف سے اس طرف اور پھر میں میں نہ رہ کر دوسرا ہو جاؤں گا عمر تو بڑھتی رہی اور میں سکڑتا ہی رہا میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 659 سے 5858