شاعری

نا خلف مزاج کی مصدقہ تسلیمات

میرے بدن کی چار دیواری کے لئے کھنکتی ہوئی مٹی کم تھی اس لئے خدا نے آنکھوں میں کانچ بھر دیا اور جہنم کے لپکتے ہوئے شعلوں کی جلن لہو میں رکھ دی میرے ہاتھوں میں لق و دق صحراؤں کی رتیلی وحشت چبائے ہوئے عکس کی لکیریں بناتی رہتی ہے اور ذہن کے رستے ہوئے پتیلے میں دن بھر برداشت کا لاوا ...

مزید پڑھیے

سڑک چھاپ

پولیو کے قطرے پینے سے بھکاریوں کی بندر بانٹ میں کیسے کمی آ سکتی ہے؟ جبکہ گداگروں کے روحانی پیشوا اشتہار دیتے ہیں کہ انہیں بغیر ہاتھ پاؤں والے لوگوں کی اشد ضرورت ہے اور مجھے ہنسی آتی ہے ان مر جانے والوں پر جو ویکسینوں میں بھر دیے گئے

مزید پڑھیے

کئی طرح کے لباس و حجاب رکھوں گا

کئی طرح کے لباس و حجاب رکھوں گا ادھڑ رہا ہے یہ جیون نقاب رکھوں گا کوئی کتاب تھما کر غریب بچوں کو نئے درختوں کے کچھ انقلاب رکھوں گا کبھی غرور نہ آئے کسی طرح مجھ میں کہ رحمتوں کا میں اس کی حساب رکھوں گا مجھے سوال گڑت کے سمجھ نہیں آتے ترے فریب کے کیسے حساب رکھوں گا بچھڑ کے شاخ سے ...

مزید پڑھیے

کوئی غزل ہو یہ لہجہ نہیں بدلتے ہم

کوئی غزل ہو یہ لہجہ نہیں بدلتے ہم کہ سچ ہو کتنا بھی کڑوا نہیں بدلتے ہم کسی گلی سے یہ رشتہ نہیں بدلتے ہم تمہارے بعد بھی رستہ نہیں بدلتے ہم کھلی کتاب کے جیسی ہے زندگی اپنی کسی کے سامنے چہرہ نہیں بدلتے ہم لہولہان ہوں نظریں یا روح ہو زخمی ہماری آنکھوں کا سپنا نہیں بدلتے ہم تمام ...

مزید پڑھیے

بہت خوددار ہے گھٹنوں کے بل چل کر نہیں آتا

بہت خوددار ہے گھٹنوں کے بل چل کر نہیں آتا وہ لکھتا ہے بہت اچھا مگر چھپ کر نہیں آتا محبت خلوت دل میں اتر جاتی ہے چپکے سے یہ ایسا ہے مرض یارو کبھی کہہ کر نہیں آتا رضا اس کی بہاتی ہے تو پتوں کو کنارہ ہے مگر خود تیرتا ہے آدمی بہہ کر نہیں آتا جو اس کے دل میں آتا ہے وہی کہتا ہے محفل ...

مزید پڑھیے

جہنم سے پہلے جہنم

گندم کی وہ بوریاں جو ہمارے حصے میں آئیں ان میں کہانیاں نہیں مرے ہوئے کردار بھرے ہوئے تھے ہم بہت مدت تک تلاشتے رہے اپنا جلایا گیا بدن مگر کوئی نقش مماثل نہیں تھا ہمارے خال و خد سے یا شاید ہمارا نقشہ پگھل چکا تھا جو بدن خود بہ خود نہیں جلتے بلکہ جھونک دئے جاتے ہیں آگ کی بل کھائی ...

مزید پڑھیے

مردہ لوگوں کی تصویری نمائش

جب مسجدوں اور امام بارگاہوں میں نقب لگائی جاتی تھی تو کئی بے رنگ دائرے سوالیہ نشان لئے ہمارے راستے میں آ کھڑے ہوتے کہ کلیساؤں اور مندروں کا نظام کون سے خدا کے پاس ہے جو امن کی فاختاؤں کو عبادت گاہ کے روشن دانوں میں بھیج دیتا ہے اسی سوال میں جوابی رنگ بھرنے کے لئے ہم نے لہو کو ...

مزید پڑھیے

صبر آزما

ہم کہاں کے ایوب تھے؟ جو رزق کی تلاش میں نکلے حشرات کو ہمارے بدن کا پتا دے دیا گیا ہمیں اپنے آپ کا بوجھ گوارہ نہیں کسی کی گزر اوقات کا انحصار ہم پہ کیوں ہو؟

مزید پڑھیے

جنم کدے میں ناجائز آنکھیں

میں ٹیڑھی پسلی کا گستاخ جنم ہوں جس کے حلقوں میں بد تہذیب چیخوں کا ہجوم بغیر اطلاع دئیے نقارۂ بے‌‌ اماں کا راگ الاپتا ہے پھونکتا ہے آنکھ آنکھ میں دھواں ادھ جلے تعلقات کا مجھے پتھریلے احساس کے پنگھوڑوں میں کھلایا گیا سکھائی گئی بے ترتیب زندگی کی بندر بانٹ قلاش لوگوں کے ...

مزید پڑھیے

ناکام مذاکرات

لوگ ربر بینڈ کی طرح ہاتھوں پہ چڑھائے جا سکتے ہیں پہنے جا سکتے ہیں پیروں میں کاغذ چھوٹی چھوٹی گولیوں میں تبدیل کئے جا سکتے ہیں جنہیں جب چاہو دیوار پہ دے مارو ان کو کوڑے‌ دان میں پھینکا جا سکتا ہے جالے اور وحشت اتاری جا سکتی ہے کمروں کی اتنی بھیانک اور نوکیلی ہیں ان کی آوازیں جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 655 سے 5858