شاعری

مہینے کے اخیر دنوں میں

گھر میں داخل ہوتے ہی ہم خود کو آوازیں دینے لگتے ہیں اور کپڑوں سے بھرا شاپنگ بیگ پھینک دیتے ہیں بیڈ کے نیچے رکھتے ہیں اپنے جوتے صوفے پر اور الماری کے دراز سے کچے امردو نکال کر بیڈ شیٹ سے رگڑتے ہیں اور کترنے لگتے ہیں چار دن پرانے بسکٹ جب بھی نظر پڑتی ہے آئنے پہ خود کو گالیاں دیتے ...

مزید پڑھیے

وبا کے دنوں میں موت کی ریہرسل

تنہائی کے جوتے پہنے ہم سیکنڈ ہینڈ قبروں میں رہ رہے ہیں ہمیں اکیلے پن کی مشینوں میں ڈال کر سکھایا جا رہا ہے کہ موت سے جنگ ہو جائے تو کمر پر گولی کھا کر میدان سے بھاگنا نہیں ہے ہمارے سینے پرچم کی طرح لہرا رہے ہیں برسات کا موسم نہیں مگر موت پوری شدتوں کے ساتھ تمام شہروں پر برس رہی ...

مزید پڑھیے

ڈیتھ سرٹیفیکٹ پر لکھی ایک نظم

میں اس آدمی کی زبان کاٹ دینا چاہتی ہوں جس نے پہلی بار پاؤں چاٹنے کی روایت قائم کی میں اس لڑکی کے ہاتھ قلم کرنا چاہتی ہوں جس نے پہلی بار ایک مرد کے پیروں کو چھوا اس ماں کو سنگسار کرنا چاہتی ہوں جس نے بیٹی کے خواب پھاڑ کر بیٹے کی کتابوں پر کور چڑھائے اور بیٹی کو بدبو دار شوہر دیتے ...

مزید پڑھیے

نقشہ بدل چکا ہے

حادثاتی موت کے بعد تمام چیخیں سہی سلامت کاغذ پہ اتار لی گئی ہیں اور چہرے مسخ کر دئیے گئے ہیں لاشوں کے لوگ اپنے اپنے لہو کی زندہ تصویریں مردہ ہاتھوں میں لئے دیواروں کو گھورتے ہیں اور گھورتے ہی چلے جاتے ہیں

مزید پڑھیے

با عزت طریقے سے جینے کے جتن

گذشتہ آل پارٹیز کانفرنس میں طے ہوا تھا کہ شہر بھر کی تاریکی آنکھ کے بوسیدہ پیالوں میں انڈیل کر صبح، دوپہر، شام باقاعدگی سے استعمال کی جائے تو اندھیروں میں جوتیاں ٹٹولنا سہل ہو جائے گا کون ننگے پاؤں محل کی طرف جائے کہ راستے میں اچکوں کے خوف سے کانچ کی زمین بچھا دی گئی ہے ہمارے ...

مزید پڑھیے

ایل او وی ای

پاگل لڑکی دیواروں کو گالیاں دیتی ہے اور تھوک دیتی ہے آئنے پر ہوا کی طرف پھینکتی ہے اپنے گلابی جوتے اور بند ہونے والی آنکھوں پر پھیر دیتی ہے نیل پالش پور پہ سیفٹی پن لگاتی ہے اور سرخ لپ اسٹک سے ملا کر دیکھتی ہے باریک سی دھار کی خونی رنگت تمہارا ذہنی توازن بگڑ چکا ہے؟ تم انگلیوں ...

مزید پڑھیے

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں یعنی تقدیر ستارے سے اٹھا سکتی ہوں اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوں تجھے کیا لگتا تھا خود کو بس تیرے سہارے سے اٹھا سکتی ہوں آنکھیں مشتاق ہزاروں ہیں مگر سوچ کے رکھ تیری تصویر نظارے سے اٹھا سکتی ہوں راکھ ہو جائے محبت کی حویلی پل میں اک تباہی میں شرارے سے ...

مزید پڑھیے

جلتا چراغ رات کی چوکھٹ پہ چھوڑ کر

جلتا چراغ رات کی چوکھٹ پہ چھوڑ کر ہم آسمان سے لائے ہیں اک صبح توڑ کر جانے مری کتاب سے کیسے نکل گئے رکھے تھے اس کی یاد کے صفحات موڑ کر شاید ہمارے وصل کی صورت نکل پڑے دیکھیں گے آج ہاتھ کی سطروں کو جوڑ کر گم ہو گئے ہیں سرمگیں الماریوں کے خواب آیا تھا کوئی رات کے تالوں کو توڑ کر اک ...

مزید پڑھیے

خدا قہقہہ لگاتا ہے

غزوۂ خندق کا سفر زبان کی خندق تک آ پہنچا لیکن سازشیں ہتھیائی نہیں جا سکیں ابلیس کی معیت میں نماز حاجات ادا کرنے والے ہتھیلیوں میں جنت بھر کے کہتے ہیں خدایا یہ دودھ اور شہد کی نہریں کس کے لئے بچا رکھی ہیں تیری زمین پہ تو اب کچرے کے ڈھیر سے رزق نہیں انسانی کھلونے ملتے ہیں ظالموں ...

مزید پڑھیے

خودکشی کرنے کا اگلا منصوبہ

طے ہوئی تھی ایک ملاقات ریلوے ٹریک پر لیکن ریل گاڑی کا انجن مسلسل کھانستا رہا پلیٹ فارم نمبر آخری پر اور پھنس گئے مسافر ایک دوسرے کی گالیوں میں سو یک طرفہ رہی ملاقات کھڑکی سے باہر پکار رہا تھا آسمان مگر چٹخنی اور فریم نے جکڑ لیا ایک دوسرے کا ہاتھ اور حبس بڑھتا گیا لوگوں کی آمد و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 656 سے 5858